زمین واپس خریدنے کی شرط پر بیچنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
واپسی خریدنے کی شرط کے ساتھ زمین بیچنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے تقریبا ایک کروڑ روپے قرض کی حاجت تھی، میں نے اپنے دوست سے قرض کے متعلق بات کی تو اس نے اس قرض کے بدلے نفع کا پوچھا، میں نے کہا وہ تو سود ہے، اس طرح تو نہیں ہو سکتا، البتہ ایک صورت یہ ہے کہ میرے پاس ایک پراپرٹی ہے جس کی مالیت تقریبا ایک کروڑ روپیہ ہے، وہ میں آپ کو ایک کروڑ روپے میں بیچ رہا ہوں لیکن اس خرید و فروخت کے معاہدے میں یہ شرط ہوگی کہ آپ دوبارہ وہی پراپرٹی مجھے اپنا نفع رکھ کر بیچ دیں گے، تو اس طرح مجھے پیسے مل جائیں گے اور آپ کو اس خرید و فروخت کے ذریعے نفع بھی مل جائے گا، اور میری پراپرٹی بھی مجھے واپس مل جائے گی، تو میرے دوست نے میری اس بات کو قبول کر لیا، اور ہم نے پہلے خرید و فروخت کا ایگریمنٹ کیا جس میں میں نے ایک کروڑ میں اپنی پراپرٹی اپنے دوست کو فروخت کی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ دوبارہ مجھے واپس بیچے گا، اس ایگریمنٹ کے بعد ہم نے دوسرا ایگریمنٹ کیا جس میں اس دوست نے مجھے وہ پراپرٹی ایک کروڑ دس لاکھ میں بیچ دی، اس طرح ہم نے سودا کرلیا ، دوست نے تو مجھے اسی وقت ایک کروڑ روپے ادا کردیئے تھے، لیکن میں نے ابھی پیسے دیئے نہیں ہیں، تین مہینے بعد پیسے دینے ہیں، ابھی چند دن پہلے ہم دونوں اپنے ایک عالم دین دوست کے پاس بیٹھے کچھ مسائل پوچھ رہے تھے کہ اسی درمیان یہ مسئلہ بھی ڈسکس ہوا، تو اس عالم دین دوست نے کہا کہ مجھے یہ سودا ٹھیک نہیں لگتا، آپ دار الافتاء سے اس کی رہنمائی لے لیں، اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ ہمارا اس طرح سودا کرنا شرعا درست تھا یا نہیں، اگر درست نہیں تھا تو اب ہمارے لئے کیا حکم ہے۔
جواب
سوال میں بیان کردہ تفصیل کے مطابق آپ دونوں کے درمیان ہونے والے خرید و فروخت کے معاہدے میں، دوبارہ اسی بائع (یعنی آپ) کو بیچنے کی شرط موجود ہے، جو کہ ناجائز و فاسد شرط ہے کہ اس میں بائع کا فائدہ ہے اور بیع میں عقد کے تقاضے کے خلاف کوئی ایسی شرط لگانا جس میں عاقدین میں سے کسی ایک یا مبیع کا فائدہ ہو اور اس شرط پر عرف بھی جاری نہ ہو اور شریعت میں اس کا جواز بھی وارد نہ ہوا ہو تو ایسی شرط مفسد عقد ہوتی ہے لہذا آپ دونوں کا اس شرط کے ساتھ خرید و فروخت کرنا ناجائز و فاسد ہو ا، آپ دونوں گناہ گار ہوئے اور دونوں پر لازم تھا کہ اس شرط کے ساتھ کی گئی بیع کو ختم کریں۔
پھر جب آپ کے دوست نے وہی پراپرٹی واپس آپ کو بیچ دی تو یہ بیع منعقد نہ ہوئی بلکہ پچھلی بیع فاسد کا متارکہ ہو گیا یعنی سابقہ سودا ختم ہو گیا کیونکہ قوانین شرعیہ کے مطابق بیع فاسد کے ساتھ خریدی ہوئی چیز کسی بھی نام سے بائع کے پاس واپس چلی جائے تو اس سے بیع فاسد کا متارکہ ہو جاتا ہے۔ اس تفصیل کے مطابق صورت مسئولہ میں آپ بدستور اس پراپرٹی کے مالک ہیں، لہذا آپ پر لازم ہے کہ اپنے دوست سے لیے ہوئے ایک کروڑ روپے اگر موجود ہوں تو بعینہ وہی واپس کر دیں اور اگر وہ خرچ ہو گئے ہیں تو اتنی رقم یعنی ایک کروڑ روپے اپنے پاس سے ادا کریں، اس کے علاوہ مزید کوئی رقم دینا آپ پر لازم نہیں، نیز بیع فاسد کے معاہدے کی وجہ سے آپ دونوں گناہ گار بھی ہوئے، لہذا اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں توبہ کریں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم مصمم بھی کریں۔
نصب الرایہ میں طبرانی کے حوالہ سے ہے: "ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نھی عن بیع و شرط۔" بے شک نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بیع اور (اس میں) شرط سے منع فرمایا۔ (نصب الرایہ، ج 4، ص 43، مطبوعہ: بیروت)
تنویر الابصار و در مختار میں ہے: "الاصل الجامع فی فساد العقد بسبب شرط (لا یقتضیہ العقد ولا یلائمہ و فیہ نفع لاحدھما او) فیہ نفع (لمبیع) ھو (من اھل الاستحقاق ولم یجر العرف بہ و ) لم (یرد الشرع بجوازہ) ۔ملخصا" شرط کے سبب عقد (بیع) کے فاسد ہونے میں جامع اصل (قاعدہ) یہ ہے کہ (وہ شرط ایسی ہو) جس کا عقد تقاضا نہ کرتا ہو اور نہ وہ شرط عقد کے مناسب ہو اور اس میں ان (بائع و مشتری) دونوں میں سے کسی ایک کو نفع ہو یا مبیع کا نفع ہو جبکہ وہ اہل استحقاق میں سے ہو، اور اس (شرط) پر (تاجروں کا) عرف بھی جاری نہ ہو اور نہ ہی شریعت میں اس کے جواز (کا حکم) وارد ہو۔ ملخصا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 7، ص283، 284، مطبوعہ: کوئٹہ)
خلاصۃ الفتاوی میں پہلی بیع میں دوسری بیع کے مشروط ہونے کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "ولو اشتری شیئاً لیبیعہ من البائع فالشراء فاسد۔" اور کسی نے کوئی چیز خریدی (اس شرط کے ساتھ) کہ وہ (دوبارہ) بائع کو بیچ دے گا تو خریداری فاسد ہے۔ (خلاصۃ الفتاوی، ج 3، ص 50، مطبوعہ: کوئٹہ)
سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن پہلی بیع میں دوسری بیع کے مشروط ہونے کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اگر عقد بیع میں یہ (دوسری بیع کی) شرط کی یا بیع میں تو اس کی ذکر نہ تھا مگر پہلے سے باہم قرارداد ہوئی تھی کہ یوں کریں گے اور یہ شرط ہوگی پھر اسی قرار داد پر یہ بیع کی تو دونوں صورتوں میں (بیع) حرام ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج17، ص173، مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن لاہور)
تنویر الابصار و در مختار میں بیع فاسد کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "(و) یجب (علی کل واحد ممھما فسخہ قبل القبض او بعدہ مادام) المبیع بحالہ.جوھرۃ (فی ید المشتری اعداماً للفساد) لانہ معصیۃ فیجب رفعھا۔بحر۔ملخصاً" اور متعاقدین میں سے ہر ایک پر مبیع پر قبضہ سے پہلے یا قبضہ کے بعد جب تک مبیع مشتری کے پاس اپنی حالت پر باقی ہو، اس بیع کا فسخ کرنا واجب ہے، فساد کو ختم کرنے کے لئےکیونکہ یہ گناہ ہے اور گناہ کو دور کرنا واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار ج 7، ص 293، مطبوعہ: کوئٹہ)
بیع فاسد کے ساتھ خریدی ہوئی چیز اگر کسی بھی نام سے دوبارہ بائع کے پاس واپس پہنچ جائے، تو بیع فاسد کا متارکہ ہو جائے گا ۔ چنانچہ اس کے متعلق تنویر الابصار و در مختار میں ہے: "(وکل مبیع فاسد ردہ المشتری علی بائعہ بھبۃ او صدقۃ او بیع او بوجہ من الوجوہ) کاعارۃ واجارۃ وغصب (ووقع فی ید بائعہ فھو متارکۃ للبیع)" بیع فاسد میں مبیع کو اگر مشتری نے بائع کے لیے ہبہ کر دیا یا صدقہ کر دیا یا بائع کے ہاتھ بیچ ڈالا یا (اس کے علاوہ) وجوہ میں سے کسی وجہ کے ساتھ جیسے عاریت، اجارہ، غصب، ودیعت کے ذریعے وہ چیز بائع کے ہاتھ میں پہنچ گئی بیع کا متارکہ ہو گیا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 7، ص 294، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے: "بیع فاسد میں مبیع کو اگر مشتری نے بائع کے لیے ہبہ کر دیا یا صدقہ کر دیا یا بائع کے ہاتھ بیچ ڈالا یا عاریت، اجارہ، غصب، ودیعت کے ذریعے غرض کسی طرح وہ چیز بائع کے ہاتھ میں پہنچ گئی بیع کا متارکہ ہو گیا ۔" (بہار شریعت، ج 2، ص 715، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اس صورت میں اگر بعینہ وہی رقم موجود ہو تو خریدار کو وہی رقم واپس کرنی ہوگی، ورنہ اس کی مثل ادا کرے۔ چنانچہ ہدایہ میں ہے: "ثم ان کانت دراھم الثمن قائمۃ یاخذ ھا بعینھا لانھا تتعین فی البیع الفاسد وھو الاصح لانہ بمنزلۃ الغصب وان کانت مستھلکۃ اخذ مثلھا" پھر اگر ثمن کے دراہم موجود ہو تو مشتری بعینہ انہیں کو واپس لے گا کیونکہ بیع فاسد میں دراہم معین ہو جاتے ہیں اور یہی زیادہ صحیح قول ہے کیونکہ بیع فاسد غصب کی طرح ہے اور اگر ہلاک ہو گئے ہوں تو ان کی مثل اتنے لے گا۔ (ہدایہ مع فتح القدیر، ج 6، ص 101، مطبوعہ: کوئٹہ)
یونہی رد المحتار میں ہے: "اذا باع فاسدا و قبض دراھم الثمن ثم فسخ العقد یجب رد تلک الدراھم بعینھا علی المشتری، لان الاصح تعینھا فی البیع الفاسد" جب بیع فاسد کے بعد ثمن کے دراہم پر قبضہ کر لیا، پھر عقد کو فسخ کر دیا، تو بعینہ وہی دراہم مشتری کو لوٹانا واجب ہے، کیونکہ اصح بیع فاسد میں دراہم کا متعین ہو جانا ہے۔ (رد المحتار ج 7، ص 304، مطبوعہ: کوئٹہ )
بہار شریعت میں ہے: "بیع فاسد کو فسخ کر دیا تو بائع مبیع کو واپس نہیں لے سکتا جب تک ثمن یا قیمت واپس نہ کرے پھر اگر بائع کے پاس وہی روپے موجود ہیں تو بعینہ انہیں کو واپس کرنا ضروری ہے اور خرچ ہو گئے تو اتنے ہی روپے واپس کرے۔" (بہار شریعت، ج 2، ص 716، مطبوعہ: مکتبۃ السمدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: har-7441
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ/25 مئی 2026ء