فلم یا ڈرامے میں کفریہ کردار ادا کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فلم یا ڈرامے میں اپنے آپ کو کافر ظاہر کرنا یا کفریہ فعل کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل کئی مسلمان فلموں، ڈراموں میں کام کررہے ہیں، اسی طرح ٹک ٹاکرزکے نام پر ایکٹرزکی ایک نئی جماعت تشکیل پاچکی ہے۔ ان میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں۔ شرعی رہنمائی اس بارے میں درکار ہے کہ اگر کوئی مسلمان فلم یا ڈرامے یا ٹک ٹاک بنانے کے دوران ایکٹنگ کرتے ہوئے خود کو غیر مسلم کہے، مثلاً وہ کہے: میں ہندو ہوں، یا عیسائی یا سکھ ہوں وغیرہ یا خود کو غیر مسلم ظاہر کرے، جیسے پیشانی پر قشقہ لگا کر یا غیر مسلموں والا لباس پہن کر جس پر صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یا کوئی کفریہ فعل کرے جیسے بتوں کی پوجا کرنا وغیرہ اور اسی طرح اگر کوئی فلم میں کوئی کفریہ جملہ بولے تو ایسے شخص کے بارے شریعت مطہرہ ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے؟
جواب
فلم، ڈرامے یاٹک ٹاک وغیرہ کی ایکٹنگ میں معاذ اللہ کسی مسلمان کا خود کو اسلام کے علاوہ کسی مذہب سے منسوب کرنا، مثلا خود کو ہندو یا سکھ یا عیسائی وغیرہ کہنا، غیر مسلموں کا کفریہ علامات والا لباس پہننا، قشقہ لگانا، بتوں کی پوجا کرنا، مزید کوئی کفریہ فعل اختیار کرنا، طرح طرح کے کفریہ کلمات بکنا، یہ سب باتیں کفر ہیں۔
اس اجمالی جواب کی تفصیل چندمقدمات کی صورت میں بیان کی جاتی ہے تاکہ جواب واضح، قابل فہم اور سہل ہوجائے۔
(الف) شرعی طور پر کسی مسلمان کا اپنے کفر کا اقرار کرنا، جیسے خود کو کافر یا ملحد کہنا یا خود کو اسلام کے علاوہ کسی مذہب مثلا یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ مت، سکھ وغیرہ کی طرف منسوب کرنا، یہ کفر ہے اور اپنے کفر کا اقرار کرنے والا کافر ہے۔
(ب) معاذ اللہ اگر کوئی مسلمان حالت رضا میں بلا اکراہ شرعی اور بغیر سبقت لسانی کے قصدا کوئی ایسا کفریہ کلمہ بکے، جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو، تو بلا فرق نیت مطلقا قطعا یقینا اجماعا کافر ہوجاتا ہے۔
(ج) بعض افعال بھی کفریہ ہوتے ہیں، جیسے بتوں کی پوجا کرنا، اسی طرح کفار کے مذہبی دینی شعار کی بلا ضرورت شرعی وضع بنانا، چاہے کسی دنیوی منفعت کے لیے ہو یا بطور مذاق و استہزاء ہو جیسے قشقہ لگانا، زنار باندھنا بھی کفر ہے۔
(د) شریعت مطہرہ کے قوانین کی روشنی میں بعض صورتوں میں کفر کے متعلق استثنائی احکام موجود ہیں، مثلاً جبر و اکراہ شرعی کی صورت کہ (اگر معاذ اللہ عزوجل کسی مسلمان کو صریح کلمہ کفر بولنے پر ایسا مجبور کیا گیا کہ اگر نہیں بولے گا تو اسے مار دیا جائے گا یا اعضائے جسمانی میں سے کوئی عضو کاٹ دیا جائے گا اور یہ دھمکانے والا اس طرح کرنے پر قادر بھی ہے تو ایسے شخص کے لیے حکم عزیمت یہی ہے کہ یہ جان قربان کردے لیکن کفریہ کلمات نہ بولے، البتہ اتنی رخصت ضرورہے کہ حتی الامکان توریہ کر کے پہلودار بات کہہ کر جان بچائے اور اگر اس سے بھی کام نہ چلے تو) جس کا دل ایمان پر قائم ہو اور جان بچانے کے لیے کوئی کفریہ کلمہ کہا تو کافر نہ ہوگا کہ اس صورت میں جان بچانے کے لیے وہ بات کہنے کی رخصت ہے۔ اسی طرح سبقت لسانی کی صورت کہ کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہیں ہوگا، جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پچ کی تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے۔ اسی طرح کفار کی مذہبی مشابہت کسی خاص دینی ضرورت شرعی کے لیے اپنانا کفر نہیں، جیسے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ بعض جنگوں میں رومی کفار کا لباس پہن کر بھیس بدل کر کام کیا، تو اللہ پاک نے اپنی رحمت سے کفار بد اطوار کے بھاری لشکر پر غلبہ عطا فرمایا۔ اسی طرح سلطان مرحوم صلاح الدین یوسف انار اللہ تعالٰی برہانہ کے زمانے میں جبکہ تمام کفار یورپ نے سخت شورش مچائی تھی، دو عالموں نے پادریوں کی وضع بنا کر دورہ کیا اور اس آتش تعصب کو بجھادیا۔
(ہ) فلموں، ڈراموں وغیرہ میں ان استثنائی صورتوں میں سے کوئی صورت نہیں پائی جاتی، کیونکہ نہ تو یہاں سبقت لسانی ہوتی، بلکہ قصداً رائیٹر کفریہ کلمات لکھتا ہے اور ایکٹر بار بار ایکٹنگ میں اس کو دہراتا ہے اور نہ ہی کوئی سخت دینی ضرورت ہے، رہی بات اکراہ شرعی کی، یہاں وہ تو درکنار، یہاں تو ایکٹر کے ایک رونگٹے کو بھی کچھ ہلکا پھلکا نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ محض دنیاوی منافع کی حرص و طمع میں یہ سب کیا جاتا ہے۔
تنبیہ: یہ واضح رہے کہ یہاں یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ایسوں کا مقصود کفر نہیں، بلکہ فقط ایکٹنگ ہوتی ہے، اور ان کے قلوب ایمان پر قائم ہوتے ہیں، کیونکہ قوانین شرعیہ کی رو سے حالت رضا میں دل اگرچہ ایمان پر قائم ہو کوئی کفریہ کلمہ بولنا اور بغیر استثنائی صورتوں کے کوئی فعل اختیار کرنا، کفر ہوتا ہے۔ اگر فقط ایکٹنگ کے لیے معاذ اللہ کفریہ کلمات بولنا اور کفریہ افعال کرنا درست ہو تو کفریات بکنے والے کفریات بکیں گے اور پھر کہیں گے یہ تو فقط ایکٹنگ تھی۔ العیاذ باللہ۔ ایسوں کے قلوب میں اگر ایمان کی عظمت ہوتی تو اپنے مالک و مولی عزوجل، اپنے کریم و رحیم، نبی محترم صلی اللہ علیہ و سلم اور دین اسلام و شریعت مطہرہ کے خلاف کوئی کمزور و نازیبا بات یا فعل ہرگز ہرگز نہ کرتے اور اگر ان کو اسلام محبوب ہوتا تو ہرگز کسی دوسرے مذہب سے اپناناطہ و تعلق ظاہر نہ کرتے۔
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کا ایمان ہے۔ اسی پر اعمال صالحہ کی قبولیت اور جنت کے داخلہ کا مدار ہے۔ جنت کا پاکیزہ رزق، زینت کا ساز و سامان، دل و جگر کو جلا بخشنے والی نعمتیں، فقط ایمان والوں کا حصہ ہیں۔ اور جس کے پاس یہ قیمتی اثاثہ نہیں اس کے اعمال روزن کی دھوپ میں نظر آنے والے بکھرے ہوئے ریت کے ذرات کی طرح ہیں، اس پر جنت، اس کے مشروبات و ملابس اورسب نِعم جنت حرام ہیں اورہمیشہ ہمیشہ عذاب کے گھر جہنم میں رہنے کا مستحق ہے۔ لہذا ایمان والے کو ہر اس قول و فعل سے احتراز ضروری ہے، جس سے اس کے ایمان پر زد پڑے، اور حقیقی ایمان کا تقاضا بھی یہی کہ مذاق میں بھی اس کا انکار اور اس کا خلاف نہ کیا جائے، کیونکہ ایمان سے واضح انکار ہی کفر کی طرف نہیں لے جاتا، بلکہ استہزاء و استحقار سے بھی ایمان رخصت ہوجاتا ہے، اس کو اس مثال سے سمجھنا آسان ہے کہ کوئی غیرت والا شخص مذاق میں بھی اپنے والدین کو برا کہنا پسند نہیں کرتا، تو ایمان کی عظمت و شان تو اس سے بہت بڑھ کر ہے۔ اور کامل ایمان تو اس بات کا متقاضی ہے کہ کفر کی طرف جانے کو آگ میں ڈالے جانے سے زیادہ برا جانے۔
عام طور پر فلموں، ڈراموں اور دیگر اس طرح کے پلیٹ فارمز پر غالباً یہ حرکتیں عزت، شہرت، اور دولت کی خاطر کی جاتی ہیں۔ تو جان لینا چاہیے کہ ایسی عزت جو جہنم کے استحقاق کا باعث بنے، وہ عزت کوڑے کے ڈھیر پر بھی ڈالنے کے قابل نہیں، یونہی ایسی شہرت کا کیا حاصل جو اُخروی رسوائی کا باعث بنے اور دولت کے ذریعے کوئی اپنے لیے آگ کے انگارے خرید کر اپنے جسم کو آگ لگانے کا سامان کرے، اس سے بڑھ کر احمق و بیوقوف کون ہوگا؟ کیونکہ جس کے پاس ایمان نہیں، اس سے بڑاکوئی مفلس نہیں، اگرچہ ساری دنیا کی دولت اس کے قدموں میں ڈھیرہو اور ایمان والا چاہے پھوٹی کوڑی کا بھی مالک نہ ہو، وہ بہت بڑاغنی ہے۔ اور احادیث طیبات میں یہ غیبی خبریں موجود ہیں کہ فتنوں کے زمانے میں آدمی دنیا کے ٹکوں کے عوض اپنا ایمان بیچ دے گا اور لوگ صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوجائیں گے، و العیاذ باللہ۔
ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف پِھرنے والے کے بارے میں ہمارا رب کریم جل جلالہ فرماتا ہے: ﴿وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ - وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ - هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴾ تَرجَمۂ کنز الايمان: اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پِھرے، پِھر کافر ہو کر مرے، تو ان لوگوں کا کِیا اَکارَت گیا دنیا میں اور آخِرت میں، اور وہ دوزخ والے ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 217)
مذاق میں بھی کفر، کفر ہی رہتا ہے اس سے متعلق قرآن عظیم میں اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ - قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ (۶۵) لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ - اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآىٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے۔ تم فرماؤ!! کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو،بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہو کر، اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے۔ (پارہ10، سورۃ التوبہ، آیت 65- 66)
فتاوی رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: اس آیت کے تین فائدے حاصل ہوئے: اول: یہ کہ جو رسول کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ہوجاتاہے اگر چہ کیسا ہی کلمہ پڑھتا اور ایمان کا دعویٰ رکھتا ہو، کلمہ گوئی اسے ہرگز کفر سے نہ بچائے گی۔ دوم: یہ جو بعض جاہل کہنے لگتے ہیں کہ کفر کا تو دل سے تعلق ہے نہ کہ زبان سے، جب وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس کے دل میں کفر ہونا معلوم نہیں تو ہم کسی بات کے سبب اسے کیونکر کافر کہیں، محض خبط اور نری جھوٹی بات ہے، جس طرح کفر دل سے متعلق ہے یونہی ایمان (کا) بھی (دل سے تعلق ہے تو) زبان سے کلمہ پڑھنے پر (اسے) مسلمان کیسے کہا؟ (تو جس طرح زبان سے کلمہ پڑھنے پر اسے مسلمان کہا) یونہی زبان سے گستاخی کرنے پر کافر کہا جائے گا، اور جب (اس کا گستاخی کرنا) بغیر اکراہِ شرعی کے ہے تو اللہ کے نزدیک بھی کافر ہوجائے گا اگرچہ دل میں اس گستاخی کا معتقد نہ ہو کہ بے اعتقاد (گستاخانہ کلمہ) کہنا ہزل و سخریہ ہے، اور اسی پر ربُّ العزت فرما چکا کہ تم کافر ہوگئے اپنے ایمان کے بعد۔ سوم: کھلے ہوئے لفظوں میں عذر تاویل مسموع نہیں، آیت فرما چکی کہ حیلہ نہ گھڑو تم کافر ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 172، رضا فاونڈیشن، لاہور)
کفارکے اعمال کی مثال بیان کرتے ہوئے قرآن عظیم میں ہے: ﴿وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے ہم نے قصد فرماکر انھیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظرآتے ہیں ۔ (پارہ 19، سورۃ الفرقان: آیت 23)
ایمان کی عظمت سے متعلق صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مسنداحمدوغیرہ کثیرکتب حدیث میں ہے: حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان: من كان اللہ ورسوله أحب إليه مما سواهما، وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله، وأن يكره أن يعود في الكفر بعد أن أنقذه اللہ منه، كما يكره أن يقذف في النار“یعنی: تین چیزیں جس میں ہوں وہ لذت و شیرینی ایمان کی پالیتا ہے۔ (۱) جس کو اللہ و رسول سارے عالم سے زیادہ پیارے ہوں (۲) اور جو کسی بندے کو خاص اللہ کے لئے محبوب رکھتا ہو (۳) اور جو کفر سے رہائی پانے اور مسلمان ہونے کے بعد کفر میں لوٹنے کو ایسا برا جانتا ہو جیسا اپنے آپ کو آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔ ( صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بيان خصال ۔ ۔ ۔ الخ، جلد 1، صفحہ 66، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے ، حُضورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم ، رحمتِ عالم،شَہَنْشاہِ عَرَب و عَجَم، رسولِ مُحتَشَم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشادِ مُعظَّم ہے: ”بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا، أو يمسي مؤمنا و يصبح كافرا، يبيع دينه بعرض من الدنيا“ ترجمہ: ان فتنوں سے پہلے نیک اعمال کے سلسلے میں جلدی کرو! جو تاریک رات کے حِصّوں کی طرح ہوں گے۔ ایک آدَمی صُبح کو مومِن ہو گا اور شام کو کافِر ہوگا اور شام کو مومِن ہوگا اور صُبح کافِر ہوگا۔ نیز اپنے دین کو دُنیاوی سازو سامان کے بد لے فروخت کر دے گا۔ (صحیح مسلم، حدیث 118، جلد 1، صفحہ 110، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
کفر کا اقرار کرنا کفر ہے اس کے متعلق الأشباه و النظائر لابن نجيم میں ہے: ”قيل لها أنت كافرة؛ فقالت أنا كافرة كفرت“ یعنی: کسی نے ایک عورت کو کہا: تو کافرہ ہے، اس نے جواب دیا: میں کافرہ ہوں، وہ کافرہ ہوگئی۔ (الاشباہ و النظائر، کتاب السیر، باب الردۃ، صفحہ 160، دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان)
اپنے کفر کا اقرار کرنے سے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: جو اپنے کفر کا اقرار کرے وہ سچ کافر ہے، نوازل فقیہ ابو اللیث، پھر خلاصہ، پھر تکملہ لسان الحکام مطبوعہ مصر ص ۵۷: ”رجل قال انا ملحد یکفر“ جو اپنے الحاد کا اقرار کرے، وہ کافر ہے۔ فتاوٰی عالمگیری مطبع مصر ۱۳۱۰ھ جلد ۲ ص ۲۷۹: مسلم قال انا ملحد یکفر و لو قال ما علمت انہ کفر لا یعذر بھذا“ یعنی: ایک مسلمان اپنے ملحد ہونے کا اقرار کرے کافر ہوجائے گا اور اگر کہے کہ میں نہ جانتا تھا کہ اس میں مجھ پر کفر عائد ہوگا تو یہ عذر نہیں سنا جائے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 15، صفحہ 178، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ زید معاذ اللہ یہ کہے میں عیسائی یا کافر ہوجاؤں گا، یہ قول کیساہے، اگرچہ کسی کو چھیڑ نے یا مذاق کی غرض سے کہے؟ امام اہل سنت، اعلی حضرت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: جس نے جس فرقہ کا نام لیا اس فرقہ کا ہوگیا، مذاق سے کہے یا کسی دوسری وجہ سے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 583، رضا فاونڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: جو بطور تمسخر اور ٹھٹے کے کفر کریگا، وہ بھی مرتد ہے۔ اگرچہ کہتا ہے کہ ایسا اعتقاد نہیں رکھتا۔ (بھار شریعت، جلد 2، صفحہ 455، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے:مسلمان کو کلماتِ کفر کی تعلیم و تلقین کرنا کفر ہے، اگرچہ کھیل اور مذاق میں ایسا کرے۔ (بھار شریعت، جلد 2، صفحہ 465، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ماتھے پر سندور کا ٹیکہ یعنی قشقہ لگوانا کفر ہے اس کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے۔ وہ جنہوں نے برہمن سے قشقہ کھنچوایا، وہ جنہوں نے ہنود کے ساتھ وہ جے بولی، کافر ہوگئے، ان کی عورتیں ان کے نکاح سے نکل گئیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 318، رضا فاونڈیشن، لاہور)
اسی طرح فتاوی رضویہ میں سوال ہے: مسلمانوں کو پیشانی پر ٹیکا لگانا خواہ وہ کسی قسم کا مانند زعفران و صندل وغیرہ کے ہو جائز ہے یا نہیں؟ امام اہل سنت، اعلی حضرت الشاہ احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں تحریرفرماتے ہیں: ماتھے پر قشقہ (ٹیکا) لگانا خاص شعار کفر ہے ا ور اپنے لئے جو شعار کفر پر راضی ہو، اس پر لزوم کفر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”من تشبہ بقوم فہو منہ“ جو کسی قم سے مشابہت پید کرے وہ انھیں میں سے ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 21، ص 295، رضا فاونڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے: قشقہ کہ ماتھے پر لگایا جاتا ہے صرف شعار کفارنہیں بلکہ خاص شعار کفر بلکہ اس سے بھی اخبث خاص طریقہ عبادت مہادیو وغیرہ اصنام سے ہے اور اس کے لگانے پر راضی ہونا کفر پر رضا ہے اور اپنے لئے ثبوت کفر پر رضا بالاجماع کفر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 676، رضا فاونڈیشن، لاہور)
بتوں کی پوجا کرنا کفر ہے اگرچہ دل سے ارادہ نہ ہو۔ چنانچہ اس کے متعلق الأشباه و النظائر لابن نجيم میں ہے: ”كفر عبادة الصنم كفر، و لا اعتبار بما في قلبه“ یعنی: بت کی پوجا کرنا کفر ہے اور جو کچھ اس کے دل میں ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ (الاشباہ و النظائر، کتاب السیر، باب الردۃ، صفحہ 160، دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان)
فتاوی رضویہ میں ہے: جس نے کلمہ کفر قصدا کہا یا اللہ یا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کی وہ کافر ہوجاتا ہے اس کی عورت نکاح سے نکل جاتی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 294، رضا فاونڈیشن، لاہور)
حالت رضا میں کلمہ کفر بولنا کفر ہے اگرچہ دل ایمان پر مطمئن ہو اس کے متعلق فتاوٰی امام قاضی خاں و فتاوٰی عالمگیری میں ہے: ”رجل كفر بلسانه طائعا، و قلبه مطمئن بالإيمان، يكون كافرا و لا يكون عند اللہ مؤمنا كذا في فتاوى قاضي خان“ ایک شخص نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کا اظہار کیا، حالانکہ اس کا دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالٰی کے ہاں مومن نہیں ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ، جلد 2، صفحہ 283، باب المرتد، دار الفكر، بیروت)
بلا جبر و اکراہ کلمہ کفر بولنے والا کافر ہے اس کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: یقینا اس نے بلااکراہ وہ کلمات کفر بکے اور واحد قہار عزجلالہ نے کلمہ کفر بکنے میں کافر ہونے سے صرف مبتلائے اکراہ کا استثناء فرمایا ہے، کہ ارشاد فرماتا ہے: الامن اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان“ سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔ (ت) (قرآن)۔ یہاں اکراہ درکنار ایک رونگٹے کو بھی کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا، ایک دھیلا بھی گرہ سے نہ جاتا تھا اور بکے وہ کلمات کہ مجرد علامت کفر نہیں، بلکہ حقیقۃً خود کفر خالص ہیں تو قطعا دل کھول کر کفر بکنا ہوا، اور یقینا بنص قطعی قرآن کفر ہے، ولہذا جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے، بلا فرق نیت مطلقا قطعا یقینا اجماعا، کافرہے۔ عورت اس کی نکاح سے فوراً نکل جاتی ہے۔ جب تک از سرنو اسلام نہ لائے اور اپنے کلمات ملعونہ سے براءت و توبہ صادقہ نہ کرے، ہر گز اس سے نکاح نہیں ہوسکتا اور اگر اسلام لے آئے تو بہ کرے اور پھر نکاح سابق کی بنا پر عورت کو زوجہ بنائے تو قطعا زنائے خالص ہے ۔ ۔ ۔ ۔ حاوی میں ہے: من کفر باللسان و قلبہ مطمئن بالایمان فھو کافر و لیس بمومن عنداللہ تعالٰی“ جس نے زبان سے کفر کیا حالانکہ دل ایمان پر تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالٰی کے ہاں بھی مومن نہیں۔ (ت) (حاوی) ۔ ۔ ۔ ۔ شرح فقہ اکبر میں ہے: ”اللسان ترجمان الجنان فیکون دلیل التصدیق وجودا وعدما فاذا بدلہ بغیرہ فی وقت یکون متمکنا من اظہارہ کان کافر او اما اذا زال تمکنہ من الاظہار بالاکراہ لم یصر کافرا“ زبان دل کی ترجمان ہے تو یہ دل کی تصدیق یا عدم تصدیق پر دلیل ہوگی تو جب وہ اظہار ایمان پر قدرت کے باوجود عدم تصدیق کا اظہار کرتا ہے تو وہ کافر ہوگیا البتہ جب کسی جبر کی وجہ سے قدرت اظہار پر نہ ہو تو اب کافر نہ ہوگا۔ (ت) ۔ ۔ ۔ ۔ طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے: حکمہ ای التکلم بکلمۃ الکفر ان کان طوعا ای لم یکرھہ احد من غیر سبق لسان الیہ، احباط العمل و انفساخ النکاح“ اگر کلمہ کفر کا تکلم خوشی سے ہے یعنی کسی چیز کا اکراہ و جبر نہیں جبکہ سبقت لسانی نہ ہو، تو اس کا حکم یہ ہے کہ عمل ضائع اور نکاح ختم ہوجائے گا۔ (ت) (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 600، رضا فاونڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے: شرع مطہر میں خوفِ جان کے وقت بھی حکم عزیمت یہی ہے کہ کسی طرح اصلاً کلمہ کفرزبان سے نہ نکالے اور رخصت یہ کہ حتی الامکان توریہ کر کے پہلو دار بات سے جان بچائے، اگر توریہ پر قادر تھا اور اسے چھوڑ کر صریح کلمہ کفر بولا قطعاً یقینا کافر ہوجائے گا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 06، صفحہ 482، رضا فاونڈیشن، لاہور)
امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: تشبہ دو وجہ پر ہے: التزامی و لزومی۔ التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرز و وضع خاص اسی قصد سے اختیار کرے کہ ان کی سی صورت بنائے ان سے مشابہت حاصل کرے حقیقۃً تشبہ اسی کا نام ہے، فان معنی القصد و التکلف ملحوظ فیہ کما لا یخفی (اس لئے کہ قصد اور تکلف کے مفہوم کا اس میں لحاظ رکھا گیا ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) اور لزومی یہ کہ اس کا قصد تو مشابہت کا نہیں، مگر وہ وضع اس قوم کا شعار خاص ہورہی ہے، کہ خواہی نخواہی مشابہت پیدا ہوگی۔
التزامی میں قصد کی تین صورتیں ہیں:
اول یہ کہ اس قوم کومحبوب و مرضی جان کر اُن سے مشابہت پسند کرے، یہ بات اگر مبتدع کے ساتھ ہو بدعت اور کفّار کے ساتھ معاذ اللہ کفر، حدیث ”من تشبہ بقوم فہو منھم“ (جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ انہی میں سے شمارہوگا۔ ت) (سنن ابی داؤد) حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔
دوم: کسی غرض مقبول کی ضرورت سے اسے اختیار کرے، وہاں اس وضع کی شناعت اور اس غرض کی ضرورت کا موازنہ ہوگا، اگر ضرورت غالب ہو تو بقدر ضرورت کا وقت ضرورت یہ تشبیہ کفر کیا؟ معنی ممنوع بھی نہ ہوگا۔ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی کہ بعض فتوحات میں منقول رومیوں کے لباس پہن کر بھیس بدل کر کام فرمایا او ر اس ذریعہ سے کفار اشرار کی بھاری جماعتوں پر باذن اللہ غلبہ پایا۔ اسی طرح سلطان مرحوم صلاح الدین یوسف انار اللہ تعالٰی برہانہ کے زمانے میں جبکہ تمام کفار یورپ نے سخت شورش مچائی تھی، دو عالموں نے پادریوں کی وضع بنا کر دورہ کیا اور اس آتش تعصب کو بجھا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ملتقط میں ہے: ”اذا شد الزنار او اخذ الغل اولبس قلنسوۃ المجوس جادا او ھاز لا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب“ جب کسی شخص نے زُنّار باندھا یا طوق لیا یا آتش پرستوں کی ٹوپی پہنی خواہ سنجیدگی کے ساتھ یاہنسی مذاق کے طور پر تو کافر ہوگیا، مگر جنگ میں (دشمن کو مغالطے میں ڈالنے کے لئے) بطور تدبیر اُکسا کرے تو کافر نہ ہوگا۔ (ت) ( منح الروض الازہر بحوالہ الملتقط فصل فی الکفر صریحاً و کنایۃً مصطفی البابی مصر ص۱۸۵)
سوم نہ تو انہیں اچھا جانتا ہے نہ کوئی ضرورت شرعیہ اس پر حامل ہے بلکہ کسی نفع دنیوی کے لئے یا یوہیں بطور ہزل و استہزاء اس کا مرتکب ہوا تو حرام و ممنوع ہونے میں شک نہیں اور اگر وہ وضع ان کفار کا مذہبی دینی شعار ہے جیسے زنّار، قشقہ، چُٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور فی الواقع صورت استہزاء میں حکم کفر ظاہر ہے، اور لزومی میں بھی حکم ممانعت ہے جبکہ اکراہ وغیرہ مجبوریاں نہ ہوں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 532 - 530، رضافاونڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں: مسئلہ: کہنا کچھ چاہتا تھا اور زبان سے کفر کی بات نکل گئی تو کافر نہ ہوا یعنی جبکہ اس امر سے اظہار نفرت کرے کہ سننے والوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے اور اگر بات کی پچ کی تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے (بھارشریعت، جلد 2، صفحہ 456، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اگر معاذ اللہ کلمۂ کفر جاری کرنے پر کوئی شخص مجبور کیا گیا، یعنی اُسے مار ڈالنے یا اُس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے تو ایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو جو پیشتر تھا، مگر افضل جب بھی یہی ہے کہ قتل ہو جائے اور کلمۂ کفر نہ کہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 174، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے: مسلمان ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیز کا انکار نہ کرے جو ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ باقی باتوں کا اقرار کرتا ہو، اگرچہ وہ یہ کہے کہ صرف زبان سے انکار ہے دل میں انکار نہیں کہ بلا اِکراہِ شرعی مسلمان کلمۂ کفر صادر نہیں کر سکتا، وہی شخص ایسی بات منہ پر لائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہا اِنکار کر دیا اور ایمان تو ایسی تصدیق ہے جس کے خلاف کی اصلاً گنجائش نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 173 - 174، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امیر اہل سنت، حضرت علامہ مولانا الیاس قادری دام ظلہ تحریرفرماتے ہیں: تشویش سخت تشویش کی بات یہ ہے کہ ضَروریاتِ دین میں سے کسی ضَرورتِ دینی کا اِنکار یونہی جو فعل مُنافئ ایمان (یعنی ایمان کی ضِد) ہے مَثَلاً بُت یا چاند سورج کو سَجدہ کرنا ایسا قَطعی کفر ہے کہ اِس میں جَہالت بھی عُذر نہیں، یعنی اس کا کُفر ہونا معلوم ہو یا نہ ہو دونوں ہی صورَتوں میں کُفر ہے۔ چُنانچِہ علامہ بدرُ الدّین عَینی حَنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عمدۃُ القاری میں ارشاد فرماتے ہیں: ہر اس انسان کی تکفیر کی جائے گی (یعنی اُس کو کافِر قرار دیا جائے گا) جو صریح کلمۂ کفر منہ سے نکالے یا پھر ایسا فعل کرے جو کفر کا باعث ہو اگرچِہ وہ یہ جانتا نہ ہو کہ یہ کلمہ یا فعل کفر ہے۔ (عمدۃُ القاری ج 1 ص 403)۔ (کفریہ کلمات کے بارے سوال وجواب، 29 - 30، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-249
تاریخ اجراء: 30 رجب المرجب 1443ھ / 04 مارچ 2022ء