logo logo
AI Search

کیا امر بالمعروف و نہی عن المنکر صرف علماء کی ذمہ داری ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" صرف اہلِ علم کا خاصہ ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا یہ بات درست ہے: "امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا شعبہ اہلِ علم ہی کے پاس ہے، عوام کو تو علم ہی نہیں، وہ کسی کو درست بات کیا بتائیں گے، بلکہ بتانے میں غلطی کر جائیں گے۔" شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

مطلقاً ایسا کہنا ہرگز درست نہیں کہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کا شعبہ صرف اہلِ علم ہی کے پاس ہے، اور عوام کو اس کا کوئی حق نہیں، بلکہ نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا، مجموعی طور پر امتِ محمدیہ کے نمایاں اوصاف میں سے ایک وصف ہے، اسی عظیم خوبی کے سبب خالقِ کائنات عزوجل نے اس امت کو سب سے بہترین امت قرار دیا، لہٰذا امر بالمعروف و نہی عن المنکر صرف اہلِ علم کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر صاحب استطاعت پر بقدر استطاعت لازم ہے، جسے ہاتھ کے ساتھ گناہ سے روکنے پرقدرت ہو، اس پرہاتھ سے روکنا لازم ہے، (مثلاشراب پیتاہو، تو شراب بہادے، اس کے برتن توڑ دے، گاتا بجاتا ہو، تو اس کے آلات توڑ دے)، اور جسے صرف زبان کے ساتھ روکنے پر قدرت ہو، اس پر زبان سے روکنا لازم ہے، اور جسے نہ ہاتھ کے ذریعے روکنے پر قدرت ہو، اور نہ زبان کے ساتھ، تو اس پرفقط دل سے برا جاننا لازم ہے۔

نیز یہ بات ضروری ہے کہ جس بات کی طرف دعوت دی جائے یا جس چیز سے منع کیا جائے، اس کا شرعی حکم صحیح طور پر معلوم ہو، اور جس بات کا علم نہ ہو، اس کے لیے اپنی طرف سے شرعی حکم بیان کرنا ہرگز درست نہیں، کہ حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے: "جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا، اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔"

نوٹ: یہ یادرہے کہ امر بالمعروف اسی صورت میں واجب ولازم ہے، جبکہ غالب گمان ہوکہ یہ ان سے کہے گا تو فتنہ و فساد پیدا نہیں ہوگا، بلکہ وہ اس کی بات مان لیں گے، اور بری بات سے بازآجائیں گے۔

اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ﴾ ترجمہ: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (پارہ 04، سورہ آل عمران: 110)

ذکر کردہ آیت مبارکہ کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے ”إنما صارت أمة محمد صلى اللہ عليه و سلم خير أمة لأن المسلمين منهم أكثر، و الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فيهم أفشى“ ترجمہ: بے شک امتِ محمدیہ اس لیے بہترین امت بنی کہ ان میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے، اور ان کے درمیان نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا عمل زیادہ عام ہے۔ (تفسیر قرطبی، جلد 04، صفحہ 171، مطبوعہ: قاہرة)

تفسیر صراط الجنان میں ہے ”یاد رہے کہ نیکی کی دعوت دینا وہ عظیم منصب اور عہدہ ہے جواللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو عطا فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلہ وَ سَلَّمَ کو مبعوث فرما کر نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا تو اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلہ وَ سَلَّمَ کی امت کو اس منصب سے سرفراز فرمادیا اور اس عظیم خوبی کی وجہ سے انہیں سب سے بہترین امت قرار دیا، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بقدرِ توفیق نیکی کی دعوت دیتا اور برائی سے منع کرتا رہے۔ (صراط الجنان، جلد 02، صفحہ 36،مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

برائی سے روکنا ہر مسلمان پر بقدرِ طاقت لازم ہے، چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث پاک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، و ذلك أضعف الإيمان“ ترجمہ: تم میں سے جو کوئی بُرائی دیکھے، تو اسے ہاتھ سے روکے اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے منع کرے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو، تو دل سے بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 42، رقم الحدیث: 49، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے ”اعلم أنه إذا كان المنكر حراما وجب الزجر عنه، و إذا كان مكروها ندب، و الأمر بالمعروف أيضا تبع لما يؤمر به، فإن وجب فواجب، و إن ندب فمندوب، ۔ ۔ ۔ و شرطهما أن لا يؤدي إلى الفتنة، كما علم من الحديث، و أن يظن قبوله، فإن ظن أنه لا يقبل فيستحسن إظهار شعار الإسلام، و لفظ من لعمومه شمل كل أحد رجلا أو امرأة، عبدا أو فاسقا أو صبيا مميزا“ ترجمہ: جان لو کہ اگر کوئی منکر (برائی) حرام ہو تو اس سے روکنا واجب ہے، اور اگر مکروہ ہو تو اس سے روکنا مستحب ہے۔ اسی طرح امر بالمعروف بھی اس حکم کے تابع ہے جس کا حکم دیا جا رہا ہے؛ پس اگر وہ کام واجب ہو تو امر بالمعروف بھی واجب ہوگا، اور اگر وہ مندوب (مستحب) ہو تو امر بالمعروف بھی مستحب ہوگا۔ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر دونوں کے لیے شرط یہ ہے کہ ان کے نتیجے میں فتنہ پیدا نہ ہو، جیسا کہ حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے، اور یہ بھی شرط ہے کہ اس بات کا غالب گمان ہو کہ سامنے والا قبول کر لے گا۔ البتہ اگر یہ گمان ہو کہ وہ قبول نہیں کرے گا تو بھی شعائرِ اسلام کے اظہار کے لیے اسے بیان کرنا مستحسن ہے۔ اور حدیث میں وارد لفظ "مَنْ" اپنے عموم کی وجہ سے ہر شخص کو شامل ہے، خواہ مرد ہو یا عورت، غلام ہو یا فاسق، یا سمجھ بوجھ رکھنے والا بچہ ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 08، صفحہ 3209، مطبوعه: بيروت)

بہارشریعت میں ہے "کسی کو گناہ کرتے دیکھے تو نہایت متانت اور نرمی کے ساتھ اسے منع کرے اور اسے اچھی طرح سمجھائے پھر اگر اس طریقہ سے کام نہ چلا وہ شخص باز نہ آیا تو اب سختی سے پیش آئے، اس کو سخت الفاظ کہے، مگر گالی نہ دے، نہ فحش لفظ زبان سے نکالے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو جو شخص ہاتھ سے کچھ کرسکتا ہے کرے، مثلاً وہ شراب پیتا ہے تو شراب بہا دے، برتن توڑ پھوڑ ڈالے، گاتا بجاتا ہے تو باجے توڑ ڈالے۔ امربالمعروف کی کئی صورتیں ہیں:

(1) اگر غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان سے کہے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے اور بری بات سے باز آجائیں گے، تو امربالمعروف واجب ہے اس کو باز رہنا جائز نہیں اور (2) اگر گمان غالب یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی تہمت باندھیں گے اور گالیاں دیں گے تو ترک کرنا افضل ہے" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 615،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مزید بہار شریعت میں ہے "امرا کے ذمہ امربالمعروف ہاتھ سے ہے کہ اپنی قوت و سطوت سے اس کام کو روک دیں اور علما کے ذمہ زبان سے ہے کہ اچھی بات کرنے کو اور بری بات سے باز رہنے کو زبان سے کہہ دیں اور عوام الناس کے ذمہ دل سے برا جاننا ہے۔ اس کا مقصد وہی ہے جو حدیث میں فرمایاکہ ''جو بری بات دیکھے، اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر ہاتھ سے بدلنے پر قادر نہ ہو تو زبان سے بدل دے یعنی زبان سے اس کا برا ہونا ظاہر کردے اور منع کردے اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور مرتبہ ہے۔'' یہاں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں کہ ان میں نہ ہاتھ سے روکنے کی ہمت ہے اور نہ زبان سے منع کرنے کی جرأت۔ قوم کے چودھری اور زمیندار وغیرہ بہت سے عوام ایسی حیثیت رکھتے ہیں کہ ہاتھ سے روک سکتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ روکیں ایسوں کے لیے فقط دل سے برا جاننا کافی نہیں۔" (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 615، 616،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے ”امربالمعروف یہ ہے کہ کسی کو اچھی بات کا حکم دینا مثلاً کسی سے نماز پڑھنے کو کہنا۔ اور نہی عن المنکر کا مطلب یہ ہے کہ بری باتوں سے منع کرنا، یہ دونوں چیزیں فرض ہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 614،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بغیر علم کے شرعی مسئلہ بیان کرنے کے متعلق حدیث پاک میں ہے”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: من أفتي بغير علم كان إثمه على من أفتاه“ ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا، تو اس کا گناہ اس پر ہے جس نے اس کو فتویٰ دیا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح، صفحہ 35، مطبوعہ: کراچی)

جامع صغیر میں مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے "من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء و الارض" ترجمہ: جس نے بغیر علم کے فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ (جامع الصغیر معہ فیض القدیر، جلد 6 صفحہ 101، مطبوعه: بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5437
تاریخ اجراء: 08 ربیع الاول 1448ھ / 22 اگست 2026ء