logo logo
AI Search

ہیئر کلر اور بلیچ بیچنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ہیئر کلرز اور بالوں کے بلیچ فروخت کرنے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری کریانہ کی دکان ہے، جہاں روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء کے ساتھ خواتین و حضرات کے استعمال کے لیے بیوٹی پروڈکٹس بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔ ان میں بالوں کو سیاہ (بلیک)، سنہری (گولڈن) یا دیگر رنگوں میں رنگنے والے ہیئر کلرز بھی شامل ہیں، جو عموماً خواتین اور مرد حضرات دونوں استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح خواتین کے چہرے یا جسم کے دوسرے بالوں کو رنگنے والا بلیچ بھی دکان پر فروخت کیا جاتا ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالوں کے کلرز اور بلیچ فروخت کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس میں شرعی اعتبار سے کوئی خرابی تو نہیں؟

جواب

سیاہ رنگ، یا ایسا رنگ جسے بالوں پر لگانے سے وہ سیاہ دکھائی دیں، مثلاً بعض  (Dark Brown)رنگ، ان سے بالوں کو رنگنا جائز نہیں۔ لہٰذا ایسے رنگ فروخت کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ عموماً ان کا کوئی دوسرا قابلِ ذکر استعمال نہیں ہوتا، بلکہ انہیں اسی مقصد سے خریدا اور استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے ان کی فروخت ناجائز کام میں معاونت کی وجہ سے ناجائز ہے۔

البتہ سیاہ رنگ کے علاوہ دیگر ایسے رنگ جن سے بالوں کو رنگنا شرعاً جائز ہے، ان کی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح خواتین کے لیے بلیچ کے ذریعے جسم کے بالوں کو رنگنا جائز ہے، لہٰذا بلیچ کی خرید و فروخت بھی شرعاً جائز ہے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔

دیگر تمام اشیاء کی طرح زینت، حسن و جمال اختیار کرنے میں بھی اصل جواز ہے، خود قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’تم فرماؤ: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے؟‘‘ (سورۃ الاعراف، آیت 32(

یونہی صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”قال رجل: إن الرجل يحب ان يكون ثوبه حسنا و نعله حسنة، قال: إن اللہ جميل يحب الجمال“ ترجمہ: ایک شخص نے عرض کیا: ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کے جوتے اچھے ہوں (تو یہ پسند کرنا کیسا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔ (یعنی مذکورہ شخص کا عمل جائز ہے۔) (صحیح المسلم، ج 1، ص 65،دار الطباعة العامرہ، تركيا)

معلوم ہوا کہ حسن و جمال اور زینت کے حصول کے طریقوں میں اصل جواز ہے، الا یہ کہ کسی طریقے یا شے کی ممانعت پر کوئی دلیل قائم ہو جائے، جیسے دیگر اشیاء میں بھی یہی قاعدۂ شرعیہ کارفرما ہے۔ اسی اصول پر بالوں کو رنگنے کا مسئلہ بھی متفرع ہے کہ سیاہ رنگ کے علاوہ دیگر رنگوں کا استعمال جائز ہے، کیونکہ ان کی ممانعت پر کوئی دلیل قائم نہیں، بلکہ بالوں کو رنگنے کا استحبابی حکم موجود ہے، جبکہ سیاہ رنگ کے متعلق ممانعت کا حکم وارد ہے۔ لہٰذا سیاہ رنگ کا استعمال ناجائز اور دیگر رنگوں کا استعمال جائز ہے۔ چنانچہ در مختار میں ہے: ”(اختضب لأجل التزين للنساء والجواري جاز) في الأصح ويكره بالسواد“ ترجمہ: اگر کوئی شخص اپنی بیوی یا باندی کے لیے بالوں کو رنگتا ہے تو اصح قول کے مطابق یہ جائز ہے ،ہاں! سیاہ رنگ لگانا مکروہ ہے۔

(و يكره بالسواد) کے تحت علامہ سید ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” قال النووي: و مذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل و المرأة بصفرة أو حمرة و تحريم خضابه بالسواد على الأصح لقوله عليه الصلاة و السلام ”غيروا هذا الشيب و اجتنبوا السواد“ قال الحموي و هذا في حق غير الغزاة ولا يحرم في حقهم للارهاب“ ترجمہ: امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے مذہب میں مرد و عورت کے لیے سفید بالوں کو زرد یا سرخ رنگ سے خضاب کرنا مستحب ہے، جبکہ صحیح قول کے مطابق سفید بالوں کو سیاہ رنگ سے خضاب کرنا حرام ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اس سفیدی کو بدل دو اور سیاہ رنگ سے بچو۔‘‘ علامہ حموی نے فرمایا: یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو جہاد میں شریک نہیں، جبکہ مجاہدین کے لیے سیاہ خضاب حرام نہیں، کیونکہ اس سے دشمن پر رعب و ہیبت طاری کرنا مقصود ہوتا ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 6، صفحہ 756، دار الفکر بیروت(

امام اہل سنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سیاہ خضاب خواہ مازو ووہلیہ و نیک کا ہو خواہ نیل و حنا مخلوط خواہ کسی چیز کا سوا مجاہدین کے سب کو مطلقاً حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 484، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

جس طرح کالےخضاب کے علاوہ دیگر رنگ کا استعمال جائز ہے، یونہی بلیچ یا اسی قسم کی دیگر مصنوعات جن کے ذریعے بالوں کو بھورا یا جلد کے موافق رنگ میں تبدیل کیا جاتا ہے یا چہرے کو گورا و چمکدار کیا جاتا ہے، ان کا استعمال بھی جائز ہے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ نے لکھا: ”و لا یمنع من الادویۃ التی تزیل الکلف و تحسن الوجہ“ ترجمہ: اور ان دوائیوں کا استعمال منع نہیں جو جھائیاں ختم کرتی ہیں اور چہرے کو خوبصورت بناتی ہیں۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد 14، صفحہ 179، مطبوعہ ملتان)

اور جب کالے رنگ کے علاوہ دیگر رنگ، اسی طرح بلیچ کا استعمال جائز ہے، تو ان کی بیع بھی جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، امام قدوری رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ”يجوز الانتفاع به فجاز بيعه“ ترجمہ: جب اس کا استعمال جائز ہے، تو اسے فروخت کرنا بھی جائز ہے۔ (التجريد للقدوري، ج 1، ص 88، دار السلام، القاهرة)

نیز امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”و قال أبو حنيفة يجوز بيع السرجين لاتفاق أهل الأمصار في جميع الأعصار على بيعه من غير إنكار و لأنه يجوز الانتفاع به فجاز بيعه كسائر الأشياء“ ترجمہ: اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: سرجین (گوبر اور لید وغیرہ کے اپلے) کی بیع جائز ہے، کیونکہ تمام زمانوں میں تمام شہروں کے لوگ اس کی خرید و فروخت پر متفق رہے ہیں اور کسی نے اس پر نکیر نہیں کی۔ نیز چونکہ اس سے فائدہ اٹھانا ،جائز ہے، اس لیے اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے، جیسے دیگر اشیاء کی خرید و فروخت جائز ہے۔ (المجموع شرح المهذب، ج 9، ص 230، دار الفكر بيروت)

اور چونکہ کالا خضاب استعمال کرنا ناجائز ہے اور اسے خریدنے والوں کا مقصودِ اعظم اس سے بال رنگنا ہی ہے ،اس کےعلاوہ کوئی اور استعمال نہیں، تو اسے بیچنا بھی ناجائز ہے۔امام احمد رضا خان رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’یقول العبد الضعیف غفر اللہ لہ مستمدا بعون اللہ تعالی: الذی یظھر لی:ان الشیء اذا صلح فی حد ذاتہ لان یستعمل فی معصیۃ و فی غیرھا و لم یتعین للمعصیۃ فلم یکن بیعہ اعانۃ علیھا، لاحتمال ان یستعمل فی غیر المعصیۃ، و انما یتعین ذلک بقصد القاصدین و الشک لایوثر، و غلبۃ الظن فی امثال المقام ملتحق بالیقین ۔ ۔ ۔ ۔ فاعلم ان معنی ما تقوم المعصیۃ بعینہ ان یکون فی اصل وضعہ موضوعا للمعصیۃ او تکون ھی المقصودۃ العظمی منہ، فانہ اذا کان کک یغلب علی الظن ان المشتری انما یشتریہ لاتیان المعصیۃ، لان الاشیاء انما تقصد للاستمتاع بھا، فما کان مقصودہ الاعظم تحصیل معصیۃ- معاذ اللہ تعالی - کان شراؤہ دلیلا و اضحا علی ذلک القصد فیکون بیعہ اعانۃ علی المعصیۃ لما علمت من التعین بقصد القاصد و کذلک مالم یکن موضوعا لذالک بعینہ و لا ما ھو المقصود الاعظم منہ لکن قامت قرینۃ ناصۃ علی ان مقصود ھذا المشتری انما یستعملہ معصیۃ“

ترجمہ: عبد ضعیف (امام احمد رضاخان) اللہ اس کی مغفرت فرمائے اللہ کی مدد کے سہارے کہتا ہےکہ: جو مجھ پر ظاہر ہوا وہ یہ ہے کہ جب کوئی شے فی نفسہ گناہ اور غیر گناہ دونوں میں استعمال ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، معصیت کے لیے متعین نہیں ہوتی، تو اس کی بیع معصیت پر اعانت نہیں ہوتی، کیونکہ غیر معصیت میں اس کے استعمال کا احتمال موجود ہوتا ہے۔ معصیت کے لیے اس کی تعیین گناہ کے ارادے سے ہوتی ہے اور شک اس معاملہ میں غیر مؤثر ہے، ہاں! غالب گمان اس طرح کے معاملہ میں ملحق بالیقین ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ یاد رکھو! کسی شے کے ساتھ معصیت کے قیام کا معنی یہ ہے کہ اس کی اصل وضع ہی معصیت کے لیے ہو یا پھر اس سے مقصودِ اعظم معصیت ہو، کیونکہ جب ایسا ہوگا تو ظنِ غالب ہوگا کہ مشتری کا اسے خریدنا ارتکابِ معصیت کے لیے ہی ہے، اس لیے کہ اشیاء سے مقصد ان کا استعمال ہی ہوتا ہے، تو جس شے کا مقصودِ اعظم معاذاللہ ارتکابِ معصیت ہو اس کی خریداری اسی قصد پر واضح دلیل ہے، لہذا اسے بیچنا گناہ پرمدد دینا ہے، کیونکہ اسے لینے والے کا قصد آپ کو معلوم ہوچکا۔ اسی طرح (کا حکم ہے اس) شے (کا) جو معصیت کے لیے بعینہ موضوع نہ ہو اور نہ ہی وہ اس سے مقصود اعظم ہو، لیکن واضح قرینہ قائم ہوجائے کہ اس خریدار کا اس سے مقصد معصیت میں استعمال کرنا ہے۔ (جد الممتار، جلد 7، صفحہ 75، 76، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اور جب کالے خضاب کی عین سے معصیت قائم ہوتی ہے، تو اس کی بیع مکروہ تحریمی ہوگی،جیسا کہ در مختار میں ضابطہ بیان کیا: ”افاد کلامھم أن ما قامت المعصية به يكره بيعه تحريما“ ترجمہ: فقہاء کے کلام کا مفاد یہ ہےکہ جس شے سے معصیت قائم ہو اس کی بیع مکروہ تحریمی ہے۔

(لأنه إعانة على المعصية) کے تحت رد المحتار میں ہے: ”لأنه يقاتل بعينه، بخلاف ما لا یقاتل به إلا بصنعة تحدث فيه کالحدید و نظیرہ بیع كراهة المعازف لأن المعصیۃ تقام بھا عینھا ۔ ۔ ۔  بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عینه منكرا إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكراً بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية لأنها ليست عين المنكر، و نحوالحديد و العصير، لأنه و إن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه“

ترجمہ: کیونکہ عین ہتھیاروں سے جنگ کی جاتی ہے، بخلاف ان اشیاء کے جن کے ذریعےجنگ ان میں کاریگری کے بعد ہی ہوسکتی ہے جیسے لوہا اور اس کی نظیرآلاتِ موسیقی کی بیع کا مکروہ ہونا ہے کیونکہ ان کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ بخلاف ہتھیاروں کے کیونکہ ان سے مقصود اصلی جنگ و جدال ہے تو ان کا عین ہی منکر ہے، جب انہیں باغیوں کو بیچا جائے، تو یہاں "جس چیز کے ذریعے معصیت قائم ہوتی ہے" سے مراد وہ چیز ہے جس کا عین، اس میں کسی کاریگری کے بغیر، خود منکر ہو۔ تو گلو کار باندی خارج ہوگئی کہ اس کا عین منکر نہیں یا جیسے لوہا اور انگور کا شیرہ کیونکہ اگر چہ ان سے منکر اشیاء بنائی جاتی ہیں لیکن اس میں عمل کے بعد وہ بنتی ہیں تو وہ ا ن کا عین نہیں ہوتیں۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 4، صفحہ 268، دار الفکر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: HAB-0791
تاریخ اجراء: 14 ربیع الاول 1448ھ / 28 اگست 2026ء