logo logo
AI Search

حمل ضایع ہونے کے خوف سے بہو کو میکے جانے سے روکنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اس خیال سے بہو کو میکے نہ جانے دینا کہ وہاں حمل ضائع ہوجائے گا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

سسرال والے حاملہ عورت کو حاملہ ہونے کے بعد سات ماہ تک اس کے والدین کے گھر نہیں جانے دیتے اور ان کا خیال یہ ہے کہ والدین کے گھر جانے سے حمل ضائع ہونے یا اس میں مسائل ہونے کا خدشہ ہے۔ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟ نیز والدین کے گھر نہ جانے دینے کی کیا شرعى حیثیت ہے؟

جواب

عورت والدین کے گھر جائے گی تو اس کا حمل ضائع ہو جائے گا یہ بد شگونی ہے اور بدشگونی اسلام میں جائز نہیں اور اس وجہ سے والدین کے گھر جانے سے رکنے کی بھی شرعاً اجازت نہیں۔ شرعی اعتبار سے عورت ہر ہفتے اپنے والدین کے گھر جاسکتی ہے، البتہ شوہر کی اجازت کے بغیر وہاں رات نہیں گزار سکتی، ہاں اگر ڈاکٹرز کسی طبی خدشہ کی بناء پر زیادہ نقل و حرکت سے منع کریں تو پھر احتیاط اسی میں ہے کہ ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کریں۔

صحیح بخاری میں ہے: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: لا عدوى و لا طيرة“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عدوی (یعنی مرض لگنا، متعدی ہونا) نہیں اور نہ بدفالی ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 5707، ج 7، ص 126، دار طوق النجاۃ)

بہارشریعت میں ہے: عورت کے والدین ہر ہفتہ میں ایک بار اپنی لڑکی کے یہاں آسکتے ہیں، شوہر منع نہیں کرسکتا، ہاں اگر رات میں وہاں رہنا چاہتے ہیں، تو شوہر کومنع کرنے کا اختیار ہے اور والدین کے علاوہ اور محارم سال بھر میں ایک بار آسکتے ہیں۔ یوہیں عورت اپنے والدین کے یہاں ہر ہفتہ میں ایک بار اور دیگر محارم کے یہاں سا ل میں ایک بار جاسکتی ہے، مگر رات میں بغیر اجازت شوہر وہاں نہیں رہ سکتی، دن ہی دن میں واپس آئے۔ (بہارشریعت، جلد 2، حصہ 8، صفحہ 272، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2491
تاریخ اجراء: 02 ربیع الآخر 1447ھ / 26 ستمبر 2025ء