زکوٰۃ سے موبائل پیکج کروادینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوٰۃ کی رقم سے فقیرِ شرعی کو موبائل پیکج کروا دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا زکوۃ کی ادائیگی کے لئے کسی فقیر شرعی کو موبائل پیکج لگا کر دے سکتے ہیں؟
جواب
زکوۃ کی ادائیگی کے لئے کسی فقیر شرعی کو موبائل پیکج لگا کر دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہو گی کیونکہ زکوۃ فقیر شرعی کو مال کی تملیک کر دینے کا نام ہے اور موبائل پیکج لگا کر دینے میں تملیک مال نہیں پائی جاتی کہ اس صورت میں رقم کی تملیک تو موبائل کمپنی کو ہوتی ہے، فقیر شرعی کو فقط منفعت (یعنی دوسرے سے رابطہ کر سکنے) کا اختیار حاصل ہوتا ہے جو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے کافی نہیں۔
زکوۃ کی تعریف بیان کرتے ہوئے علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات 1069ھ) فرماتے ہیں: الزکوۃ هي تمليك مال مخصوص لشخص مخصوص‘‘ ترجمہ: زکوۃ شخص مخصوص کو مال مخصوص کا مالک بنا دینے کا نام ہے۔ (مراق الفلاح شرح نور الایضاح، کتاب الزکوۃ، صفحہ 271، المکتبۃ العصریۃ)
اس کے تحت حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: و أخرج بالتمليك الإباحة فلا تكفي فيها فلو أطعم يتيما ناويا به الزكاة لا تجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم و خرج بالمال المنفعة فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا للزكاة لا يجزيه (ملتقطاً) ترجمہ: تملیک کی قید نے اباحت کو تعریف سے خارج کردیا کیونکہ اباحت زکوۃ کی ادائیگی کے لیے کافی نہیں، لہذا اگر یتیم کو زکوۃ کی نیت سے کھانا کھلایا تو کافی نہ ہوگا البتہ اگر کھانا اس کو دے دیا (تو کافی ہے)۔ اور مال کی قیدسے منفعت خارج ہوگئی، لہذا اگر کسی فقیر کو اپنے گھر میں زکوۃ کی نیت سے رہنے دیا تو یہ ادائیگی زکوۃ کے لیے کفایت نہیں کرے گا۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، كتاب الزكاة، جلد 1، صفحہ 714، دار الكتب العلميہ، بيروت، لبنان)
امام اہل سنت رحمۃ اللہ تعالی فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: یتیم خانہ کی خریداری میں روپیہ لگا دینے سے زکوٰۃ ہرگز ادا نہ ہوگی لانہ ان کان وقفا و الزکوٰۃ تملیک فلا یجتمعان (کیونکہ یتیم خانہ اگر وقف ہے اور زکوٰۃ میں تملیک ہوتی ہے، لہٰذا ان دونوں کا اجتماع نہیں ہوسکتا۔) نہ کسی غنی کو صرف مقدمہ کے لیے دینے سے ادا ہوسکے اگر چہ وہ مقدمہ مذہبی دینی ہو فان الغنی لیس بمصرف (کیونکہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے۔) نہ کسی فقیر نہ مسکین کے دینی خواہ دنیوی مقدمہ میں وکیلوں، مختاروں کو دینے یا اور خرچوں میں اٹھانے سے ادا ممکن، جب فقیر کو دے کر اُس کے قبضے کے بعد اُس سے لے کر صرف نہ کیا جائے فان الصدقۃ لا تحصل الا بتملیک مصرفھا و لا تتم الابقبضۃ (کیونکہ صدقہ تب ادا ہوگا جب کسی مصرف کو مالک بنایا جائے گا اور تملیک کا اتمام قبضہ کے بغیر نہیں ہوسکتا۔) (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 266 - 267، رضا اکیڈمی، ممبئی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0508
تاریخ اجراء: 07 ذو القعدہ 1447ھ / 24 اپریل 2026ء