logo logo
AI Search

طوطا گھر میں آ جائے تو اس کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

گھر میں طوطا اڑ کر آجائے تو اس کے متعلق حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے پاس ایک طوطا اڑ کر آیا ہے، پوچھنا یہ تھا کہ اس کا کیا حکم ہوگا ؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا پرندہ ہے، جسے لوگ عموماً پالتے نہیں ہیں، اور اس پر کوئی ایسی علامت (ہار یا گھنگھرو وغیرہ) بھی نہیں، کہ جس سے اس کا کسی کی ملکیت میں ہونا پتاچلے، وہ اگر اڑ کر گھر میں آ جاتا ہے، تو اس کا حکم یہ ہے کہ جو پکڑلے گا، اس کا ہوجائے گا، جیسے جنگلی کبوتر یا چڑیا آزاد گھوم رہے ہوتے ہیں، عام طور پر کسی کی مِلکیت نہیں ہوتے، اس طرح کے پرندے جو پکڑے گا، وہ اسی کی ملک ہوں گے۔

جبکہ بعض جانور و پرندے وہ ہیں، جن کے بارے میں کسی نشانی وغیرہ کے ذریعے، یا نایاب ہونے، یاکسی اور سبب سے معلوم ہو جاتا ہے، کہ ان کا کوئی نہ کوئی مالک ہے، جیسے آسٹریلین طوطے کا معاملہ ہوتا ہے؛ کہ یہ عام پرندہ نہیں ہے، بلکہ لوگ اسے خرید کر پالتے ہیں، اور زیادہ تر یہ پنجروں میں رہتے ہیں، کبھی پنجرہ کھلا رہ جائے تو یہ اُڑ جاتے ہیں، ان کا حکم لقطے والا ہے، کہ انہیں اپنے لیے لینا جائز نہیں، اور اگر لے لیا، تو ان کی تشہیر کرے، اگر مالک مل جائے، تو اسے واپس کرے، اور اگر مالک نہ ملے اور ظنِ غالب ہوجائے کہ مالک اب انہیں تلاش نہ کرتا ہوگا، تو صدقہ کردے۔

لہذا پوچھی گئی صورت میں دیکھ لیا جائے! کہ جو طوطا آپ کے یہاں اڑ کر آیا ہے، وہ پالتو وغیرہ ہے، جو کسی کی ملکیت ہوتا ہے، یا جنگلی، آزاد گھومنے والا، جس پر کسی کی ملکیت کی کوئی نشانی نہیں؟ جس طرح کا ہو، اسی کے مطابق حکم ہوگا۔

تنویر الابصار ودر مختار میں ہے ”محضنۃ ای برج حمام اختلط بھا اھلیّ لغیرہ لاینبغی لہ ان یاخذہ و ان اخذہ طلب صاحبہ لیردہ علیہ لانہ کاللقطۃ“ ترجمہ: کوئی مینار یعنی برج ہو جہاں کبوتر آتے ہوں، اور وہاں کسی شخص کا پالتو کبوتر آ کر ان میں مل جائے تو اسے اپنے لیے لینا جائز نہیں، اور اگر لے لیا تو مالک کو تلاش کرنا ضروری تاکہ اس تک پہنچا دے کیونکہ یہ لقطے کے حکم میں ہے۔ (تنویر الابصار و الدر المختار مع رد المحتار، جلد 6، صفحہ 436، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی ہندیہ میں ہے ”من أخذ بازيا أو شبهه في سواد أو مصر، وفي رجليه تبر وجلاجل وهو يعرف أنه أهلي فعليه أن يعرف ليرده على أهله، وكذلك إن أخذ ظبيا في عنقه قلادة، كذا في المحيط“ ترجمہ: کسی نے باز یا اس طرح کا کوئی پرندہ پکڑا، شہر کے ارد گرد یا شہر میں، اور اس کے پاؤں میں گھنگھرو یا جھانجھن تھا، جس سے اس کا پالتو ہونا معلوم ہو، تو اس پر لازم ہے کہ مالک کو تلاش کر کے اس تک پہنچائے، اور اسی طرح حکم ہے اگر ایسا ہرن پکڑا، جس کی گردن میں ہار تھا، اسی طرح محیط میں ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 2، صفحہ 294، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے ”جنگلی کبوتروں میں پلاؤ (پالتو) کبوتر مل گیا تو اس کا پکڑنا جائز نہیں اور پکڑ لیا تو مالک کی تلاش کر کے دے دے ۔۔۔باز یا شکرا وغیرہ پکڑا جس کے پاؤں میں جُھنجُھنی بندھی ہے جس سے گھریلو معلوم ہوتا ہے تو یہ لقطہ ہے اعلان کرنا ضروری ہے۔ یونہی ہرن پکڑا جس کے گلے میں پٹا یا ہار پڑا ہوا ہے یا پالتو کبوتر پکڑا تو اعلان کرے اور مالک معلوم ہوجائے تو اسے واپس کرے۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 10، صفحہ 481، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

لقطہ کا حکم بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ، مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ”ملتقط پر تشہیر لازم ہے یعنی بازاروں اور شارعِ عام اور مساجد میں اتنے زمانہ تک اعلان کرے کہ ظنِ غالب ہوجائے کہ مالک اب تلاش نہ کرتا ہوگا۔ یہ مدت پوری ہونے کے بعد اسے اختیار ہے کہ لقطہ کی حفاظت کرے یا کسی مسکین پر تصدق کردے۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 10، صفحہ 475، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5438

تاریخ اجراء: 08 ربیع الثانی 1448ھ/21 ستمبر 2026ء