لقطے کی رقم سیّد کو دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لقطے کی رقم غریب سید زادے کو دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس لقطے کی رقم موجود ہے، جس کی مالیت 4650 روپے ہے، یہ رقم اسے اپنی دکان کے باہر سے ملی تھی، اس نے یہ رقم مالک کو دینے کی نیت سے اٹھا ئی تھی اور اس نے مالک کو تلاش کیا یعنی اپنی دکان میں موجود ملازمین، گاہکوں، اور پڑوسی دکانداروں سے پوچھا لیکن کافی تلاش کے باوجود ان پیسوں کا مالک نہیں ملا، اور مالک کو تلاش کرتے ہوئے تقریباً اڑھائی ماہ ہوچکے ہیں۔ اب اسے ظنِ غالب ہوچکا ہے کہ مالک اب اپنی رقم کو تلاش نہیں کرتا ہوگا۔ زید اس رقم کو صدقہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کی دکان پر ایک غریب سید صاحب ملازمت کرتے ہیں تو کیا زید یہ رقم غریب سید زادے کو دے سکتا ہے؟
جواب
بیان کی گئی صورت میں زید اپنی دکان کے باہر سے ملنے والی رقم غریب سید زادے کو دے سکتا ہے۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص لقطے کی چیز کو مالک تک پہنچانے کی نیت و ارادے سے اٹھائے تو اس پر لازم ہوتا ہے کہ اتنی مدت تک مالک کو تلا ش کرے کہ اسے ظنِ غالب ہوجائے کہ اب مالک اپنی چیز کو تلاش نہیں کرتا ہوگا۔ اور اسے مالک نہ ملنے کی صورت میں اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو اس چیز کو مالک تک پہنچانے کے ارادے سے محفوظ رکھ لے یا پھر اس چیز کو کسی بھی نیک کام میں خرچ کردے۔ ایسی چیز کو صدقہ واجبہ کی مثل کسی غیر سید، غیر ہاشمی شرعی فقیر پر صدقہ کرنا واجب نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ مالک نہ ملنے کی صورت میں اس چیز کو مسجد و مدرسے وغیرہ میں بھی خرچ کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا زید لقطے کی مذکورہ رقم غریب سید زادے کو دے سکتا ہے کیونکہ کسی سید زادے کی مدد کرنا مصارف خیر میں سے ہی ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطّاری مدنی
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جولائی 2026ء