قرآن و حدیث کے مطابق کافر کے عذاب کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا کافر کا عذاب ہلکا ہوسکتا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا یہ درست ہے کہ کافر کا عذاب کچھ وجوہات کی بنا پر ہلکا ہوسکتا ہے؟
جواب
کافر کو ابدی اور حتمی طور پر جہنم کا عذاب دیا ہی جائے گا، جہاں تک کم یا زیادہ عذاب کا تعلق ہے تو یہ ہر کافر کے حساب سے الگ ہو گا۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:” خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ--لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ (162) “ترجمۂ ِ کنز الایمان: ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے۔(سورہ بقرہ، آیت 162)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ” کافر کا عمل اسے کچھ نفع نہیں دیتا البتہ علماء نے فرمایا ہے اور احادیث سے سمجھ آتا ہے کہ جس عمل کا تعلق نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ذاتِ گرامی سے ہو اس سے کافر کو بھی فائدہ ہوتا ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں ہے کہ ابوطالب کے عذاب میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برکت سے کمی ہوئی اور یونہی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کی خوشی میں ابو لہب نے اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تو جس انگلی کے اشارے سے اس نے آزاد کیا تھا اس سے اسے کچھ سیراب کیا جاتا ہے۔ یہی کلام علامہ عینی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ابولہب والی حدیث کے تحت عمدۃ القاری جلد نمبر 14 صفحہ45پر فرمایا ہے۔ “(تفسیر صراط الجنان، جلد1، صفحہ 260، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاھد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2463
تاریخ اجرا: 24ربیع الاول1447ھ/18ستمبر2025ء