اگر حجام کی اجرت ادا کرنے سے رہ گئی تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حج کے دوران حجام کی اجرت ادا کرنے سے رہ گئی تو کیا کرے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
دو شخص حج کیلئے گئے تھے اور وہاں انہوں نے حلق کروایا اور حجام کو پیسے دئیے لیکن چونکہ اس کے پاس کُھلے نہیں تھے، لہذا اس نے ان لوگوں سے فی الحال حلق کی اجرت نہیں لی اور دونوں کے موبائل نمبر لے لئے مگر اپنا موبائل نمبر نہیں دیا کہ وہ لوگ اُس سے رابطہ کر کے اسے وہ رقم پہنچادیتے، اب ایسی صورت میں وہ لوگ اس رقم کا کیا کریں؟
جواب
عام طور پر حجاج کرام کسی دکان پر جاکر حلق کرواتے ہیں اور جس دکان سے حلق کروایا ہوتا ہے، اس کا کچھ نا کچھ پتا بھی معلوم ہوتا ہے لہذا اگر معاملہ یہی ہو تو ایسی صورت میں اُس دکان دار تک پہنچنا اتنا زیادہ مشکل نہیں، ہر ممکن کوشش کی جائے کہ اُس دکان دار تک پہنچا جاسکے اگر وہ مل جائے تو اُسے اس کی اجرت ادا کردی جائے، اور اگر کسی طرح بھی اُس شخص کی دکان معلوم نہ ہوسکے یا کسی راہ چلتے حجام سے حلق کروایا ہو اور اب اس کے بارے میں کچھ پتا نہ ہو کہ وہ کہاں ہے؟ تو ایسی صورت میں انتظار کریں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جب اس نے ان لوگوں کا موبائل نمبر لیا ہے تو وہ اپنی رقم لینے کیلئے ان لوگوں سے رابطہ بھی کرے، پھر اگر کسی طرح بھی اس کے رابطہ کرنے یا ملنے کی امید باقی نہ رہے تو ایسی صورت میں اُن دونوں میں سے ہر ایک اپنے حصہ کی رقم اُس کی طرف سے صدقہ کردے۔ ہاں صدقہ کرنے کے بعد اگر وہ مل گیا یا اس سے رابطہ ہوگیا اور وہ صدقہ کرنے پر راضی نہ ہوا تو اب اُنہیں اس کی وہ رقم دینی ہوگی۔
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے: (عليه ديون ... جهل أربابها و أيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في العقبي) ملتقطاً۔ ترجمہ: کسی پر دوسروں کے قرضے ہوں، لیکن ان کے مالکوں کا پتا نہیں اوراسے مالکوں کے ملنے کی امید بھی نہیں رہی، تو اب اس پر اتنی مقدار میں اپنے مال میں سے صدقہ کرنا لازم ہے۔ اور جب اس نے یہ کام کرلیا، تو اب آخرت میں قرضوں کے مالکین کی طرف سے اس شخص پر کوئی مطالبہ نہ رہے گا۔ (تنویر الابصار مع در مختار، کتاب اللقطۃ، جلد 6، صفحہ 434، دار المعرفۃ، بیروت)
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے: ’’أما اذا علمھم فلا یبرأ دنیا و أخری إلا بالدفع الیھم … و أما اذا کان یرجو المعرفۃ فلا یتصدق‘‘ ترجمہ: بہر حال اگر اسے مالکین کا علم ہے، تو اب یہ شخص دنیا اور آخرت میں بری نہیں ہوسکتا، مگر یہ کہ مال ان کے مالکوں تک پہنچا دے۔ اور اگر مالک ملنے کی امید ہے تو اب یہ شخص مال کو صدقہ نہیں کر سکتا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر مختار، کتاب اللقطۃ، جلد 6، صفحہ 499، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے کچھ اسی طرح کا سوال ہوا، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص نے گاڑی میں سفر کیا اور اس وقت اس شخص کے پاس پیسے نہیں تھے لہذا اس نے گاڑی والے سے کہا کہ پیسے صبح لے لینا، اس کے بعد صبح وہ شخص گاڑی والے کو پیسے دینے آیا لیکن وہ اسے نہ ملا، اب وہ شخص کیا کرے؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: اسٹیشن پر جانے والی گاڑیاں اگر کوئی مانع قوی نہ ہو تو ہر گاڑی کہ آمد و رفت پر ضرور آتی جاتی ہیں۔ اگر زید اسٹیشن پر تلاش کرتا، ملنا آسان تھا، اب بھی خود یا بذریعہ کسی متدیّن معتمد کے تلاش کرائے، اگر ملے دے دئیے جائیں، ورنہ جب یاس و نا اُمیدی ہوجائے اُس کی طرف سے تصدّق کردے، اگر پھر كبھی وہ ملے اور اس تصدّق پر راضی نہ ہو، تو اُسے اپنے پاس سے دے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 55، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1795
تاریخ اجراء: 17 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 06 جولائی 2023ء