logo logo
AI Search

قرآنِ پاک میں تدبر کرنے کا شرعی حکم اور صحیح طریقہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآن میں تدبر کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

تدبر کیا ہے ؟ اور قرآن پاک سے تدبر کرنا کیسا ہے؟

جواب

تدبر غور و فکر کرنے کو کہتے ہیں اور تدبر فی القرآن یعنی قرآنِ پاک میں گہرا غور و خوض کرنا۔ قرآن پاک میں غوروفکر کی تمام کو دعوت دی گئی ہے البتہ یہ غور و فکر ایسا ہونا چاہیے جو تعصبات اور جانبداری سے پاک اور عقل و نقل کے حقیقی تقاضو ں کے مطابق ہو۔ مزید یہ کہ قرآن پاک میں تدبر کرنے کی تفصیل اور کونسا تدبر معتبر ہے اور کونسا غیر معتبر اس کے لیے ذیل میں دی گئی دوآیات قرآنیہ اور اس کی تفسیر پڑھیں:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ-وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا (82)“ ترجمۂ کنز العرفان: تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگریہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔ (پارہ 5، سورہ نساء، آیت 82)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”{ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ : تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔} یہاں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اِس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکروفریب کو کھول کر رکھ دیا ہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔ اگر قرآن میں غور کریں تو یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا رسول ہے۔

قرآنِ مجید میں غورو فکر کرنا عبادت ہے لیکن!

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ احیاء العُلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التفکر، بیان مجاری الفکر، ۵ / ۱۷۰)

قرآن کا ذکر کرنا، اسے پڑھنا، دیکھنا، چھونا سب عبادت ہے۔ قرآن میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ قرآن میں وہی غوروفکر معتبر اور صحیح ہے جو صاحب ِ قرآن صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فرامین اور حضور پُر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صحبت یافتہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور ان سے تربیت حاصل کرنے والے تابعین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے علوم کی روشنی میں ہو کیونکہ وہ غور و فکر جو اُس ذات کے فرامین کے خلاف ہو جن پر قرآن اترا اور اس غور و فکر کے خلاف ہو جو وحی کے نزول کا مُشاہدہ کرنے والے بزرگوں کے غوروفکر کے خلاف ہو، وہ یقیناً معتبر نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے دورِ جدید کے اُن نت نئے محققین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علماء، فقہاء، محدثین و مفسرین اور ساری امت کے فَہم کو غلط قرار دے کر قولاً یا عملاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے، پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے۔ یہ لوگ یقیناً گمراہ ہیں۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 258۔259، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ایک اور مقام پر رب کریم نے ارشاد فرمایا: ”اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا“ ترجمۂ کنز العرفان: تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟ بلکہ دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں۔ (پارہ 26، سورہ محمد، آیت 24)

اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”{ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ : تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟} یعنی جن کے دلوں میں نفاق کے قفل لگے ہیں وہ نہ تو قرآنِ کریم میں غوروفکر کر سکتے ہیں اورنہ ہی وہ ہدایت حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں پرتالے لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حق کی بات ان میں پہنچ ہی نہیں پاتی۔ تدبُّر قرآنِ پاک میں گہرے غور و خوض کو کہتے ہیں جو تعصبات اور جانبداری سے پاک اور عقل و نقل کے حقیقی تقاضو ں کے مطابق ہو۔ “ (تفسیر صراط الجنان، جلد 9، صفحہ 318، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2468

تاریخ اجراء:29 محرم الحرام 1447ھ/25 جولائی 2025ء