logo logo
AI Search

کیا حج بدل کرنے والے کا اپنا حج بھی ادا ہو جاتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حجِ بدل کرنے والے کا فرض حج ادا ہوگا یا نہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا حجِ بدل کرنے والے کا، فرض حج ادا ہوجاتا ہے یا جب اس میں حج کی شرائط پائی جائیں گی، پھر سے حج کرنا ہوگا؟

جواب

حجِ بدل کرنے والے کا اپنا فرض حج ادا نہیں ہوتا بلکہ جس کی طرف سے حجِ بدل کیا جارہا ہو، اسی کا حج ادا ہوگا نیز یہ مسئلہ بھی یاد رکھیں کہ جس شخص پر اپنا حج فرض ہو، اسے حجِ بدل کے لئے بھیجنا مکروہِ تحریمی، ناجائز ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ وہ شخص دوسرے کی طرف سے حجِ بدل کی بجائے اپنا فرض حج ادا کرے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ ایسے شخص کو حجِ بدل کے لئے بھیجا جائے جس نے اپنا فرض حج ادا کرلیا ہو جبکہ ایسے شخص کو بھیجنا جس پر ابھی حج فرض نہیں ہوا یہ بھی جائز ہے لیکن ایسے شخص کے پاس جب استطاعت و حج کی دیگر شرائط موجود ہوں گی، تو حج فرض ہوجائے گا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ذو القعدۃ الحرام 1441ء