logo logo
AI Search

اجرت طے کئے بغیر ڈیکوریشن کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اجرت طے کیے بغیر ڈیکوریشن کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید ڈیکوریشن کا کام کرتا ہے اور اس کام میں استعمال ہونے والا تمام سامان زید کی ذاتی ملکیت ہے، جس کے ذریعے زید مختلف محافل میں اسٹیج کی ڈیکوریشن اور شادیوں میں مسہری وغیرہ سجانے کا کام کرتا ہے، اس کام میں ڈیزائن اور کام کی نوعیت کے اعتبار سے اجرت مختلف ہوتی ہے اور وہ عام طور پر پہلے ہی طے کر لی جاتی ہے۔ البتہ بعض اوقات کسٹمر کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کام شروع کردیں، اجرت کابعد میں کرلیں گے، حالانکہ تجربہ یہی ہے کہ بعد میں اجرت سے متعلق بحث و تکرار بڑھ جاتی ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا کسٹمر کے کہنے پر پہلےاجرت طے کیے بغیر اس طرح ڈیکوریشن کا کام کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پہلےاجرت طے کیے بغیر ڈیکوریشن کا کام کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ اجارہ کے عقد میں دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ اجرت کا معلوم اور متعین ہونا بھی ضروری ہے، اگر کسی بھی طرح سے اجرت طے نہ ہو، تو عقدِ اجارہ فاسد ہو جاتا ہے جو کہ ناجائز و گناہ ہے اور شرعاً ایسے فاسد عقد کو ختم کرنا بھی لازم ہوتا ہے۔ لہٰذا اجرت طے کیے بغیر کام کرنا، جائز نہیں، بلکہ زید پر لازم ہے کہ کام کی نوعیت، ڈیزائن اور دیگر ضروری تفصیلات کے ساتھ پہلے ہی اجرت بھی باہمی رضامندی سے طے کرلے، تاکہ بعد میں کسی قسم کا اختلاف و نزاع پیدا نہ ہو۔

اجارے میں اجرت سے متعلق حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے: ”أن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نهى عن استئجار الأجير حتى يبين أجره“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اجیر کو اجرت بتائے بغیر اجارہ پر رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسند احمد، جلد 18، حدیث 11649، صفحہ 193، مطبوعہ مؤسسة الرسالة، بيروت)

اجارہ کے شرعاً درست ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ اُجرت معلوم ہو۔ چنانچہ مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: ”يشترط ان تکون الاجرۃ معلومۃ“ ترجمہ: صحتِ اجارہ کی ایک شرط یہ ہے کہ اُجرت معلوم ہو۔ (مجلۃ الاحکام العدلیہ، صفحہ86، مطبوعہ کراچی)

اگر اجارہ میں اجرت معلوم نہ ہو، تو اجارہ فاسد ہوجاتا ہے۔ چنانچہ الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: ”كل جهالة تفسد البيع تفسد الإجارة من جهالة المعقود عليه أو الأجرة أو المدة لما عرف أن الجهالة مفضية إلى المنازعةو الأصل قوله عليه الصلاة و السلام: "من استأجر أجيرا فليعلمه أجره" شرط أن تكون الأجرة معلومة كما شرطه في البيع“ ترجمہ: ہر وہ جہالت جو بیع کو فاسد کر دیتی ہے اجارے کو بھی فاسد کر دیتی ہے، جیساکہ معقود علیہ، اجرت یا مدت کی جہالت، کیونکہ یہ معلوم ہے کہ جہالت جھگڑے کی طرف لے جاتی ہے اوراس میں اصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ جس نے کسی اجیر کو اجارے پر رکھا، تو اسے اس کی اجرت بتا دے۔ اجرت کا معلوم ہونا شرط ہے جیساکہ بیع میں شرط ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 2، ص 57، مطبوعہ، بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”اجارہ جو امر جائز پر ہو وہ بھی اگر بے تعینِ اجرت ہو، تو بوجہِ جہالت اجارہ فاسدہ اور عقد حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 529، مطبوعہ،رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اجارہ فاسدہ سے متعلق سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اجارہ فاسدہ معصیت ہے اور معصیت کا ازالہ (ختم کرنا) فرض۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 346، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: GUJ-0189
تاریخ اجراء: 01 ربیع الثانی 1448ھ / 14 سمتبر 2026ء