logo logo
AI Search

حیض کی وجہ سے سعی میں تاخیر کرنے پر کفارہ لازم ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طواف زیارت کے بعد مخصوص ایام شروع ہوجائیں تو!

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک خاتون نے حج کیا، طوافِ زیارت کے بعد آرام کرنے کے لئے ہوٹل آئی، تو ہوٹل پہنچنے کے بعد اسے حیض آ گیا، اس نے کسی سے مسئلہ پوچھا، تو بتایا گیا کہ ناپاکی کی حالت میں سعی کرنا درست نہیں ہے، لہٰذا وہ مکہ شریف میں ہوٹل میں ہی ٹھہری رہی، جب پانچ چھ دن بعد حیض سے پاک ہوئی، تو اس نے سعی کی اور اپنے وطن آگئی، تو اس صورت میں کیا اس کا حج اد اہوگیا اور سعی میں تاخیر کرنے کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم ہوگا؟ طواف زیارت پاکی کی حالت میں ہی کیا تھا۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس خاتون کا حج (دیگر شرائط کی موجودگی میں) ادا ہوگیا اور سعی میں تاخیر کرنے کی وجہ سے کوئی گناہ یا کفارہ لازم نہ آیا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ صفا و مروہ کے مابین سعی کرنا حج کے واجبات میں سے ہے، لیکن حج کا یہ واجب غیر مؤقت ہے، یعنی اس کی ادائیگی کے لئے کوئی انتہائی وقت مقرر نہیں، لہٰذا جس طواف کے بعد سعی کر سکتے ہیں، اس طواف کے بعد کتنی ہی تاخیر ہو جائے، یہ واجب ساقط نہیں ہوگا، حتی کہ اگر کسی نے مناسکِ حج ادا کئے اور سعی کئے بغیر اپنے وطن لوٹ آیا، پھر واپس جا کر سعی کرلی، تو اس کا واجب ادا ہو جائے گا، لیکن خیال رہے! بلاعذرِ شرعی سعی کا ترک گناہ اور دَم لازم ہونے کا سبب ہے۔ یہاں ترکِ سعی کا تحقق خروجِ مکہ سے ہوگا، یعنی جب تک مکہ میں ہے، سعی کا تارک نہیں کہلائے گا، لہٰذا مکہ میں جتنا عرصہ رہے، سعی میں تاخیر کی وجہ سے نہ گناہ گار ہے اور نہ دم لازم ہوگا، (البتہ بغیر عذر اسے طواف سے مؤخر کرنا مکروہ و خلافِ سنت ہے) اور اگر سعی چھوڑ کر مکہ سے چلا آئے، تو اب سعی کا تارک قرار پائے گا اور بلاعذرِ شرعی ایسا کرنے پر گناہ گار ہوگا اور اس پر دَم بھی واجب ہو جائے گا، ہاں! اگر واپس آکر سعی کرلے، تو واجب ادا ہو جانے کی وجہ سے لازم شدہ دَم ساقط ہو جائے گا اور جو گناہ ہوا اس سے توبہ بھی کرے۔

اس تفصیل سے صورتِ مسئولہ کا جواب واضح ہوگیا کہ جب وہ خاتون طوافِ زیارت کے بعد مکہ شریف میں ہی ٹھہری رہی اور اس نے مکہ سے نکلنے اور وطن واپس آنے سے پہلے سعی کرلی، تو بلاشبہ اس کا واجب ادا ہوگیا اور اس تاخیر کی وجہ سے نہ سعی کی تارک کہلائی اور نہ کوئی گناہ یا کفارہ لازم آیا۔

نوٹ: جس نے حیض کی حالت میں سعی درست نہ ہونے کا مسئلہ بتایا، اس نے غلط کہا۔ درست مسئلہ یہ ہے سعی کے لئے طہارت شرط نہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر وہ خاتون حیض کی حالت میں بھی سعی کرلیتی، تب بھی سعی ادا ہوجاتی۔

تنبیہ: سعی چھوڑ کر مکہ سے چلے جانے اور پھر واپس آکر سعی کرنے پر یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اگر میقات کے اندر سے ہی واپس لوٹے، تو بغیر احرام کے بھی آسکتا ہے، البتہ اگر میقات کے باہر سے واپس آئے، تو احرام کے ساتھ آنا ہوگا کما فی عامۃ الکتب۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2022ء