میلاد پر بکرا ذبح کرنے کی نیت منت شمار ہوگی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یہ کہنا کہ میلاد شریف پر بکرا ذبح کروں گا، اس سے بکرا ذبح کرنا لازم نہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص کے پاس بکرا تھا، اس نے یہ جملہ کہا کہ میلاد شریف میں یہ بکرا ذبح کروں گا، تو کیا میلاد شریف پر وہی بکرا ذبح کرنا ضروری ہے یا اس کی جگہ کوئی اور بکرا ذبح کر سکتا ہے؟
جواب
فقط یہ کہنا کہ میلاد شریف میں یہ بکرا ذبح کروں گا یہ بکرا ذبح کرنے کی نیت ہے، منت نہیں کیونکہ منت کے مخصوص الفاظ و معنی نہیں پائے جا رہے۔ اگر واقعی نیت کی تھی تو بہتر ہے کہ اس نیک کام کو سر انجام دیں اور جس بکرے کے ذبح کرنے کی نیت کی تھی وہی ذبح کردیں، اگر اس کی جگہ دوسرا بکرا ذبح کردیا یا اسباب نہ ہونے کی وجہ سے بکرا ذبح ہی نہ کرسکے تو کوئی گناہ نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2500
تاریخ اجراء: 05 ربیع الآخر 1447ھ / 29 ستمبر 2025ء