کافر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہیں ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا کفار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہیں ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا کفار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہیں؟
جواب
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت عام ہے، کسی فرد، قوم، ملک اور مخلوق کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوقات کے لیے رسول بن کر تشریف لائے ہیں، لہذا تمام انسان ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے اِحاطہ میں ہیں اور امت میں شامل ہیں۔ ہاں! وہ لوگ جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر مسلمان ہوئے، ان کو امت اجابت (دعوت حق قبول کرنے والی امت) کہتے ہیں اور جو لوگ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت پر مسلمان نہیں ہوئے، ان کو امت دعوت (جنہیں دعوت حق پہنچی، لیکن قبول نہ کی) کہا جاتا ہے۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ﴿وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا، لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔ (پارہ 22، سورۃ سبا، آیت 28)
اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اے حبیب! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو صرف آپ کی قوم کے مشرکین کی طرف ہی رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ آپ کو عربی، عجمی، گورے، کالے تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور ایمان والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کے فضل کی خوشخبری دینے والا اور کافروں کیلئے اس کے عدل کا ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن بہت سے لوگ اس بات کو نہیں جانتے اور اپنی جہالت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں۔“ (صراط الجنان، ج 8، ص 144، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ایک اور مقام پر اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ﴿قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً﴾ ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔ (پارہ 9، سورۃ الاعراف، آیت 158)
صحیح مسلم شریف میں ہے ”أرسلت إلى الخلق كافة“ ترجمہ: مجھے ساری مخلوق کا رسول بنایا گیا ہے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 195، رقم الحدیث 523، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے ”وأمة محمد صلى اللہ عليه وسلم تطلق على معنيين أمة الدعوة وهي من بعث إليهم وأمة الإجابة وهي من صدقه وآمن به“ ترجمہ: امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دو معنوں پر اطلاق ہوتا ہے: (1) امتِ دعوت، یہ وہ ہیں جن کی طرف آپ علیہ الصلاۃ والسلام مبعوث ہوئے اور (2) امتِ اجابت، یہ وہ ہیں جنہوں نے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 2، ص 376، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے ”رسالتِ والا کا تمام جن و انس کو شامل ہونا اجماعی ہے اور محققین کے نزدیک ملٰئکہ کو بھی شامل، کما حققنا ہ بتوفیق اللہ تعالی فی رسالۃ اجلال جبرئیل۔ بلکہ تحقیق یہ ہے کہ حجر و شجر و ارض و سما و جبال و بحار تمام ماسوا اللہ اس کے احاطہ عامہ و دائرہ تامہ میں داخل۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 30، ص 145، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5137
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1448ھ/23 جون 2026ء