logo logo
AI Search

اسپین میں ٹیکسی گروپ کے ذریعے ٹیکسی خریدنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

گروپ کی ممبر شپ کے ذریعے ٹیکسی خریدنے کی ایک ناجائز صورت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اسپین میں ٹیکسی لائسنس کی خریداری کے لیے بینک سے قرض لینے کی بجائے ایک اور طریقہ اپنایا جاتا ہے جسے ٹیکسی گروپ کہتے ہیں، اس میں شامل ہونے والے ہر ممبر کو دیگر ممبران ٹیکسی لائسنس خریدنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کی شرائط درج ذیل ہیں، ان کے مطابق کیا ایسے ٹیکسی گروپ میں شامل ہونا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

کمپنی اے بی سی کے تحت ٹیکسی لینے کے لیے دس افراد پر مشتمل ایک گروپ ہوگا، جس کے اصول و ضوابط یہ ہیں: (1) گروپ کا حصہ بننے کے لیے ٹیکسی کی قیمت کی 10 فیصد رقم ہونا ضروری ہے، مثلاً ٹیکسی کی قیمت 1 لاکھ 70 ہزار ہو تو ہر ممبر کو 17 ہزار یورو جمع کروانے ہوں گے۔ (2) جس کے نام ٹیکسی لگے گی وہ گروپ مکمل ہونے تک گروپ کے ساتھ قانونی طور پر رہنے کا پابند ہو گا۔ (3) سب سے پہلے ٹیکسی لینے والا اپنی آمدن کا 45 فیصد خود رکھے گا اور باقی رقم کمپنی میں جمع کرواتا رہے گا، جب سب ممبر دوسری ٹیکسی لینے پر متفق ہو جائیں گے تو پہلی ٹیکسی سے حاصل شدہ رقم اور بقیہ ممبران اپنا اپنا حصہ ڈال کر دوسری ٹیکسی خریدیں گے، اب دو ٹیکسیوں کی آمدن کا 55 ، 55 فیصد جمع ہوتا جائے گا۔ (4) پھر وقت مناسب پر دوسری ٹیکسی کی طرح تیسری خریدی جائے گی، اسی طرح کرتے ہوئے گروپ مکمل ہو گا یعنی ہر فرد کے نام اپنی ٹیکسی ہو جائے گی، اس کا دورانیہ تقریباً 4 سال ہوگا۔ (5) ٹیکسی REGISTROمیں رجسٹرڈ ہوگی جب تک گروپ مکمل نہیں ہوتا کوئی ممبر اسے بیچ نہیں سکے گا۔ (6) جس ممبر کے نام ٹیکسی لگے گی وہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ہر مہینے فیصد کے حساب سے منافع کمپنی اے بی سی کے پاس جمع کروائے۔ (7) اگر کوئی ممبر ایک، دو یا تین ٹیکسیاں خریدے جانے کے بعد وفات پا جائے تو اس کا حساب کر کے اس کے وارث کو مع منافع پیسے ادا کیے جائیں گے۔ (8) اگر کوئی ممبر ایک، دو یا تین ٹیکسیاں خریدے جانے کے بعد گروپ سے نکلنا چاہے تو اس کا حساب کیا جائے گا، پانچ ماہ اس کے جمع کروائے ہوئے پیسے بطور قرض کمپنی اے بی سی کے پاس رہیں گے، کمپنی پانچ ماہ میں پیسے واپس کرنے کی پابند ہو گی۔ (9) اگر کوئی ممبر تین سے زیادہ ٹیکسیاں خریدے جانے کے بعد گروپ سے نکلتا ہے تو اس کو اس کی اصل رقم ادا کی جائے گی اور وہ ادائیگی تب ہوگی جب اس کی جگہ دوسرا کوئی فرد مل جائے گا۔ (10) کمپنی اے بی سی اپنی سروسز (مینجمنٹ وغیرہ) فراہم کرنے کے چارجز لے گی جو کہ کل آمدن پر تین فیصد کے حساب سے ہوں گے۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں ایسے گروپ کا ممبر بننا شرعاً ناجائز و ممنوع ہے؛ کیونکہ بیان کردہ اصول و ضوابط میں کئی قباحتیں اور خلاف شرع امور ہیں، ان میں سے بنیادی ترین چیز یہ کہ شرعی نقطۂ نظر سے وہ پیسے جو ٹیکسی خریدنے کے لیے ایک ممبر کے ہاتھ آئیں گے وہ دیگر ممبران کی طرف سے اکثر طور پر قرض کی حیثیت رکھیں گے، جن کے بدلے اضافی رقم دینا طے ہے؛ کہ جب تک گروپ ختم نہیں ہو جاتا ماہانہ آمدن کا 55 فیصد حصہ دینا لازم رکھا گیا ہے، اس طور پر ممبر جو رقم تقریباً چار سال کے دوران جمع کرواتا رہے گا وہ اصل قرض کی رقم سے لازماً زیادہ ہوگی، جیسا کہ ٹیکسی سیکٹر (Taxi Sector) میں کام کرنے والوں میں معروف ہے اور جو چیز معروف ہو وہ مشروط ہی کی مانند ہوتی ہے، اور قرض پر مشروط نفع سود ہے جو کہ قطعی طور پر حرام ہے، پس اس طرح بعض ممبران سود دینے اور بعض سود لینے کے ملعون فعل میں گرفتار ہوں گے۔ اس کے علاوہ کمپنی کا سروسز چارجز لینے کا طریقہ بھی ناجائز ہے؛ کیونکہ عقد اجارہ صحیح ہونے کے لیے اجرت کا معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے، جبکہ اس صورت میں کل آمدن کا تین فیصد حصہ ہر ماہ کتنا بنے گا، یہ معلوم نہیں، لہذا اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے یہ عقد اجارہ فاسد ہوا اور ایسا عقد کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ پس مذکورہ شرائط کے ساتھ کسی گروپ میں شامل ہونے کی شرعاً اجازت نہیں ہوگی۔

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔ (پارہ 3، سورۃ البقرۃ 2، آیت 275)

صحیح مسلم، سنن الکبری للبیہقی، جمع الجوامع، مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے: ”عن جابر قال: لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم آكل الربا و موكله و كاتبه و شاهديه و قال: هم سواء“ ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی، اور ارشاد فرمایا: یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔ (صحيح المسلم، كتاب البيوع، باب لعن آكل الربا ومؤكله، جلد 5، صفحہ 50، حدیث 1598، دار الطباعة العامرة، تركيا)

امام شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 483ھ / 1090ء) لکھتے ہیں: ”و المعلوم بالعرف كالمشروط بالنص“ ترجمہ: اور جو چیز عرف کے ذریعے معلوم ہو، وہ صراحت کے ساتھ شرط کی گئی چیز کی مانند ہے۔ (المبسوط للسرخسي، كتاب الإجارات، باب إجارة الدور والبيوت، جلد 15، صفحہ 130، دار المعرفة، بیروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”ان اقرض نوط عشرۃ و شرط ان یرد المستقرض اثنتی عشرۃ ربیۃ او احدی عشرۃ او عشرۃ وقطعۃ مثلاحالا او مالا منجما او غیر منجم فھذا حرام و ربا قطعا لانہ قرض جر نفعا و قد قال سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربا، رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالی وجهہ“ ترجمہ: اگر کوئی شخص دس روپے قرض دے اور یہ شرط کر لے کہ قرض لینے والا بارہ روپے، یا گیارہ روپے، یا دس روپے کے ساتھ مثلاً کچھ آنے اوپر لوٹائے گا، خواہ ابھی یا کچھ مدت بعد، قسط بندی سے یا بلا قسط ، تو یہ حرام اور قطعی سود ہے؛ کیونکہ یہ ایسا قرض ہے جس نے نفع کھینچا۔ حالانکہ ہمارے سردار رسول مختار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: "ہر وہ قرض جو کوئی نفع کھینچ کر لائے تو وہ سود ہے۔" اس حدیث کو حارث بن ابی اسامہ نے امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کیا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 493-494، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”بر بنائے قرض کسی قسم کا نفع لینا مطلقاً سود و حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 223، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

علامہ ابوبکر بن علی الحدادی الزبیدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 800ھ/1397ء) لکھتے ہیں: ”و لا يصح حتى تكون المنافع معلومة و الأجرة معلومة لأن الجهالة في المعقود عليه و بدله يفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن و المبيع ثم الأجرة إذا كانت دراهم شرط فيها بيان المقدار“ ترجمہ: اور عقد اجارہ صحیح نہیں ہوتا یہاں تک کہ منافع معلوم ہوں اور اجرت معلوم ہو؛ کیونکہ معقود علیہ اور اس کے بدل میں جہالت جھگڑے تک پہنچا دیتی ہے، جیسے ثمن اور مبیع کی جہالت۔ پھر جب اجرت دراہم کی صورت میں ہو تو اس میں (دراہم کی) مقدار کا بیان شرط ہے۔ (الجوهرة النيرة، کتاب الاجارة، جلد 1، صفحہ 259، المطبعة الخيرية)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”اجارہ جو امر جائز پر ہو، وہ بھی اگر بے تعین اجرت ہو تو بوجہ جہالت اجارہ فاسدہ اور عقد حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 529، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”جو اجارے شرعاً جائز ہیں، ان میں بھی اجرت مجہول رکھی جانا اسے حرام کر دیتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 418، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتوی نمبر: FAM-1289
تاریخ اجراء: 23 صفر المظفر 1448ھ / 07 اگست 2026ء