logo logo
AI Search

مرمت کے سامان میں سے تانبہ یا سلور خود رکھ لینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

موٹر سے نکلنے والا کاپر خود رکھ لینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں میراموٹر وائنڈنگ کا کام ہے،کاپر میں بنی ہوئی موٹر جب جل جاتی ہے اور میرے پاس بننے کے لیے آتی ہے تو اس میں سے جو پرانا کاپر نکلتا ہے وہ زیادہ مالیت مثلاً 2500 سے 3000 کا ہوتا ہے تو میں گاہک کو بتا دیتا ہوں کہ اتنا کاپر نکلا ہے جس کی مالیت اتنی ہے اور پھر اس رقم کو موٹر بنانے کی مزدوری میں ایڈجسٹ کر لیتا ہوں، لیکن جب کوئی سلور میں بنی ہوئی موٹر بننے کے لیے میرے پاس آتی ہے تو اس میں سے بہت کم مالیت مثلاسو یا ڈیڑ ھ سورپے کی مالیت کا سلور نکلتا ہے تو میں وہ سلور اپنے پاس اسکریپ میں رکھ لیتا ہوں اور گاہک کو نہ وہ سلور دیتا ہوں نہ اس کی قیمت کو مزدوری میں ایڈجسٹ کرتا ہوں اب سوال یہ ہے کہ کیامیرا اس طرح اسکریپ سلور گاہک کو بتائے بغیر اپنے پاس رکھنا درست ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے موٹر سے نکلنے والا پرانا سلور خود رکھ لینا جائز نہیں۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ مذکورہ کام میں آپ کی حیثیت اجیر مشترک کی ہے اور اجیر مشترک کے پاس لوگوں کی چیزیں امانت ہوتی ہیں، لہٰذاموٹر وائنڈنگ کے دوران موٹر سے نکلنے والا پرانا سلور،خواہ اس کی مالیت سو، ڈیڑھ سو روپےہو یا اس سےزیادہ وہ موٹر کے مالک کی ملکیت ہے اور آپ کے ہاتھ میں امانت ہے، لہٰذاآپ پر لازم ہے کہ جس موٹر سے جتنا سلور نکلے اُسے اس کے مالک کے سپردکر دیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ جتنی مالیت کا وہ سلور ہو اتنی رقم مالک کو دے دی جائے۔ مالک کی اجازت کے بغیر اس سلور کو اپنے استعمال میں لانا یا اپنے پاس رکھ کر بعد میں بیچ دینا گناہ اور ناحق طریقے سے دوسروں کا مال کھانا ہے۔ مالک کی صراحت کے ساتھ یا دلالت کے ساتھ اجازت کے بغیر اس کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ردالمحتار میں ہے: ”لا یجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی“ ترجمہ: کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے کسی کا مال لے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، 4 / 61)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2026ء