کیا علم دین کی فضیلت والا واقعہ حدیث ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
علم کی فضیلت سے متعلق ایک واقعہ کی تحقیق کہ حدیث ہے یا نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
یہ حدیث پاک ہے جو کہ علم دین کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ اگرچہ یہ روایت کتبِ حدیث میں نہیں مل سکی، تاہم اسے مشہور مفسر حضرت سیدنا امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 606ھ) نے اپنی تفسیر ’’التفسیر الکبیر‘‘میں ذکر کیا ہے، البتہ اس روایت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے حبیبِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وحی فرمانے کا بیان ہے۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام کے موت کی خبر دینے کا کوئی ذکر نہیں۔
حدیث پاک کے الفاظ یہ ہیں: ’’أنه عليه الصلاة والسلام كان يحدث إنسانا فأوحى اللہ إليه إنه لم يبق من عمر هذا الرجل الذي تحدثه إلا ساعة، و كان هذا وقت العصر، فأخبره الرسول بذلك فاضطرب الرجل و قال: يا رسول اللہ دلني على أوفق عمل لي في هذه الساعة، قال اشتغل بالتعلم فاشتغل بالتعلم، و قبض قبل المغرب‘‘ قال الراوي: فلو كان شيء أفضل من العلم، لأمره النبي صلى اللہ عليه و سلم به في ذلك الوقت «كد»‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک شخص سے گفتگو فرما رہے تھے کہ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ جس شخص سے آپ بات کر رہے ہیں، اس کی عمر میں اب صرف ایک گھڑی باقی رہ گئی ہے، اور یہ عصر کا وقت تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے اس کی اطلاع دی۔ وہ شخص گھبرا گیا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ! اس ایک گھڑی میں میرے لیے سب سے زیادہ نفع بخش عمل بتا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: علم حاصل کرنے میں مشغول ہوجاؤ۔ چنانچہ وہ علم حاصل کرنے میں لگ گیا، اور مغرب سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں: اگر علم سے بڑھ کر کوئی اور عمل افضل ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت اسی عمل کا حکم دیتے۔ (تفسیر کبیر، جلد 1، الجزء الثانی، صفحہ 410، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
امام حسن بن محمد نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ متوفى850ھ نے بھی’’ تفسیر نیشاپوری‘‘ میں اسے ذکر کیا ہے۔ (تفسیر نیشاپوری (غرائب القرآن و رغائب الفرقان) جلد 1، صفحہ 226، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ جب یہ روایت کتبِ حدیث میں سند کے ساتھ موجود نہیں، بلکہ تفسیرِ کبیر میں بھی بغیر سند کے ذکر کی گئی ہے،تو اس پر کیسے اعتماد کیا جائے گا؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت علم کی فضیلت سے متعلق ہے، اور فضائلِ اعمال کے باب میں اگر کوئی ایسی روایت ملے جو معروف کتبِ حدیث میں سند کے ساتھ موجود نہ ہو، لیکن کسی جلیل القدر فقیہ، محدث یا مفسر نے اسے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہو، اگرچہ بغیر سند کے، تو ایسے معتبر اہلِ علم کا اس روایت کو ذکر کرنا ہی اس کے قابلِ اعتماد ہونے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”علمائے کرام تو ایسی جگہ(فضائل اعمال کے باب میں) صرف کلماتِ بعض علما میں(حدیث کا) بلاسند مذکور ہونا ہی سند کافی سمجھتے ہیں، اگرچہ طبقہ رابعہ وغیرہاکسی طبقہ حدیث میں اُس کا نام نہ نشان نہ ہو، حضور اقدس سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال اقدس کے بعد امیرالمومنین عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضور والا کوندا کر کے ’’بابی انت و امی یارسول اللہ‘‘ میرے ماں باپ حضور پر قربان یارسول اللہ کہہ کر حضور کے فضائلِ جلیلہ وشمائل جمیلہ عرض کرنا۔ یہ حدیث امام ابومحمد عبداللہ بن علی لخمی اندلسی رشاطی نے کہ پانچویں صدی کے علماء سے تھے ۴۶۶ھ میں انتقال کیا، (انہوں نے)اپنی کتاب ’’اقتباس الانوار والتماس الازہار‘‘ اور ابو عبد اللہ محمدمحمد ابن الحاج عبدری مکی مالکی نے کہ آٹھویں صدی کے فضلا سے تھے ۷۳۷ھ میں وصال ہوا اپنی کتاب ’’مدخل‘‘ میں ذکر کی، دونوں نے محض بلاسند۔ ائمہ کرام وعلمائے اعلام نے اس سے زائد اس کا پتا نہ پایا، کُتبِ حدیث میں اصلا نشان نہ ملا مگر ازانجا کہ مقام مقامِ فضائل تھا اسی قدر کو کافی سمجھا۔“
(مزید کچھ آگے جاکر ارشاد فرماتے ہیں) حدیثِ مذکور فاروقی ’’بابی انت و امی یارسول اللہ‘‘ کا ایک پارہ (ٹکڑا) امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بھی ’’شفا شریف‘‘ میں یونہی بلاسند ذکر فرمایا۔ اس پر امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی نے ’’مناہل الصفا فی تخریج احادیث الشفا‘‘ پھر اُن کے حوالہ سے علامہ خفاجی نے ’’نسیم‘‘ میں ارشاد کیا: ’’لم اجدہ فی شیئ من کتب الاثر لکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفٰی بذلک سند المثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام‘‘ میں نے یہ حدیث کسی کتابِ حدیث میں نہ پائی، مگر صاحبِ اقتباس الانوار اور ابن الحاج نے مدخل میں ایک حدیث طویل میں اُسے ذکر کیا، ایسی حدیث کو اتنی ہی سند بہت ہے کہ وہ کچھ احکام سے تو متعلق نہیں۔ (ت) (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 559 - 561، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1285
تاریخ اجراء: 17 صفر المظفر 1448ھ / 01 اگست 2026ء