ملازم کا چیز مہنگی بیچ کر اضافی نفع خود رکھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ملازم کا چیز مہنگی بیچ کر اضافی نفع مالک کی اجازت کے بغیر خود رکھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں ایک شاپ پر کام کرتا ہوں اور میری ماہانہ تنخواہ مقرر ہے، شاپ پر بہت ساری پراڈکٹ ہیں، کھبی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزوں کا ریٹ میں مالک سے پوچھتا ہوں مثال کے طور پر ایک چیز کا ریٹ پوچھا انہوں نے کہا 1000 کی بیچ دو، اب میں اس چیز کو اگر 1200 میں بیچتا ہوں اور 200 خود پرافٹ رکھتا ہوں تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب
جی نہیں! آپ کا ایسا کرنا ہرگز جائز نہیں کیونکہ آپ دکان پر ملازم ہیں اور دکان کے مالک نے آپ کو چیز بیچنے کا وکیل یعنی نمائندہ بنایا ہے تو جو بھی چیز بیچ رہے ہیں وہ در اصل آپ مالک ہی کی چیز بیچ رہے ہیں اور اس کو جتنی قیمت پر بیچیں گے وہ ساری قیمت مالک کی ملکیت ہوگی کیونکہ آپ کو تو آپ کے کام کی اجرت یعنی تنخواہ مل رہی ہے۔ لہٰذا آپ ایک ہزار سے زیادہ کی بھی بیچیں گے، تو وہ تمام رقم مالک کی ہوگی، مالک کی اجازت کے بغیر آپ اس میں سے کچھ نہیں رکھ سکتے۔ اب تک اگر ایسا کیا ہے تو آپ پر لازم ہے کہ جتنی اضافی رقم آپ نے اس طرح لی ہے ساری مالک کو واپس کردیں اور آئندہ ہرگز ایسا نہ کریں۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2615
تاریخ اجراء:01 جمادی الاولٰی 1447ھ/24 اکتوبر 2025ء