پلاٹ کی مکمل قیمت ادا کرنے سے پہلے آگے بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
چیز خریدنے کے بعد قیمت مکمل ادا کرنے سے پہلے آگے بیچنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
صورت مسئولہ میں جب پلاٹ کو عقد صحیح کے ساتھ خرید لیا گیا تو وہ آپ کی ملکیت میں آگیا، اگرچہ اس کی قیمت مکمل ادا نہیں ہوئی لہذاآپ اس پلاٹ کو آگے کسی تیسرے فرد کو عقد صحیح کے ساتھ بیچ سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
مختصر القدوری میں ہے ”و إذا حصل الإيجاب و القبول لزم البيع و لا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية ۔ ۔ ۔ ۔ و يجوز البيع بثمن حال و مؤجل إذا كان الأجل معلوما“ ترجمہ: اور جب ایجاب و قبول پایاجائے تو بیع لازم ہوجاتی ہے اور ان میں سے کسی کوبھی اختیار نہیں ہوتا مگر عیب کی وجہ سے یا نہ دیکھنے کی وجہ سے اور بیع درست ہے نقد ثمن کے ساتھ اور ادھار ثمن کے ساتھ جبکہ مدت معلوم ہو۔ (مختصر القدوری، کتاب البیوع، ص 78،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
تبیین الحقائق میں ہے ”يزول ملكه عن المبيع بمجرد القبول قبل أداء الثمن اه“ ترجمہ: بیچنے والے کی ملکیت، بیچی گئی چیزسے ختم ہوجاتی ہے محض قبول کرنے سے ہی، ثمن کی ادائیگی سے پہلے ہی۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الاعتاق، ج 03، ص 390، کوئٹہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے: ”و لو اشتراه بأكثر من الثمن الأول قبل نقد الثمن أو بعده جاز ۔ ۔ ۔ و لو باع المشتري من رجل ثم إن البائع الأول اشتراه من المشتري الثاني بأقل مما باع جاز“ ترجمہ: اور اگر بیچنے والا، بیچی گئی چیزکو خریدار سے پہلے ثمن سے زیادہ کے بدلے خریدے ثمن کی ادائیگی سے پہلے یا بعد جائز ہے۔ اور اگر خریدار نے کسی شخص کوفروخت کردی پھرپہلے بائع نے اس کودوسرے خریدار سے اس ثمن سے کم میں خریدی جتنے میں اس نے بیچی ہے تویہ جائزہ ے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب البیوع، الباب التاسع، ج 03، ص 132، کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں سوال ہوا "کسی اراضی کا بیع کامل کب ہو سکتا ہے جبکہ مشتری پورا زر ثمن ادا کردے اگر مشتری پورانہ اداکرے تو تا ادائے زرثمن کے اس اراضی کا حاصلات مشتری کو حلال اور مباح ہے یا نہیں۔"
اس کے جواب میں امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا: ”بیع ایجاب وقبول سے تمام ہوجاتی ہے، چیز بائع کے ملک سے نکل کر مشتری کی ملک میں داخل ہوجاتی ہے ہاں پہلے مشتری کو چاہئے کہ ثمن اداکرے، بائع کو اختیار ہے کہ جب تک ثمن نہ لے مبیع سپرد نہ کرے لیکن اگر اس نے بعض یا کل ثمن لینے سے پہلے مبیع اس کے قبضہ میں دے دی تو اس سے جو کچھ منافع حاصل ہوں ملک مشتر ی ہیں مشتری کے لئے حلال ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 89، رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11122
تاریخ اجراء: 16 جمادی الآخرۃ 1443ھ / 20 جنوری 2022ء