logo logo
AI Search

کسی دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے کا طریقہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کسی کی طرف سے عمرہ کرنے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی کی طرف سے عمرہ کرنا ہو، تو عمرہ کی نیت میں اس کا نام لینا ہوگا کہ فلاں کی طرف سےعمرہ کر رہا ہوں، یا پھر اپنی طرف سےعمرہ کی نیت کریں گے، اور اس کو ثواب پہنچادیں گے؟

جواب

دونوں طریقے درست ہیں۔ کہ دوسرے کی طرف سےعمرہ کرنا درحقیقت اسےعمرہ کا ثواب پہنچانا ہے۔ لہذا اگر کسی کی طرف سےعمرہ کرنا ہو، اس کا نام لیکر بھی نیت کرسکتے ہیں کہ: یااللہ عزوجل! میں یہ عمرہ فلاں بن فلاں کی طرف سے ادا کر رہا ہوں، اسے قبول فرما۔ یا پھر اپنی طرف سےعمرہ کر کے اسے ایصال ثواب بھی کرسکتے ہیں۔ بحر الرائق میں ہے: لا فرق بین ان یکون المجعول لہ میتا او حیا، و الظاھر انہ لا فرق بین ان ینوی بہ عند الفعل للغیر او یفعلہ لنفسہ ثم بعد ذٰلک یجعل ثوابَہ لغیرہ۔ ترجمہ: اس میں کوئی فرق نہیں کہ عمل کا ثواب جس کے لئے ہدیہ کرے وہ وفات پا چکا ہو یا زندہ ہو، اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں (بھی) کوئی فرق نہیں کہ دوسرے کے لئے اس (یعنی ایصالِ ثواب) کی نیت کام کے وقت کرے یا وہ کام اپنی نیت سے کرے، پھر اس کے بعد اس کا ثواب دوسرے کو ہدیہ کر دے۔ (البحر الرائق، ج 3، ص 106، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1241
تاریخ اجراء: 12 ربیع الثانی 1444ھ / 08 نومبر 2022ء