اسٹرابری کھانے کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا اسٹرابری جہنمی پھل ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں کے معروف پھل اسٹرابری (Strawberry) سے متعلق سوشل میڈیا پر کچھ خبریں چل رہی ہیں کہ یہ نہیں کھا سکتے کیونکہ یہ جہنمی پھل زقوم ہی ہے۔ عرض یہ ہے کہ اسٹرابری پھل کھانا، جائز ہے یا نہیں؟ اور سوشل میڈیا پر چلنے والی بات درست ہے یا نہیں؟ زقوم کیا ہوتا ہے؟ اس سے متعلق رہنمائی فرمادیں۔
سائلہ: کنزہ خرم (لاہور)
جواب
اسٹرابری پھل کھانا بالکل جائز ہے۔ اس میں شرعی طور پر کوئی حرج نہیں کہ عند الشرع جس چیز کی ممانعت قرآن وسنت سے ثابت ہو اور اس کی حرمت و ممانعت پر دلیل شرعی قائم ہو صرف وہی حرام وممنوع ہے، بقیہ سب چیزیں حلال و مباح ہیں اور اسٹرابری کے حرام یا ممنوع ہونے پر کوئی دلیل شرعی قائم نہیں ہے بلکہ قرآن وحدیث میں اس کی ممانعت کی دلیل نہ ہونا ہی اس کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔ باقی اسٹرابری کو زقوم قرار دینا قرآن و حدیث و لغت سے جہالت اور باطل و بے اصل ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کے مطابق زقوم جہنمیوں کو کھلائے جانے والے ایک ایسے درخت کا نام ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے اور وہ چھوٹے پتوں والا، بدبودار، سخت کڑوا ہوتا ہے۔ دیکھنے میں اتنا بد صورت و کریہہ کہ اس کا شگوفہ شیطان کا سر معلوم ہو اور لغات میں بھی اس کے معانی تھوہڑ، مہلک و زہریلی غذا، کانٹے دار پودہ، ایک تلخ اور بدبودار درخت جواہل دوزخ کی غذا ہے وغیرہ آتے ہیں، ان میں سے کوئی ایک معنی بھی اسٹرابری پر صادق نہیں آتا بلکہ اس کے برعکس اسٹرابری ایک خوش رنگ، خوش ذائقہ اور لذید پھل ہے، لہٰذا جب وہ نام، صورت، ذائقہ ہر اعتبار سے زقوم سے الگ ہے تو اسے خواہ مخواہ زقوم قرار دے کر کھانا ممنوع قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ شریعت مطہرہ پر افتراء ہے اور ایسا کہنے والے بغیر علم کے فتوی دینے اور اپنی ان باتوں کی وجہ سے لوگوں میں تشویش پیدا کرنے کی وجہ سے گناہگار، مستحق عذاب نار ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی ان جہالتوں سے باز آئیں اور توبہ کریں۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ- وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْؕ- عَفَا اللّٰهُ عَنْهَاؕ- وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴾ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتررہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی اللہ انہیں معاف فرماچکا ہے اور اللہ بخشنے والا حِلم والا ہے۔ (قرآن کریم، سورۃ المائدۃ، آیت: 101)
صدر الافاضل فخر الاماثل مولانا مفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی اس آیت کو اپنے فتاویٰ میں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ جس امر پر شریعت طاہرہ نے حکم نہ دیاہووہ معاف ہے اس پرمواخذہ نہیں اور مباح اسی کوکہتے ہیں کہ اس کے کرنے پر کوئی عذاب نہ ہوحدیث شریف میں وارد ہوا ماسکت عنہ فھو مماعفی عنہ یعنی جس چیز کے بیان سے سکوت فرمایاوہ معاف ہے یعنی اس کے کرنے پرکوئی عذاب نہیں۔ (فتاوی صدر الافاضل، صفحہ 525 شبیر برادرز، لاہور)
جب تک کسی چیزکی حرمت پر دلیل قائم نہ ہو تو اسے حرام قرار نہیں دیا جائے گا اور اسٹرابری کی حرمت پر کوئی دلیل قائم نہیں لہذا یہ بھی حلال ہے، چنانچہ ردالمحتارمیں ہے و صرح في التحرير بأن المختار أن الأصل الإباحة عند الجمهور من الحنفية و الشافعية اهـ ترجمہ: اور تحریر میں تصریح ہے کہ مختار یہ ہے کہ جمہور علمائے حنفیہ وشافعیہ کے نزدیک ا صل اباحت ہے۔ (رد المحتار، سنن الوضو، جلد 1، صفحہ 102، مطبوعہ بیروت(
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ اشیاء کی حلت وحرمت پر قاعدہ شرعی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی جس چیزکی ممانعت شرع مطہرہ سے ثابت اور اس کی برائی پر دلیل شرعی ناطق، صرف وہی ممنوع و مذموم ہے، باقی سب چیزیں جائزومباح رہیں گی، خاص ان کا ذکر جواز قرآن و حدیث میں منصوص ہو یا ان کا کچھ ذکر نہ آیا ہو تو جو شخص جس فعل کو ناجائز و حرام یا مکروہ کہے اس پرواجب کہ اپنے دعوے پردلیل قائم کرے اور جائز و مباح کہنے والوں کو ہرگز دلیل کی حاجت نہیں کہ ممانعت پر کوئی دلیل شرعی نہ ہونا یہی جواز کی دلیل کافی ہے۔ جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ و مستدرک حاکم میں سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الحلال ما احل اللہ فی کتابہ و الحرام ماحرّم اللہ فی کتابہ و ما سکت عنہ فھو مما عفاعنہ حلال وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جوخدانے اپنی کتاب میں حرام فرمادیااور جس کا کچھ ذکرنہ فرمایا وہ اللہ کی طرف سے معاف ہے یعنی اس کے فعل پر کچھ مواخذہ نہیں ۔ ۔ ۔ مرقاۃ میں فرماتے ہیں: فیہ ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اصل سب چیزوں میں مباح ہونا ہے۔ شیخ شرح میں فرماتے ہیں: و ایں دلیل ست برآنکہ اصل دراشیاء اباحت است یہ دلیل ہے اس بات پرکہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 526، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اللہ تعالی زقوم کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَ ذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ (۶۲) اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ (۶۳) اِنَّھَا شَجَرَۃٌ تَخْرُ جُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ (۶۴) طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ (۶۵) فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ﴾ ترجمہ: تو یہ مہمان نوازی بہتر ہے یا زقوم کادرخت؟ بیشک ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لئے آزمائش بنادیا ہے۔ بیشک وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔ اس کا شگوفہ ایسے ہے جیسے شیطانوں کے سرہوں۔ پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے۔ (قرآن مجید، سورۃ الصافات، آیت نمبر 62 تا 66)
اس آیت کے تحت تفسیر بیضاوی میں زقوم کامعنی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے و هو: اسم شجرة صغيرة الورق دفر مرة تكون بتهامة ترجمہ: اور زقوم ایک ایسے درخت کا نام ہے جو چھوٹےپتوں والا، بدبودار، کڑوا ہوتا ہے۔ تہامہ کے علاقہ میں پایا جاتا ہے۔ (أنوار التنزيل و أسرار التأويل، سورۃ الصافات، آیت نمبر 62، جلد 5، صفحہ 11، دار إحياء التراث العربي)
تفسیر قرطبی میں ہے الزقوم مشتقة من التزقم و هو البلع على جهد لكراهتها و نتنها ۔ ۔ و اختلف فيها هل هي من شجر الدنيا التي تعرفها العرب أم لا على قولين أحدهما أنها معروفة من شجر الدنيا. و من قال بهذا اختلفوا فيها، فقال قطرب: إنها شجرة مرة تكون بتهامة من أخبث الشجر. و قال غيره: بل هو كل نبات قاتل. القول الثاني: إنها لا تعرف في شجر الدنيا۔ ملتقطاً ترجمہ: زقوم، تزقم سے مشتق ہے۔ اور تزقم کا مطلب ہے: کسی چیز کی کراہت وبدبو کے باعث اسے کوشش کے ساتھ (مجبوراً) نگلنا۔ اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا یہ دنیا کے درختوں میں سے کوئی ہے جسے اہل عرب جانتے ہیں یا ایسا ہے جسے نہیں جانتے؟ دو قولوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دنیا کے معروف درختوں میں سے ہے۔ اس قول کے قائلین میں بھی اس کی حقیقت کے متعلق اختلاف ہے۔ قطرب نے کہا: بیشک زقوم ایک کڑوا، سب سے خبیث درخت ہے جو تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ اور قطرب کے علاوہ دوسروں نے کہا: بلکہ زقوم ہر قاتل (زہریلی) جڑی بوٹی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ زقوم کا درخت دنیا کے معروف درختوں میں سے نہیں ہے۔ (تفسیر قرطبی، سورۃ الصافات، آیت نمبر 62، جلد 5، صفحہ 85، دار الكتب المصرية القاهرة)
تفسیر نسفی میں زقوم کو شیطانوں کے سروں سے تشبیہ دینے کی وجہ یوں لکھی ہے و شبه برؤوس الشياطين للدلالة على تناهيه في الكراهة وقبح المنظر هائلة جداً ترجمہ: اور زقوم کو شیطانوں کے سروں سے، اس کے کراہت کی انتہا پرپہنچے ہونے اور دیکھنے میں انتہائی بدصورت ہونے پر دلالت کرنے کےلیے تشبیہ دی گئی ہے۔ (تفسیر نسفی، سورۃ الصافات، آیت نمبر 62، جلد 3، صفحہ 125، مطبوعہ دار الكلم الطيب، بيروت)
تفسیر صراط الجنان میں ہے یعنی جنت کی نعمتیں، لذتیں، وہاں کے نفیس و لطیف کھانے اور مشروبات، دائمی عیش اور بے ا نتہا راحت و سُرور بہتر ہے یا جہنم میں ملنے والا زَقوم کا درخت جو نہایت تلخ، انتہائی بدبودار، حد درجہ کا بدمزہ اور سخت ناگوار ہے، اس سے دوزخیوں کی میزبانی کی جائے گی اور ان کو اس کے کھانے پر مجبور کیا جائے گا۔ ۔ ۔ بیشک زقوم ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے اور اس کی شاخیں جہنم کے ہر طبقے میں پہنچتی ہیں، اس کا شگوفہ بد صورتی میں ایسے ہے جیسے شیطانوں کے سرہوں یعنی نہایت بدہیئت اور قبیح المنظر، سانپوں کے پَھن کی طرح۔ (تفسیر صراط الجنان، سورۃ الصافات، آیت 62 تا 65 جلد 8، صفحہ 314، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
احادیث طیبات میں بھی زقوم کا ذکر موجود ہے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: لو أن قطرة من الزقوم قطرت في دار الدنيا لأفسدت على أهل الدنيا معايشهم، فكيف بمن يكون طعامه؟ ترجمہ: اگر زقوم کا ایک قطرہ اس دنیا میں ٹپکا دیا جائےتو دنیا والوں پر ان کی روزیاں خراب کردے تو اس کا کیا حال ہوگا جس کا کھانا ہی زقوم ہوگا؟۔ (سنن ترمذی، جلد 4، صفحہ 706، رقم الحدیث: 2585، مطبوعہ مصر)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں علامہ علی بن سطان القاری رحمۃاللہ علیہ مذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں: أي من ماء شجر يخرج في أصل الجحيم. قال الشارح: الزقوم شجرة خبيثة مرة كريهة الطعم و الرائحة، يكره أهل النار على تناوله، فلو أن قطرة منه (قطرت في دار الدنيا لأفسدت) أي لمرارتها و عفونتها و حرارتها (على أهل الأرض معايشهم) ترجمہ: یعنی اس درخت کا پانی جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔ شارح نے فرمایا: زقوم ایک خبیث، کڑوا، بد ذائقہ وبدبودار درخت ہے۔ اہل جہنم اسے کھانا ناپسند کریں گے۔ پس اگر اس کا ایک قطرہ اس دنیا میں بہادیا جائے تو اس کی کڑواہٹ، بدبو اور گرمی کی وجہ سے اہل زمین کی تمام کھانے، پینے کی چیزیں خراب ہوجائیں۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، باب صفۃ الدار و اھلھا، جلد 9، صفحۃ 3620، دار الفکر، بیروت)
عربی سے اردو کی معروف لغت المنجد میں زقوم کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: الزقوم: تھوڑ کا درخت۔ جہنم کے ایک درخت کا نام۔ مہلک خوراک۔ ایک خود رو گھاس، جس کا پھول چمبیلی کے پھول کے مشابہ ہوتا ہے۔ (المنجد، ز ق م، صفحہ 436، مطبوعہ کراچی)
عربی سے اردو کی معروف لغت مصباح اللغات میں زقوم کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: الزقوم: جہنم کے ایک درخت کا نام۔ تھوہڑ۔ مہلک خوراک۔ ایک جنگلی گھاس، جس کا پھول چمبیلی کے مانند ہوتا ہے۔ (مصباح اللغات، ز ق م، صفحہ 341، مطبوعہ اردو بازار لاہور)
القاموس الوحید میں زقوم کا معنی یوں لکھا ہے الزقوم: ایک تلخ اور بدبودار درخت جواہل دوزخ کی غذا ہے۔ ہر مہلک غذا۔ (القاموس الوحید، ز ق م، صفحہ 710، مطبوعہ کراچی(
اردو کی مشہور لغت فیروز اللغات میں ہے زقوم: تھوہڑ، ایک خاردار پودا (فیروز اللغات، ز ق، صفحہ 790، مطبوعہ کراچی)
بلا دلیل شرعی کسی چیز کو حرام کہنا، بغیر علم کے فتوی دینا حرام اور ناجائز و گناہ ہے، چنانچہ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر اور کنزالعمال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ’’و اللفظ للاول: من افتی بغیر علم لعنتہ ملٰئکۃ السماء و الارض‘‘ جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، جلد 7، صفحہ 633، رمز حرف المیم، دارالحدیث القاہرۃ)
بلکہ احادیث میں بغیر علم کے فتوی دینے والوں کاظہور قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اتخذالناس رء وسا جہالاًفسئلوا فافتوا بغیر علم فضلو ا و اضلوا ترجمہ: لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے پس ان سے سوال کریں گے تو وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے پس وہ خود بھی گمراہ ہونگے اور اوروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 20، باب کیف یقبض العلم، مطبوعہ کراچی)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بے علم فتوی ٰ دینے والااگر کچھ جاہلوں کا مقتدا ہو تو ضرور حدیث فضلوا و اضلوا (وہ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ کیا) کا مصداق ہے آپ بھی گمراہ ہوا اور انھیں بھی گمراہ کرے گا ۔ ۔ اور اگرمقتدا ئے دیگر ان نہ ہو تو اس حدیث سے کسی حال بچ کر نہیں جا سکتا کہ: من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء و الارض۔ جو بغیر علم کے فتویٰ دے آسمان و زمین کے فرشتے اس پر لعنت کریں۔ ۔ ۔ باطل یا ضعیف یا مشکوک مسائل پھیلا کر مسلمانوں میں اختلاف و فتنہ و فساد ڈالنا حرام ہے۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بشروا و لا تنفروا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: بشارت دیا کرو، نفرت نہ دلایا کرو۔ جو بنا علم کسب شہرت کے لئے ایسا کرے عالم نہیں، عالم دین نائب رسول ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور مسلمانوں میں بلاوجہ شرعی اختلاف و فتنہ پیدا کرنا نیابت شیطان۔ حدیث میں ہے: الفتنۃ نائمۃ لعن اللہ من ایقظہا۔ فتنہ سو رہاہے اس کے جگانے والے پر اللہ کی لعنت۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 252، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: WAT-4831
تاریخ اجراء: 10 رجب المرجب 1444ھ / 02 فروری 2023ء