logo logo
AI Search

غیر مسلم کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا پینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غیر مسلموں کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا پینا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم لوگ بیرون ممالک میں رہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ہر مذہب کے لوگ ہوتے ہیں اور ایک ہی برتن میں ہم کھانا کھاتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

کفار سے دوستی و محبت مسلمان کےلئے جائز نہیں اور ایسی دوستی و محبت کے تعلق کی بنا پر ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا اور میل جول رکھنا، بھی شرعاً ناجائز و گناہ ہے اور محبت و دوستی کے بغیر بھی بلا ضرورت اُن کے ساتھ کھانے پینے کو معمول اور عادت بنالینا شرعاً جائز نہیں، البتہ ایک آدھ بار کبھی ساتھ کھانے کا اتفاق ہوجائے، یا قلبی محبت اور دوستانہ تعلقات والا معاملہ نہ ہو اور روٹین میں ساتھ کھانے کی ضرورت پیش آئے، جیسے ملازمت، تعلیم، سفر، یا بیرونِ ملک مشترکہ رہائش کی صورت میں ایک جگہ، یا ایک ہی ٹیبل پر غیر مسلم کے ساتھ کھانا کھالیا جائے، تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔ تاہم اس صورت میں بھی حتی الامکان الگ الگ برتن میں کھایا جائے۔ البتہ کبھی کبھار ضرورت، یا روٹین میں مصلحت یا فتنہ و فساد سے بچنے کی خاطر ایک برتن میں بھی ساتھ کھانا پڑ جائے تو اس کی بھی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ کھانا مسلمان کے لیے حلال اور پاکیزہ ہو۔

کفار سے دوستی و محبت رکھنے کی ممانعت سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ- وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ (صرف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ: 51)

تفسیر صراط الجنان میں مذکورہ آیت کے تحت ہے: اس آیت میں یہود و نصاری کے ساتھ دوستی و موالات یعنی اُن کی مدد کرنا، اُن سے مدد چاہنا اور اُن کے ساتھ محبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا، یہ حکم عام ہے۔ ۔ ۔ مسلمانوں کو کافروں کی دوستی سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ نہایت سخت وعید بیان فرمائی کہ جو ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے، اس بیان میں بہت شدت اور تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود و نصاریٰ اور دینِ اسلام کے ہر مخالف سے علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 448، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

بلا ضرورت غیر مسلموں کے ساتھ کھانے، پینے کی عادت بنا لینا مکروہ ہے، چنانچہ محیط برہانی و فتاوی عالمگیری میں ہے: و اللفظ للاول: الأكل مع المجوسي و مع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا، و حكي عن الحاكم عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به، فأما الدوام عليه يكره؛ لأنا نهينا عن مخالطتهم و موالاتهم و تكثير سوادهم، و ذلك لا يتحقق في الأكل مرة أو مرتين، إنما يتحقق بالدوام عليه‘‘ ترجمہ: مجوسی اور دیگر اہلِ شرک کے ساتھ کھانا، تو کیا یہ حلال ہے یا نہیں؟ امام حاکم عبد الرحمن کاتب رحمۃ اللہ علیہ سےحکایت ہے کہ اگر مسلمان کو اس میں ایک یا دو مرتبہ مبتلا ہونا پڑ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس پر دوام (ہمیشہ ساتھ کھانا) مکروہ ہے، کیونکہ ہمیں ان کے ساتھ اختلاط، دوستی اور ان کی جماعت کو بڑھانے سے منع کیا گیا ہے، اور یہ چیز ایک یا دو مرتبہ کھانے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس عمل پر ہمیشگی سے ثابت ہوتی ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 5، کتاب الاستحسان و الکراھیۃ، الفصل السادس عشر، صفحہ 362، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ بعض اہل اسلام بے تکلف کفار کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں یہ فعل شرعاً کیسا ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا:

بیشک کفار سے ایسی مخالطت اور ان کے ساتھ ہم پیالہ وہم نوالہ ہونے سے بہت ضرور احتراز کرنا چاہئے خصوصاً جہاں اسلام ضعیف ہو شرع مطہر سے بہت دلائل اس پر قائم:

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم فرماتے ہیں: من جامع المشرک و سکن معہ فانہ مثلہ ۔ ۔ جو مشرک سے یکجا ہو اور اس کے ساتھ رہے وہ اسی مشرک کی مانند ہے۔ ۔ ۔ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم: لاتصاحب الامؤمنا و لایاکل طعامک الا تقی۔ صحبت نہ رکھ مگر ایمان والوں سے اور تیرا کھانا نہ کھائیں مگر پرہیزگار۔

(مزید فرماتے ہیں کہ) تجربہ شاہد کہ ساتھ کھانا مورث محبت و وداد ہوتا ہے (یعنی محبت و الفت کو پیدا کرتا ہے) اور کفار کی موالات سم (زہرِ) قاتل ہے، قال ﷲ تعالٰی: و من یتولھم منکم فانہ منھم‘‘ جو تم میں اُن سے دوستی رکھے گا انہیں میں سے شمار کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ بالجملہ بلا ضرورت شرعیہ اس امر کا مرتکب نہ ہوگا مگر دین میں مداہن یا عقل سے مبائن، سبحان اللہ کتنے شرم کی بات ہے کہ آدمی کے ماں باپ کو اگر کوئی گالی دے اس کی صورت دیکھنے کو روادار نہ رہے اور خدا و رسول کو برا کہنے والوں کو ایسا یارِ غار بنائے انّا للہ و انا الیہ راجعون (بیشک ہم اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں۔ ت) (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 311 - 319، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی امجدیہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ان (غیر مسلموں) کے ساتھ کھانا پینا جائز نہیں کہ مسلم کو کفار سے اتنا میل جول درست نہیں، قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴾ اگر تجھے شیطان غفلت میں ڈال دے تو یاد آنے پر قومِ ظالمین کے پاس نہ بیٹھ۔ شرک و کفر سے بڑھ کر اور کون سا ظلم ہو سکتا ہے، قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴾ (بے شک شرک یقیناً بڑا ظلم ہے۔) لہذا مشرک کو اپنا ہم نوالہ و ہم پیالہ بنانا جائز نہیں۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 293، مکتبہ رضویہ، کراچی)

فتاوی بحر العلوم میں مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: کھانا کھانا بھی اگر کسی مجبوری کے تحت ہو، جیسے ہوٹل میں ایک ٹیبل پر آپ اور وہ (کافر) دونوں ہی آ گئے تو معاف ہے۔ اس کی عادت ڈالنا جس سے باہم خاندانی رشتہ کا شبہ ہو، اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ (فتاوی بحر العلوم، جلد 4، صفحہ 332، شبیر برادرز، لاہور)

مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ وقارالفتاوی میں ارشاد فرماتے ہیں: غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور محبت کے تعلقات قائم کرنا، ناجائز ہیں۔ ہوٹل میں اگر اپنا اپنا کھانا ایک ٹیبل پر ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں، اس سے محبت کا ثبوت نہیں ہوتا۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 238، بزم وقار الدین، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1189
تاریخ اجراء: 20 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 08 مئی 2026ء