logo logo
AI Search

کیا پاکستان سے بغیر احرام کے جدہ جانا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پاکستان سے جدہ جانے والے کیلئے احرام باندھنا ضروری ہے یا نہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرمائے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ایک قریبی رشتہ دار جدہ (سعودی عرب) میں ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں، وہ پاکستان سے چھٹی گزار کے واپس جدہ کام پر گئے ہیں۔ ان کے لیے میقات سے گزرنے پر احرام اور عمرے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ ان کی نیت کام پر جانے کی ہے اور اگر ان کا ہوائی جہاز براستہ جدہ کسی دوسرے شہر مثال کے طور پہ الریاض، مدینہ شریف وغیرہ جاتا ہے۔ تو اس کے لیے میقات سے گزرنے پر احرام باندھنے اور عمرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں وہ بغیر احرام جدہ جاسکتے ہیں، ان کے لئے احرام ضروری نہیں ہے کیونکہ اولاً ان کی نیت مکہ مکرمہ جانے کی نہیں ہے بلکہ جدہ جانے کی ہے۔

ہاں اگر ان کی نیت پہلے مکہ جانے کی ہوتی اگرچہ کام کی غرض سے ہی جاتے، تو جدہ سے پہلے میقات سے احرام باندھنا ضروری ہوتا اور نہ باندھنے کی صورت میں دم لازم ہوتا کیونکہ مکہ مکرمہ جانے کے لئے بغیر احرام کے میقات سے گزرنا جائز نہیں ہوتا، اور اگر کوئی میقات کے اندر حرم مکہ کے علاوہ کسی دوسرے مقام کی نیت سے جارہا ہو تو میقات سے احرام باندھنا ضروری نہیں ہوتا۔

بہارشریعت میں ہے: مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندر کسی اور جگہ مثلا جدہ جانا چاہتا ہے تو اسے احرام کی ضرورت نہیں پھر وہاں سے اگر مکہ جانا چاہے تو بغیر احرام جاسکتا ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1068، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-132
تاریخ اجراء: 20 شعبان المعظم 1443ھ / 24 مارچ 2022ء