logo logo
AI Search

اپنی زمین میں دوسرے کے اخراجات پر نصف پیداوار لینا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اپنی زمین میں دوسرے شخص سے اخراجات کروا کر پیداوار نصف نصف تقسیم کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہماری اپنی زرعی زمین ہے، مگر ہمارے پاس زراعت کے اخراجات نہیں ہیں، تو کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں کہ کسی شخص مثلا: زید کے ساتھ یوں معاہدہ کرلیں کہ زراعت کے سارے اخراجات یعنی بیج، ہل چلانے وغیرہ کے اخراجات زید کے ذمے ہوں گے، باقی زمین بھی ہماری ہوگی اور کام بھی ہم کریں گے اور جو پیداوار ہوگی وہ نصف نصف تقسیم کرلیں گے؟

اس میں تین صورتیں ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ زید رقم ہمارے حوالے نہ کرے، بلکہ خود ہی بیج وغیرہ خرید کر ہمیں دے اور ہم آگے کام کرکے زراعت کریں اور زراعت نصف نصف تقسیم ہوگی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ زید زراعت میں شرکت کے طور پر ہمیں رقم دے، اخراجات ہم کریں اور طے یہ ہو کہ فصل ہونے پر، پہلے زید کی دی ہوئی رقم پوری کی جائے گی، اس کے بعد جو زراعت بچے گی وہ ہم نصف نصف تقسیم کریں گے۔ تیسری صورت یہ کہ زید ہمیں بطور قرض رقم دے اور ہم اپنی مرضی سے اخراجات کریں، ہم زید کی دی گئی رقم واپس کرنے کے پابند ہوں گے چاہے فصل ہو یا نہ ہو، اور فصل ہونے پر زراعت میں سے بھی زید کو تہائی حصہ یا چھٹا حصہ دینے کے پابند ہوں گے۔ تینوں صورتوں کا حکم بیان فرمائیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں سوال میں بیان کردہ تینوں ہی صورتیں جائز نہیں ہیں۔ پہلی صورت (جس میں زید خود ہی بیج وغیرہ خرید کردے گا) اس لئے جائز نہیں ہے کہ یہ مزراعت کا معاہدہ ہے اور مزارعت کے معاہدے میں جس شخص کی زمین ہو، اسی پر ہی کام کرنے کی شرط لگا دینا مزراعت کے معاہدے کو فاسد کر دیتا ہے، سوال میں بیان کردہ صورت میں بھی زمین کے مالک کے ذمے ہی کام کرنے کی ذمہ داری طے ہو رہی ہے، لہذا مزارعت کا یہ معاہدہ کرنا، جائز نہیں ہے ۔

دوسری صورت کے ناجائز ہونے کی ایک وجہ تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ مزراعت میں ایسی شرط لگانا بھی مزراعت کو فاسد کردیتا ہے کہ بیج دینے والا فصل میں سے پہلے اپنے بیج واپس لے گا، جو فصل باقی بچے گی اسے نصف نصف تقسیم کیا جائے گا، یہاں بھی زید بیج وغیر کے لیے ہی رقم دے رہا ہے اور شرط کررہا ہے کہ پہلے میری دی ہوئی رقم پوری کی جائے، بعد میں جو بچے گا اسے نصف نصف تقسیم کیا جائے گا۔

تیسری صورت اس لئے ناجائز ہے کہ اس صورت میں جب بطور قرض دی گئی زید کی پوری رقم واپس کرنا ضروری ہے، چاہے زراعت کرنے والے کو نفع ہو یا نقصان، اور زید اس قرض کی واپسی کے ساتھ زراعت میں بھی حصہ لے گا تو یہ حصہ ، قرض پر نفع ہوگا اور قرض پر نفع سود ہوتا ہے، اس لئے یہ صورت بھی ناجائزوگناہ ہے۔

اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ مزارعت کی دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ زمین والے کی صرف زمین ہو، باقی بیج، ہل چلانا اور کام دوسرے کا ہو، یا زمین، بیج، ہل سب کچھ ایک کا ہو، دوسرا صرف کام کرے یا زمین اور بیج ایک کا ہو اور ہل چلانا اور کام کرنا دوسرے کا ہو۔

زمین والے پر کام کرنے کی شرط رکھنا، مزارعت کو فاسد کردیتا ہے۔ بدائع الصنائع میں مزارعت کو فاسد کردینے والی شرائط میں فرمایا: ”منھا شرط العمل علی صاحب الأرض لأن ذلک یمنع التسلیم وھو التخلیۃ۔۔۔۔ومنھا شرط العمل والأرض جمیعا من جانب واحد، لأن ذلک خلاف مورد الشرع“ ترجمہ: ان شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ زمین والے پر بھی کام کی شرط کردی جائے، اس سے مزارعت اس لئے فاسد ہوگی، کیونکہ اس میں زمین کو سپرد کرنا یعنی زمین اور مزارع کے درمیان تخلیہ نہیں پایا جا رہا۔۔۔انہیں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ کام اور زمین دونوں ہی ایک جانب سے ہوں (تو مزارعت فاسد ہوجائے گی) کیونکہ یہ شرط شریعت میں وارد مزارعت کے معاملے کے برخلاف ہے۔ (بدائع الصنائع جلد 8، صفحہ 274، مطبوعہ بیروت)

محیط رضوی اور خزانۃ الاکمل میں ہے: ”واللفظ للمحیط“ لو دفع البذر الی رجل لیزرعہ فی أرضہ ویقوم علیہ علی أن الخارج بینھما نصفان لم یجز، لأن المزارع لو کان عاملا مع رب الأرض لم یجز لفوات التخلیۃ بین الأرض والمزارع، فلأن لاتجوز ھذہ المزارعۃ وقد شرط کل العمل علی رب الأرض أولی“ ترجمہ: اگر بیج ایک شخص کو دیے تاکہ وہ اسے اپنی زمین میں اگائے اور زراعت کی دیکھ بھال کرے اس شرط پر کہ جو پیداوار ہوگی وہ نصف نصف ہوگی، تو یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ اگر زمین والے کے ساتھ مزارع بھی کام کرتا تب بھی مزارعت جائز نہیں تھی کہ زمین اور مزارع میں تخلیہ نہیں ہوا، یہاں تو سارا کام ہی زمین والے پر شرط کردیا گیا ہے، تو یہاں بدرجہ اولی جائز نہیں ہوگا۔ (المحیط الرضوی جلد 6، صفحہ 258، مطبوعہ بیروت)

فصل میں پہلے بیج لیا جائے گا، باقی کو نصف نصف تقسیم کیا جائے گا، ایسا عقدِ مزارعت فاسد ہے۔ ہدایہ کی شرح غایۃ البیان میں ہے: ”قال الحاکم الشھید فی الکافی: واذا شرط فی المزارعۃ أن یرفع صاحب البذر بذرہ، والباقی بینھما نصفان فھو فاسد۔ قال شیخ الاسلام علاء الدین الاسبیجابی: لأن ھذا شرط یوھم قطع الشرکۃ، لأنہ یحتمل ألا یخرج أکثر من ھذا القدر، فلا یستحق العامل شیئا، والعقد لاینعقد علی وجہ یتخلف عنہ مقصودہ۔“ ترجمہ: امام حاکم شہید رحمہ اللہ نے کافی میں فرمایا: مزارعت میں جب یہ شرط کردی جائے کہ بیج دینے والا، پہلے اپنا بیج اٹھا لے گا، جو باقی بچے گا وہ دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگا، تو ایسی مزارعت فاسد ہے۔ شیخ الاسلام علاء الدین اسبیجابی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس مزارعت کے فاسد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسی شرط ہے جس میں اندیشہ ہے کہ شرکت ہی باقی نہ رہے، اس لئے کہ ہوسکتا ہے فصل میں سے اتنا ہی حاصل ہو جتنا بیج والے کا بیج ہے، تو کام کرنے والے کو اس صورت میں کچھ بھی نہیں ملے گا، اور عقد ایسے طریقے پر منعقد نہیں ہوتا جس میں اس کا مقصود ہی حاصل نہ ہو۔ (غایۃ البیان، جلد 15، صفحہ 136، مطبوعہ پشاور)

بہار شریعت میں مزارعت کی شرائط میں فرمایا: ”ہر ایک کو کیا ملے گا اس کا عقد میں ذکر کرنا ضروری ہے۔ اور جو کچھ پیداوار ہو اس میں دونوں کی شرکت ہو اگر فقط ایک کو دینا قرار پایا، تو عقد صحیح نہیں۔ ۔۔۔اور جو مقدار ہو ہر ایک کے لیے اس کا متعین ہو جانا ضرور ہے، مثلاً: نصف یا تہائی یا چوتھائی اور جو کچھ حصہ ہو وہ جز و شائع ہو، لہٰذا اگر ایک کے لیے یہ ٹھہرا کہ ایک من یا دو من دیے جائیں گے تو صحیح نہیں۔ یوہیں اگر یہ ٹھہرا کہ بیج کی مقدار نکالنے کے بعد باقی کو اس طرح تقسیم کیا جائے گا ، تو مزارعت صحیح نہ ہوئی۔ “ (بہارشریعت، جلد 3، صفحہ 288.289، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

قرض پر نفع لینا سود ہے۔ کنزالعمال میں ہے: ”كل قرض جر منفعة فهو ربا“ ترجمہ: قرض جو بھی نفع لائے وہ سود ہے۔ (کنزالعمال جلد 6، صفحہ 238، حدیث نمبر 15516، مطبوعہ بیروت)

شرح معانی الآثار میں ہے: ”وحرم كل قرض جر منفعة“ ترجمہ: ایسا قرض دینا حرام ہے جو نفع کھینچ کر لائے۔ (شرح معانی الآثار جلد 3، صفحہ 329، مطبوعہ بیروت)

مزارعت کے جواز کی صورتیں ذکر کرتے ہوئے مختصر الطحاوی میں فرمایا: ”قال محمد بن الحسن: المزارعۃ علی أربعۃ أوجہ: فثلاثۃ أوجہ منھا تجوز المزارعۃ علیھا، ووجہ منھا لاتجوز المزارعۃ علیہ: فأما الثلاثۃ الأوجہ التی تجوز المزارعۃ علیھا فأن یکون البذر من قبل المزارع والعمل والآلۃ المستعملۃ فیھا کلھا من قبلہ، فھذا وجہ، أو یکون البذر من قبل رب الأرض، والآلۃ کلھا من قبل المزارع فھذا وجہ، أو یکون البذر والآلۃ کلھا من قبل رب الأرض والعمل من قبل المزارع فھذا وجہ، فالمزارعۃ فی کل واحد من ھذہ الثلاثۃ الأوجہ جائزۃ۔)“ ترجمہ: امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مزارعت چار صورتوں پر ہے، جس میں سے تین صورتیں درست ہیں، اور ایک صورت پر مزارعت جائز نہیں ہے۔ جو تین صورتیں درست ہیں وہ یہ ہیں: ایک یہ کہ بیج ، کام ، آلہ ( یعنی ہل بیل ) سب مزارع کی طرف سے ہوں ( زمین والے کی صرف زمین ہو ) تو یہ مزارعت جائز ہے۔ دوسری صورت یہ کہ زمین اور بیج ، زمین والے کی طرف سے ہو ، آلہ ( یعنی ہل بیل ) سارے کا سارا ، مزارع کی طرف سے ہو ، یہ بھی درست ہے۔ تیسری صورت یہ کہ بیج ، ہل بیل سب کا سب زمین والے کی طرف سے ہو اور کام صرف مزارع کی طرف سے ہو تو یہ صورت بھی درست ہے۔ مزارعت کی یہ تینوں صورتیں جائز ہیں۔ (مختصر الطحاوی، صفحہ 133، مطبوعہ مصر)

بہار شریعت میں ہے: ”ایک شخص کی زمین اور بیج اور دوسرا شخص اپنے ہل بیل سے جوتے بوئے گا، یا ایک کی فقط زمین، باقی سب کچھ دوسرے کا یعنی بیج بھی اسی کے اور ہل بیل بھی اسی کے اور کام بھی یہی کرے گا، یا مزارع صرف کام کرے گا باقی سب کچھ مالک زمین کا، یہ تینوں صورتیں جائز ہیں۔“ (بہار شریعت جلد 3، حصہ 15، صفحہ 289، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو محمد محمد فراز عطاری مدنی

مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: OKR-0323

تاریخ اجراء: 14 ربیع الاول 1448ھ/28 اگست 2026ء