پرفیوم کا کاروبار کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
پرفیوم کا کاروبار کرنے کا شرعی حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پرفیوم خواہ نان الکحل ہو یا الکحل والی، دونوں صورتوں میں اس کا کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے۔ نان الکحل پرفیوم کے کاروبار کے ناجائز ہونے کی کوئی شرعی وجہ نہیں۔ رہی الکحل والی پرفیوم، تو فی زمانہ کثیر علمائے کرام نے عمومِ بلویٰ اور حاجت کے پیشِ نظر خارجی استعمال کی تمام اشیاء میں، اور کھانے پینے کی اشیاء میں سے صرف ادویات میں بطورِ علاج، الکحل کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ چونکہ الکحل والا پرفیوم بھی خارجی استعمال کی چیز ہے، اس لیے اس کا استعمال بھی شرعاً جائز ہے۔ لہٰذا جب اس کا استعمال شرعاً جائز ہے تو اس کی خرید و فروخت اور کاروبار بھی شرعاً جائز ہوگا، کیونکہ جس چیز سے شرعاً نفع اٹھانا، جائز ہو، اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہوتی ہے۔
عموم بلویٰ کی وجہ سے نجاسات میں تخفیف کا حکم دیا جاتا ہے، اس سے متعلق امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: پڑیا کی نجاست پر فتوی دئیے جانے میں فقیر کو کلام کثیر ہے،ملخص اس کا یہ کہ پڑیا میں اسپرٹ کا ملنا اگر بطریقہ شرعی ثابت بھی ہو تو اس میں شک نہیں کہ ہندیوں کو اس کی رنگت میں ابتلائے عام ہےاور عموم بلوے نجاست متفق علیھا میں باعث تخفیف”حتی فی موضع النص القطعی کما فی ترشش البول قدر رؤس الابر کما حققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر“ ترجمہ: (عموم بلوی تخفیف کا باعث ہے) حتی کہ نص قطعی کی جگہ میں بھی ،جیسا کہ سوئی کے سرے برابر پیشاب کے چھینٹے (باعث تخفیف ہیں)۔ جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے۔ ( فتاوی رضویہ جلد 4، صفحہ 381، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
عموم بلوی کی وجہ سے رخصت سے متعلق، امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ شریف میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: بادامی رنگ کی پڑیا میں تو کوئی مضائقہ نہیں، اور رنگت کی پڑیا سے ورع کے لئے بچنا اولی ہے۔ پھر بھی اس سے نماز نہ ہونے پر فتوی دینا آج کل سخت حرج کا باعث ہے، و الحرج مدفوع بالنص و عموم البلوی من موجبات التخفیف لا سیما فی مسائل الطھارۃ و النجاسۃ“ ترجمہ: نص سے ثابت ہے کہ حرج کو دفع کیا جائے گا اور عموم بلوی اسبابِ تخفیف سے ہے، خصوصا طہارت و نجاست کے مسائل میں۔ لہذا اس مسئلہ میں مذہب حضرت امام اعظم و امام ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنھما سے عدول کی کوئی وجہ نہیں، ہمارے ان اماموں کے مذہب پر پڑیا کی رنگت سے نماز بلا شبہ جائز ہے، فقیر اس زمانے میں اسی پر فتوی دینا پسند کرتا ہے۔ ( فتاوی رضویہ۔ جلد 4، صفحہ 390، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مزید ایک مقام پر امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: و لسنا نعنی بھذا ان عامۃ المسلمین اذا ابتلوا بحرام حل بل الامر ان عموم البلوی من موجبات التخفیف شرعا وما ضاق الامر الا اتسع فاذا وقع ذلک فی مسئلۃ مختلفۃ فیھا ترجح جانب الیسر صونا للمسلمین عن العسر و لا یخفی علی خادم الفقہ ان ھذا کما ھو جار فی باب الطھارۃ و النجاسۃ کذلک فی باب الاباحہ و الحرمۃ“ ترجمہ: ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ عام مسلمان اگر کسی حرام میں مبتلا ہوجائیں تو وہ حلال ہوجاتا ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ عموم بلوی شرعی طور پر اسبابِ تخفیف میں سے ہے، کوئی تنگی نہیں جس میں وسعت نہ پیدا ہو، جب یہ معاملہ ایک اختلافی مسئلہ میں واقع ہوا تو مسلمانوں کو تنگی سے بچانے کے لئے آسانی کی جانب کو ترجیح ہوگی،خادمِ فقہ پر پوشیدہ نہیں کہ جیسے یہ ضابطہ طہارت و نجاست میں جاری ہےایسے ہی حرمت و اباحت میں بھی جاری ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 25، صفحہ 89، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی اپنی تصنیف جدید مسائل پر علماء کی رائیں اور فیصلے میں فرماتے ہیں: اس عہد میں (اسپرٹ یا الکحل آمیز) انگریزی دواؤں کا استعمال عموم بلوی کی حد تک پہنچ چکا ہے،مجدد اعظم اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے پڑیا کی رنگت کے بارے میں عموم بلوی اور دفع حرج کی بنیاد پر طہارت اور جواز کا فتوی دیا ہے، اس ارشاد کی روشنی میں فیصل بورڈ کے ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ مذکورہ انگریزی دواؤں کے استعمال کی بھی بوجہ عموم بلوی ( دفع حرج کے لئے ) اجازت ہے، البتہ یہ اجازت صرف انھیں صورتوں کے ساتھ خاص ہے جن میں ابتلائے عام اور حرج متحقق ہو۔
مزید آگے فرماتے ہیں: میز، کرسی، دیوار وغیرہ میں جو رنگ استعمال ہوتے ہیں، اگر بطریق شرعی ثابت بھی ہو کہ ان میں اسپرٹ کی آمیزش ہے تو بھی اب بوجہ عموم بلوی و دفعِ حرج حکمِ طہارت ہے،جیسا کہ رنگین کپڑوں کے بارے میں مجددِ اعظم اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے بوجہ عموم بلوی حکمِ طہارت دیا ہے و اللہ تعالی اعلم۔ (جدید مسائل پر علماء کی رائیں اور فیصلے،جلد 1، صفحہ 130، مطبوعہ اکبر بک شیلرز لاہور)
بیع اسی چیز کی جائز ہوتی ہے جس کا استعمال شرعاً جائز ہو، چنانچہ فتاویٰ اجملیہ میں ہے: جوازِ بیع کا مدار شی کے مباح الانتفاع ہونے پر اور عدم جواز بیع کا حکم اس کے غیر مباح الانتفاع ہونے پر موقوف ہے۔ (فتاوٰی اجملیہ، جلد 03، صفحہ 468، شبیر برادرز، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: AIK-2916
تاریخ اجراء: 08 صفر المظفر 1448ھ / 23 جولائی 2026ء