logo logo
AI Search

سفر میں عورت کا محرم مسلمان ہونا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا عورت اپنے غیر مسلم بھائی کے ساتھ سفر کر سکتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بھائی اگر غیر مسلم ہو تو کیا وہ محرم بن جائے گا؟ کیا اس کے ساتھ عورت سفر پر جاسکتی ہے؟ کیا عورت اس کے ساتھ تنہائی اختیار کرسکتی ہے؟

جواب

محرم بننے کیلئے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے بلکہ غیرمسلم بھی نسبی یا رضاعت یا سسرالی رشتے کے اعتبار سے اگر محرم بنتا ہے تو وہ محرم ہی کہلائے گا، البتہ سفر پر جانے کیلئے محرم کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ محرم عاقل ہو مجنون نہ ہو، بالغ یا بالغ کے حکم میں ہو، بالغ کے حکم میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ مراھق یعنی بالغ ہونے کے قریب ہو، فقہاء نے اس معاملے میں مراھق کو بھی بالغ کی طرح ہی شمار کیا ہے، اس کے ساتھ بھی عورت سفر کرسکتی ہے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ اس سے فتنے کا اندیشہ نہ ہو، اگر فتنے کا اندیشہ ہو گا تو اگرچہ محرم ہو، اس کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں ہوگا، اسی لئے فقہاء نے مجوسی محرم کے ساتھ سفرکرنے کی اجازت نہیں دی کہ مجوسیوں کے ہاں چونکہ محرمات سے نکاح جائز ہے اس لئے اس سے فتنے کا اندیشہ موجود ہے۔ اسی طرح اگر بالفرض کوئی مسلمان محرم بھی ایسا ہو جس سے فتنے کا اندیشہ ہو تو اس کے ساتھ سفر کرنا بھی جائز نہیں ہوگا، لہذا پوچھی گئی صورت میں بھائی اگرچہ غیر مسلم ہو وہ محرم بھی ہے اور اگر اس سے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اس کے ساتھ سفر پر جانا بھی جائز ہے۔ یہی حکم تنہائی اختیار کرنے کا بھی ہے کہ اگر فتنے کا اندیشہ ہے تو غیر مسلم ہو یا مسلمان محرم، کسی کے ساتھ بھی تنہائی اختیار نہیں کرسکتی، اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو تنہائی اختیار کرنے میں بھی حرج نہیں ہے۔

رشتہ کے اعتبار سےغیر مسلم بھی محرم بن سکتا ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: صفة المحرم أن يكون ممن لا يجوز له نكاحها على التأبيد إما بالقرابة، أو الرضاع، أو الصهرية لأن الحرمة المؤبدة تزيل التهمة فی الخلوة و لھذا قالوا ان المحرم اذا لم یکن مأمونا علیھا لم یجز لھا أن تسافر معہ و سواء كان المحرم حرا أو عبدا لأن الرق لا ينافی المحرمية، و سواء كان مسلما أو ذميا أو مشركا، لأن الذمی، و المشرك يحفظان محارمهما۔ محرم وہ ہے جس سے نکاح ہمیشہ کیلئے جائز نہ ہو، چاہے قرابت کے ذریعے، چاہے رضاعت کے ذریعے، چاہے سسرالی رشتے کے ذریعے ہو، کیونکہ ہمیشہ کی حرمت اس تہمت کو زائل کردیتی ہے جو تنہائی اختیار کرنے میں لگتی ہے، اسی وجہ سے فقہاء نے فرمایا کہ محرم جب امن والا نہ ہو تو عورت کا اس کے ساتھ سفرکرنا، جائز نہیں ہے، اور محرم ہونے میں سب برابر ہیں چاہے محرم مسلمان ہو یا ذمی ہو یا مشرک ہو، کیونکہ ذمی اور مشرک بھی اپنے محارم کی حفاظت کرتے ہیں۔ (جس طرح مسلمان کرتے ہیں) (بدائع الصنائع جلد 2، صفحہ 300، مطبوعہ کوئٹہ)

الجوھرۃ النیرۃ میں محرم کے بارے میں فرمایا: هو كل من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد سواء كان بالرحم أو بالصهورية أو بالرضاع و سواء كان حرا أو عبدا أو ذميا و أما المجوسی فليس بمحرم و الصبی و المجنون ليس بمحرم و المراهق كالبالغ۔ محرم وہ ہوتا ہے کہ جس سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نکاح حرام ہو، چاہے وہ نسب کے اعتبار سے ہو یا سسرالی رشتہ کے اعتبار سے یا رضاعی رشتے کے اعتبار سے، چاہے وہ آزاد ہو یا غلام ہو یا ذمی ہو، مجوسی محرم نہیں ہے، ناسمجھ بچہ اور مجنون محرم نہیں ہیں، البتہ مراھق، بالغ کی طرح محرم ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ جلد 1، صفحہ 362، مطبوعہ لاہور)

طوالع الانوار لشرح الدر المختار میں ہے: فی الخلاصۃ و البزازیۃ فی کتاب النکاح قبیل فصل النفقات ان لھا السفر مع المراھق۔ ترجمہ: خلاصہ اور بزازیہ کے کتاب النکاح میں فصل النفقات سے کچھ پہلے ذکر فرمایا کہ عورت کیلئے مراھق کے ساتھ سفر کرنا، جائز ہے۔ (طوالع الانوار مخطوطہ جلد 4، حصہ 1، صفحہ 27)

حاشیہ شرنبلالی علی درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے: و خروج محرم، و لو من رضاع أو مصاهرة، مسلم أو كتابی أو رقيق مأمون عاقل بالغ غير مجوسی“ ترجمہ: عورت کا سفر پر نکلنا محرم کے ساتھ ہو، محرم چاہے رضاعی رشتے کا ہو یا سسرالی رشتے کا، مسلمان ہو یا کتابی ہو یا غلام ہو، جبکہ امن والا ہو، عاقل بالغ ہو، مگر مجوسی نہ ہو۔ (حاشیہ شرنبلالی علی درر الحکام شرح غرر الاحکام جلد 1 صفحہ 216، مطبوعہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے: محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لیے اُس عورت کا نکاح حرام ہے، خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو، جیسے باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ یا دُودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو، جیسے رضا عی بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ یا سُسرالی رشتہ سے حُرمت آئی، جیسے خُسر، شوہر کا بیٹا وغیرہ۔ شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے اُس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے۔ مجنون یا نا بالغ یا فاسق کے ساتھ نہیں جاسکتی۔ آزاد یا مسلمان ہونا شرط نہیں، البتہ مجوسی جس کے اعتقاد میں محارم سے نکاح جائز ہے اُس کے ہمراہ سفر نہیں کرسکتی۔ (بہارشریعت جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1044، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

خلوت یعنی تنہائی کا بھی وہی حکم ہے جو سفر کا ہے کہ فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔ محیط برہانی میں ہے: قال محمد رحمه اللہ: و يجوز له أن يسافر بها، و أن يخلو بها يعنی لمحارمه اذا أمن على نفسه، و هذا لقوله عليه السلام: ”لا يحل لامرأة تؤمن بالله و اليوم الآخر أن تسافر فوق ثلاثة أيام و لياليها إلا و معها زوجها، أو ذي رحم محرم“ فقد أباح للمرأة المسافرة مع ذی الرحم المحرم، و انه يوجب اباحة المسافرة للمحرم معها، و لأن حرمة المسافرة و الخلوة بالأجنبيات لخوف الفتنة بواسطة الشهوة، و الانسان لا يشتهی محارمه غالبا، فصار من هذا الوجه كالخلوة و المسافرة مع الجنس، فان علم أنه يشتهيها، أو تشتهيه لو سافر بها أو خلا بها، أو كان أكثر رأيه ذلك أو شك، فلا يباح له ذلك لما ذكرنا

ترجمہ: امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: مرد کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنی محارم عورتوں کے ساتھ سفرکریں اور تنہائی اختیارکریں، جبکہ اپنے نفس پر اطمینان ہو، یہ اس وجہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتی ہے اس کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ ذی رحم محرم یا شوہر کے بغیر تین دن اور تین راتوں یا اس سے زیادہ کا سفرکرے۔ اس حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عورت کیلئے ذی رحم محرم کے ساتھ سفرکرنا، جائز قرار دیا ہے، اس سے یہ لازم ہوتا ہے کہ محرم، عورت کے ساتھ سفر کرسکتا ہے۔ نیز اجنبیہ عورتوں کے ساتھ سفر اور تنہائی اس لئے حرام ہے کہ اس میں شہوت کی وجہ سے فتنے کا خوف ہے، اور انسان چونکہ غالب طور پر اپنی محارم کے ساتھ شہوت میں نہیں آتا، تو یہ ایسے ہی ہوگیا جیسے اپنی ہی جنس کے ساتھ خلوت یا سفر کیا جائے (یعنی ایسے ہی ہوگیا جیسے مرد، دوسرے مرد کے ساتھ سفر اور تنہائی اختیار کرے یا عورت دوسری عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرے) اگر انسان کو یقین ہو کہ اسے عورت کے ساتھ تنہائی یا سفر میں شہوت ہوگی یا اسے نہیں ہوگی لیکن عورت کو شہوت ہوگی یا اس کا غالب گمان ہو یا شک ہی ہو تو اب سفرکرنا یا تنہائی اختیارکرنا جائز نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ وہی ہے جو ہم نے ذکر کردی ہے۔ (محیط برہانی جلد 5، صفحہ 333، مطبوعہ بیروت)

مبسوط میں محارم کے بارے میں فرمایا: ”إنما يباح المس و النظر اذا كان يأمن الشهوة على نفسه و عليها فأما اذا كان يخاف الشهوة على نفسه أو عليها فلا يحل له ذلك لما بينا أن النظر عن شهوة و المس عن شهوة نوع زنا و حرمة الزنا بذوات المحارم أغلظ و كما لا يحل له أن يعرض نفسه للحرام لا يحل له أن يعرضها للحرام فاذا كان يخاف عليها فليجتنب ذلك“ ترجمہ: محارم کو چھونا یا ان کی طرف نظرکرنا تب مباح ہے جبکہ خود پر بھی اور عورت پربھی شہوت سے اطمینان ہو، اگر خود پر یا عورت پر شہوت کا خوف ہو تو اب دیکھنا، چھونا جائز نہیں ہے اس کی وجہ وہی ہے جو ہم نے بیان کردی ہے کہ شہوت سے دیکھنا اور چھونا بھی زنا کی ایک قسم ہے اور محارم سے زنا کی حرمت بہت سخت ہے، جس طرح اس کیلئے یہ حلال نہیں ہے کہ یہ خود کو حرام کی طرف لے جائے، اسی طرح یہ بھی حلال نہیں ہے کہ اپنی محرم کو حرام کی طرف لے جائے، لہذا (اگرچہ خود پر شہوت سے اطمینان ہو لیکن) اپنی محرم کی طرف سے شہوت کا خوف ہو تب بھی بچنا لازم ہے۔ (مبسوط للسرخسی جلد 10، صفحہ 156، مطبوعہ کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul-3221
تاریخ اجراء: 08 محرم الحرام 1446ھ / 15 جولائی 2024ء