logo logo
AI Search

مرتد مرد یا عورت سے نکاح کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مرتد سے نکاح کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

 مرتد مرد یا عورت کا نکاح کسی سے نہیں ہو سکتا، نہ کسی مسلمان سے، نہ ہی کسی کافر یا مرتد سے۔

شرح مختصر طحاوی للجصاص میں ہے و لا تؤكل ذبيحة المرتد، و لا يجوز نكاحه ترجمہ: مرتد کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا، نہ ہی اس کا نکاح جائز ہے۔ ( شرح مختصر الطحاوی للجصاص، ج 6، ص 116، دار البشائر الإسلامية)

مختصر القدوری میں ہے و لا يجوز أن يتزوج المرتد مسلمة و لا كافرة و لا مرتدة و كذلك المرتدة لا يتزوجها مسلم و لا كافر و لا مرتد ترجمہ: اور جائز نہیں کہ کوئی مرتد کسی مسلمان عورت یا کافرہ یا مرتدہ سے نکاح کرے، یونہی مرتدہ سے کوئی مسلمان یا کافر یا مرتد نکاح نہیں کر سکتا۔ ( مختصر القدوری، صفحہ 151، دار الكتب العلمية)

بہار شریعت میں ہے مرتد و مرتدہ کا نکاح کسی سے نہیں ہوسکتا، اگرچہ مرد و عورت دونوں ایک ہی مذہب کے ہوں۔ (بہار شریعت، ج 2، حصہ 7، ص 31، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5234
تاریخ اجراء: 05 صفر المظفر 1448ھ / 20 جولائی 2026ء