صحت یابی پر میٹھے چاول کی منت پوری کرنا ضروری ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مریض کے صحت یاب ہونے پر میٹھے چاول کی دیگ دینے کی منت کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی منت مانگے کہ فلاں ٹھیک ہو جائے گا یعنی صحت مند ہو جائے گا اور کہے کہ ہم ایک دیگ مٹھے چاول کی دیں گے تو کیا اس کی جگہ ہم اس سے مہنگی کوئی چیز اور کر سکتے ہیں اس کے متبادل؟
جواب
اگر میٹھے چاول کی دیگ دینے سے یہ مراد تھا کہ دیگ بنوا کر چاول لوگوں میں تقسیم کردیں گے، جو چاہے کھائے، کھانے والا امیر ہے یا شرعی فقیر، اس کا فرق نہیں رکھیں گے، تو یہ شرعی منت نہیں ہے لہٰذا اس کا پورا کرنا واجب نہیں مگر بہتر یہی ہے کہ اس پر عمل کریں۔ ہاں اگر خاص ایسے افراد کو کھلانا مراد تھا جو شرعی فقراء ہوں تو یہ شرعی منت ہے جس کا اس شخص کے صحتمند ہوجانے کے بعد پورا کرنا واجب ہے اور بہر حال شرعی منت ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں چاولوں کے بجائے کچھ اور بھی میٹھے چاولوں کی دیگ کی قیمت کے برابر کھلا سکتے ہیں۔زیادہ قیمت والی چیز کھلانا بدرجہ اولی جائز ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا:”زید نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہوجائے گا، تو میں اپنے احباب کو کھانا کھلاؤں گا تو کیا اس طرح کی منت ماننا اور اس کا ادا کرنا زید پر واجب ہوگا یا نہیں؟“
اس کے جواب میں سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”یہ کوئی نذرِ شرعی نہیں، وجوب نہ ہوگا اور بجالانا بہتر، ہاں اگر احباب سے مراد خاص معین بعض فقراء و مساکین ہوں تو وجوب ہوجائے گا۔“(فتاوی رضویہ، جلد13،صفحہ 584، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے:’’ اگر میرا یہ کام ہوجائے تو دس روپے کی روٹی خیرات کروں گا تو روٹیوں کا خیرات کرنا لازم نہیں یعنی کوئی دوسری چیز غلّہ وغیرہ دس روپے کا خیرات کرسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دس روپے نقد دیدے۔‘‘(بہار شریعت،جلد2،صفحہ 316،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2409
تاریخ اجرا: 21جمادی الاخریٰ 1447ھ / 13 دسمبر 2025ء