غیر مسلم ملک میں شراب بیچنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
غیر اسلامی ممالک میں غیر مسلم کو شراب بیچنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
عند الشرع شراب کی خرید و فروخت کرنا اور اس کا ثمن (شراب سے حاصل شدہ آمدنی) کھانا، سخت ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس کی خرید و فروخت کرنے والے پر اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے لعنت فرمائی ہے۔ لہذا شراب بیچنے کا کاروبار کرنا، یورپ و غیر اسلامی ممالک میں ہو، خواہ اسلامی ممالک میں، کھلی یا بند ایک بوتل بیچیں، خواہ پورا کاٹن یا ڈبہ کھولے بغیر بیچیں، مسلمان کے ہاتھ فروخت کریں یا کافر کے ہاتھ فروخت کریں بہر صورت حرام اور موجب لعنت ہے کہ شراب جس طرح مسلمانوں پر حرام ہے یونہی کفار پر بھی حرام ہے کیونکہ صحیح قول کے مطابق شراب و خنزیرکی حرمت کفار کے حق میں بھی ثابت ہے کہ وہ بھی ان احکام کے مکلف ہیں۔
اللہ عزوجل و رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے شراب کی خرید و فروخت حرام فرمائی ہے، چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے ’’إن اللہ و رسوله حرم بيع الخمر، و الميتة، و الخنزير، و الأصنام‘‘ ترجمہ: اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم نے شراب و مُردار و خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے۔ (صحیح مسلم، جلد 3، صفحہ 1207،دار احياء التراث العربی، بيروت)
شراب کی خرید و فروخت کرنے والوں پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے چنانچہ سنن ابی داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ سے روایت کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا: لعن اللہ الخمر، و شاربها، و ساقيها، و بائعها، و مبتاعها، و عاصرها، و معتصرها، و حاملها،و المحمولة إليه“ ترجمہ: اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے شراب پر، اور جو اسے پئے، جو پلائے، جو بیچے، جو خریدے، جو نچوڑے، جو نچڑوائے، جو اٹھا کر لائے اور جس کے لئے اٹھا کر لائی جائے۔ (سنن ابی داؤد، كتاب الأشربة، باب العنب يعصر للخمر، جلد 3، صفحہ 326، حدیث: 3674، مطبوعہ بیروت(
شراب کی خرید و فروخت کرنے والوں پر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے لعنت فرمائی ہے چنانچہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے ’’عن أنس بن مالك قال: لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فی الخمرعشرة: عاصرها و معتصرها و شاربها و حاملها و المحمولة إليه و ساقيها و بائعها و آكل ثمنها و المشتري لها و المشتراة له‘‘ ترجمہ: حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے شراب کے معاملہ میں دس لوگوں پر لعنت فرمائی ہے: (1) شراب بنانے والا (2) بنوانے والا (3) پینے والا (4) پلانے والا (5) اُٹھانے والا (6) اُٹھوانے والا (7) بیچنے والا (8) اس کی قیمت کھانے والا (9) خریدنے والا اور (10) خریدوانے والا۔ (سنن ترمذی، جلد 3، صفحہ 183، شركة مكتبة و مطبعة مصطفى البابی الحلبی، مصر)
المبسوط للسرخسی میں ہے ’’و لا يحل للمسلم بيع الخمر و لا أكل ثمنها‘‘ ترجمہ: مسلمان کے لئے شراب کوبیچنا اور اس کا ثمن کھانا حلال نہیں ہے۔ (المبسوط للسرخسی،جلد13،صفحہ137،دار المعرفة ، بيروت)
الجوھرۃ النیرۃ میں ہے ’’و لا يجوز بيع الخمر و الخنزير لأنهما حرام‘‘ ترجمہ: خنزیر اور شراب کو بیچنا جائز نہیں ہیں کیونکہ یہ دونوں حرام ہیں۔ (الجوهرة النيرة، جلد 1، صفحہ 220، المطبعة الخيرية، بیروت)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: شراب کا بنانا، بنوانا، چھونا، اٹھانا، رکھنا، رکھوانا، بیچنا، بکوانا، مول لینا، دلوانا سب حرام حرام حرام ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 565، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
شراب کی خرید و فروخت کفار کے ساتھ بھی جائز نہیں کہ وہ بھی محرمات کے مخاطب و مکلف ہیں چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے”حرمة الخمر و الخنزير ثابتة في حقهم كما هي ثابتة في حق المسلمين؛ لأنهم مخاطبون بالحرمات و هو الصحيح عند أهل الأصول“ ترجمہ: شراب اور خنزیر کی حرمت کفار کے حق میں بھی ایسے ہی ثابت ہے جیسے مسلمانوں کے حق میں ثابت ہے کیونکہ اصولیوں کے نزدیک صحیح قول کے مطابق کفار بھی محرمات کے مکلف ہیں۔ (بدائع الصنائع، کتاب السیر، جلد 6، صفحہ 83، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ شامی رحمۃاللہ علیہ ردالمحتار میں فرماتے ہیں: الحرمۃ ثابتۃ فی حقھم فی الصحیح، لأنھم مخاطبون بھا“ ترجمہ: شراب و خنزیر وغیرہ کی حرمت کفار کے حق میں بھی صحیح قول کے مطابق ثابت ہے کیونکہ ان احکام کا خطاب ان سے بھی ہے۔ (رد المحتار، كتاب البيوع، باب المتفرقات من أبوابها، مطلب في التداوي بالمحرم، جلد 5، صفحہ 229، دار الفکر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ایک مسلمان تاجر، ہوٹل کے مالک سے متعلق سوال ہوا، جس کے ہوٹل میں غیر مسلم لوگ ٹھہرتے تھے اور وہ ان کے لیے شراب وخنزیر کا انتظام کر کے ان کے ہاتھ بیچتا تھا تو اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: حرام حرام حرام اور موجب لعنت۔ (فتاوٰ ی رضویہ، جلد 19، صفحہ 519، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: LAR-10307
تاریخ اجراء: 15 جمادی الاولی 1442ھ / 31 دسمبر 2020ء