احرام میں لبیک اللهم لبیک کے ورد کی مدت اور حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا احرام میں تلبیہ (لبیک اللّٰھم لبیک) کا ورد ہر وقت کرنا ضروری ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا تلبیہ یعنی لبیک اللّٰھم لبیک کا ورد حج کی طرح عمرے کے احرام میں بھی ہروقت کیا جائے گا؟
جواب
جی ہاں! عمرے کے احرام میں بھی اس کا خوب ورد کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ احرام کی نیت کرنے کے بعد کم از کم ایک مرتبہ لبیک کہنا لازم اور تین مرتبہ کہنا افضل ہے۔
فتاوی عالمگیری میں احرام کی شرائط وغیرہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: "لبیک اللّٰھم لبیک لبیک لا شریک لک الخ۔ و ھی مرۃ شرط و الزیادۃ سنۃ" یعنی لبیک اللّٰھم لبیک لبیک لا شریک لک آخر تک ایک مرتبہ کہنا شرط اور زیادہ کہنا سنت ہے۔ (فتاوی ھندیہ، جلد 1، صفحہ 222، مطبوعہ: پشاور)
ردالمحتار میں ہے: "تکرارھا سنۃ فی المجلس الاول و کذا فی غیرہ و عند تغیر الحالات مستحب موکدا و الاکثار مطلقا مندوب و یستحب ان یکررھا کلما شرع فیھا ثلاثا علی الولاء و لا یقطعھا بکلام" یعنی پہلی مجلس اور اس کے علاوہ بھی تلبیہ کی تکرار سنت ہے، جبکہ تغیرِ حالات کے وقت تلبیہ کی تکرارمستحبِ موکد ہے اور اس کی کثرت کرنا مطلقاً مندوب ہے اور جب تلبیہ شروع کرے، تو مستحب یہ ہے کہ پے در پے تین بار اس کی تکرار کرے اور کسی کلام سےاس کو قطع نہ کرے۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 562 ۔ 563، مطبوعہ: کوئٹہ)
رفیق المعتمرین میں ہے: عمرے کی نیت کرنے کے بعد کم از کم ایک مرتبہ لبیک کہنا لازمی ہے، اور تین مرتبہ کہنا افضل ہے، اے مدینہ کے مسافروں: آپ کا احرام شروع ہوگیا۔ اب یہ لبیک ہی آپ کا وظیفہ اور ورد ہے، اٹھتے بیٹھتے، چلتے، پھرتے اس کا خوب ورد کیجیے۔ (رفیق المعتمرین، ص 24، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-530
تاریخ اجراء: 08 ربیع لاول 1444ھ / 05 اکتوبر 2022ء