منت میں انگوٹھی کی جگہ قیمت دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
انگوٹھی صدقہ کرنے کی منت مانی تو اس کی جگہ قیمت دینے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک خاتون کا بیٹا بیمار تھا، اس نے زبان سے بول کر یوں منت مانی کہ میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے، تو میں اپنی سونے کی انگوٹھی اللہ کی راہ میں صدقہ کروں گی، اب اس کا بیٹا ٹھیک ہو گیا ہے، تو کیا اس منت کو پورا کرنا شرعاً ضروری ہے؟ نیز کیا سونے کی مخصوص انگوٹھی ہی صدقہ کرنی ہو گی یا پھر اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں یہ منت پوری کرنا شرعاً ضروری ہے، کیونکہ اللہ عزوجل کے لئے اپنے اوپر کوئی ایسی عبادت لازم کر لینا، جو شریعت کی جانب سے بندے پر لازم نہ ہو، تو مخصوص شرائط کی موجودگی میں یہ منتِ شرعی کہلاتی ہے اور اسے پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔ (مخصوص شرائط مثلاً: جو کام کرنے کی منت مانی، اس کی جنس سے کوئی واجب ہو، وہ عبادت مقصودہ ہو، وغیرہ) اور سوال میں ذکر کردہ منت کہ ’’میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے، تو میں اپنی سونے کی انگوٹھی اللہ کی راہ میں صدقہ کروں گی‘‘ اُن تمام شرائط پر مشتمل ہے، لہذا اب اسے پورا کرنا لازم ہے۔ البتہ منت پوری کرنے کے لئے سونے کی متعین کردہ انگوٹھی دینا ہی ضروری نہیں، بلکہ اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔
منت پوری کرنے کے متعلق قرآن کریم میں ہے: ﴿وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: ”اور اپنی منتیں پوری کریں‘‘۔ (پارہ 17، سورۃ الحج ، آیت 29)
صحیح بخاری میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’من نذر ان یطیع اللہ فلیطعہ ومن نذر ان یعصیہ فلا یعصہ‘‘ ترجمہ: جو اللہ تعالی کی اطاعت کی منت مانے، تو وہ اسے پورا کرے اور جو اللہ تعالی کی نافرمانی کی منت مانے، تو وہ نافرمانی والا کام نہ کرے (بلکہ کفارہ دیدے)۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان و النذور، باب النذر فی الطاعۃ، جلد 2، صفحہ 991، مطبوعہ کراچی)
در مختار میں ہے: ’’من نذر نذراً مطلقاً او معلقاً بشرط وکان من جنسہ واجب وھو عبادۃ مقصودۃ ووجد الشرط لزم الناذر کصوم وصلاۃ وصدقۃ واعتکاف‘‘ ترجمہ: جس نے مطلق یا کسی شرط پر معلق منت مانی اور اس کی جنس سے کوئی واجب بھی ہو اور وہ عبادت مقصودہ ہو، (تو جب) شرط پائی جائے گی، منت ماننے والے پر لازم ہو جائے گی، جیسے روزہ، نماز، صدقہ اور اعتکاف۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الایمان، جلد 5، صفحہ 537 تا 538، مطبوعہ پشاور)
بہار شریعت میں ہے: ’’شرعی منت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اس کے لیے مطلقاً چند شرطیں ہیں: (۱) ایسی چیز کی منت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو۔ (۲) وہ عبادت خود بالذات مقصود ہو کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔ (۳) اس چیز کی منت نہ ہو جو شرع نے خو د اس پر واجب کی ہو۔ (۴) جس چیز کی منّت مانی وہ خود بذاتہ کوئی گناہ کی بات نہ ہو۔ (۵) ایسی چیز کی منت نہ ہو جس کا ہونا محال ہو‘‘۔ (بھار شریعت، حصہ 5، صفحہ 1015، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
منت میں متعین کردہ چیز کے بدلے قیمت دینے کے متعلق درر الحکام میں ہے: ’’(جاز دفع القيم في الزكاة وكفارة غير الاعتاق والعشر والنذر) يعني ان اداء القيمة مكان المنصوص عليه في الصور المذكورة جائز، لا على ان القيمة بدل على الواجب، لان المصير الى البدل انما يجوز عند عدم الاصل واداء القيمة مع وجود المنصوص عليه في ملكه جائز فكان الواجب عندنا احدهما اما العين او القيمة‘‘ ترجمہ: زکوۃ، غلام آزاد کرنے والے کفارے کے علاوہ کسی دوسرے کفارے، عشر اور منت میں قیمت دینا بھی جائز ہے، یعنی مذکورہ صورتوں میں متعین چیز کی جگہ قیمت ادا کرنا بھی جائز ہے، یہ اس طور پر نہیں ہے کہ یہ قیمت واجب کا بدل ہے، کیونکہ اگر اسے بدل قرار دیا جائے، تو وہ تو اصل کی عدم موجودگی میں ہوتا ہے، جبکہ منصوص علیہ چیز ملک میں موجود ہونے کے باوجود قیمت کی ادائیگی جائز ہے، بس ہمارے نزدیک واجب دو میں سے کوئی ایک ہے یا تو عین یا اس کی قیمت۔ (درر الحکام، کتاب الزکاۃ، جلد 1، صفحہ 178، مطبوعہ بیروت)
در مختار اور رد المحتار میں ہے: ’’(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر۔۔الخ) كان نذر ان يتصدق بهذا الدينار فتصدق بقدره دراهم او بهذا الخبز فتصدق بقيمته جاز عندنا، كذا في فتح القدير وفيه لو نذر ان يهدي شاتين او يعتق عبدين وسطين فاهدى شاة او اعتق عبدا يساوي كل منهما وسطين لا يجوز، لان القربة في الاراقة والتحرير وقد التزم اراقتين وتحريرين فلا يخرج عن العهدة بواحد، بخلاف النذر بالتصدق بشاتين وسطين فتصدق بشاة بقدرهما جاز، لان المقصود اغناء الفقير وبه تحصل القربة وهو يحصل بالقيمة‘‘ ترجمہ: زکوۃ، عشر، خراج، فطرہ اور منت میں قیمت دینا بھی جائز ہے،۔۔ جیسے یہ منت مانی کہ یہ دینار صدقہ کروں گا، تو اس کی مالیت کے برابر دراہم اور منت مانی کہ یہ روٹی صدقہ کروں گا، تو ہمارے نزدیک اس کی قیمت دینا بھی جائز ہے، یونہی فتح القدیر میں ہے، اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ کسی نے دو بکریاں قربان کرنے کی منت مانی یا دو درمیانے غلام آزاد کروں گا، تو اس کی جگہ دو کے مساوی ایک بکری قربان کرنا یا ایک غلام آزاد کر دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ خون بہانا اور آزاد کرنا ثواب کا کام ہے اور اس نے اپنے اوپر دو خون بہانا اور دو غلاموں کی آزادی کو لازم کر لیا ہے، لہذا وہ ایک سے بری الذمہ نہیں ہوں گے، بر خلاف ایسی منت کے جس میں دو درمیانی بکریوں کو صدقہ کرنے کی منت مانی، تو اس نے دو کے برابر ایک ہی بکری صدقہ کر دی، تو یہ جائز ہے، کیونکہ یہاں مقصود فقیر کو غنی کرنا اور اس سے قربت کا حصول ہے اور یہ مقصد قیمت دینے سے حاصل ہو جائے گا‘‘۔ (رد المحتار مع در مختار، کتاب الزکاۃ، جلد 2، صفحہ 286، مطبوعہ بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7160
تاریخ اجراء: 12 رجب المرجب 1444 ھ 04 جنوری 2023ء