غیر مسلموں کی مشینی ذبیحہ والی کمپنی میں نوکری کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
غیر مسلموں کی مشینی ذبیحہ والی کمپنی میں کام کرنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا ایسی غیر مسلم کمپنی میں کام کر سکتے ہیں، جس میں مرغیوں کا گوشت تیار ہوتا ہے جو کہ آٹو میٹک مشین کے ذریعے ذبح ہوتی ہیں؟ کام میں کبھی گوشت کے کارٹن اٹھاکے رکھنے ہوتے ہیں، کبھی صفائی ستھرائی کرنی ہوتی ہے، کبھی پیکنگ کا کام کرنا ہوتا ہے، وغیرہ۔
جواب
جس کمپنی میں شرعی طریقے کے خلاف مثلاً مشین سے یا غیر مسلم کے ہاتھوں مرغیاں ذبح ہوتی ہوں اور ان کا گوشت تیار کر کے سپلائی کیا جاتا ہو، اس میں ایک مسلمان کے کام کرنے کے متعلق حکم حسب ذیل ہے:
چونکہ ایسی کمپنی میں تیار کیا جانے والا گوشت شرعاً مردار اور حرام ہے، پس اس کے کارٹن اٹھانا یا پیکنگ کرنا وغیرہ ایسے کام جن میں اس گوشت کو لوگوں تک پہنچانے میں براہِ راست عمل کرنا پایا جائے، یہ ہرگز جائز نہیں؛ اس لیے کہ صحیح قول کے مطابق غیر مسلم بھی فروعی شرعی احکام کے مکلف ہوتے ہیں، لہذا مسلمان ہو یا غیر مسلم، کسی کو بھی کھانے کے لیے حرام گوشت فراہم کرنا گناہ پر معاونت کرنا ہے، جو کہ بحکم قرآنی ممنوع و گناہ ہے اور گناہ کے کام پر اجارہ کرنا بھی شرعاً ناجائز و گناہ ہے۔
تاہم ایسی کمپنی میں وہ کام جو فی نفسہ جائز ہو اور اس میں مردار گوشت کی ترسیل میں کسی قسم کی معاونت کرنا بھی نہ پایا جائے، مثلاً صرف صفائی کا کام کرنا، تو اس کی شرعاً اجازت ہوگی؛ کیونکہ ایسا کام کرنے والے کی مذکورہ حرام کام میں شمولیت نہیں اور ممانعت کی کوئی اور وجہ بھی نہیں، اس لیے کہ حرام کام کرنے والے یا اس میں مدد کرنے والے خود اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں۔
قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: ”اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بےشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔“ (پارہ 6، سورۃ المائدہ 5، آیت 2)
امام ابوبکر احمد بن علی قاضی جصاص حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 370ھ/980ء) لکھتے ہیں: ”نهي عن معاونة غيرنا على معاصي اللہ تعالى“ ترجمہ: (مذکورہ آیت مبارکہ میں) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں پر دوسروں کی مدد کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 381، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”معصیت پر اعانت خود ممنوع و معصیت (ہے) ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 149، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں: ”ان الكفار مخاطبونبالحرمات وهو الصحيح من مذهب أصحابنا“ ترجمہ: کفار محرمات کے مخاطب (مکلف) ہیں، اور یہی ہمارے اصحاب احناف کے مذہب سے صحیح قول ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، كتاب البيع، باب البيع الفاسد، جلد 6، صفحہ 77، دار الكتاب الإسلامي)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”مذہب معتمد میں کفار خود بھی مخاطب بالفروع ہیں ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 317، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
علامہ ابوبکر بن مسعود كاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 587ھ/1191ء) لکھتے ہیں: ”الاستئجار علىالمعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو “ ترجمہ: گناہوں پر اجارہ کرنا صحیح نہیں؛ کیونکہ یہ ایسی منفعت پر اجارہ کرنا ہے جس کا پورا کرنا شرعی طور پر ممکن نہیں، جیسے کسی کو لہو و لعب کے لیے اجرت پر رکھنا۔ (بدائع الصنائع، كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، جلد 4، صفحہ 189، دار الكتب العلمية، بیروت)
سیدی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ” وہ (ملازمت) جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے ... ایسی ملازمت خود حرام ہے، اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مالِ حلال سے دی جائے ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 515، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ/1993ء) لکھتے ہیں: ”اجارہ جب کسی معصیت (گناہ) پر ہو تو اجرت بھی حرام ہوتی ہے۔“ ( وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 327، بزم وقار الدین، کراچی )
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) سے ایک دوکان میں ملازمت کرنے کے متعلق سوال ہوا جس میں سودی لین دین کا معاملہ بھی تھا تو آپ نے جواباً فرمایا: ”اس دکان کی ملازمت اگر سود کی تحصیل وصول یا اس کا تقاضا کرنا یا اس کا حساب لکھنا یا کسی اور فعل ناجائز کی ہے تو ناجائز ہے، قال اللہ تعالی: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ ت) ...اور اگر کسی امر جائز کی نوکری ہے تو جائز ہے، تنخواہ میں وہ روپیہ کہ بعینہٖ سود میں آیا ہو، نہ لے، اور مخلوط و نامعلوم ہو تو لے سکتا ہے ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 522، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ/1993ء) لکھتے ہیں: ”بینکوں میں ملازمت کر کے تنخواہ لینے کی دو صورتیں ہیں: اگر ملازم کو سود لکھنا پڑتا ہے تو اس کی ملازمت بھی ناجائز اور تنخواہ لینا بھی ناجائز؛ احادیث میں سود کا کاغذ لکھنے والے کے بارے میں سخت وعید آئی ہے، اور جن ملازمین کو سود لکھنا نہیں پڑتا، مثلاً دربان اور ڈرائیور وغیرہ تو ان کی ملازمت بھی جائز ہے اور تنخواہ بھی۔“ (وقار الفتاوی ، جلد 3، صفحہ 325، بزم وقار الدین، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1283
تاریخ اجراء: 15 صفر المظفر 1448ھ/30 جولائی 2026ء