logo logo
AI Search

تمباکو کی فصل پر بھی عشر لازم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمباکو کی فصل پر عشر کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ کیا تمباکو کی فصل پر بھی عشر لازم ہو گا، کیونکہ یہ نشہ وغیرہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے؟

جواب

تمباکو کی فصل پر بھی عشر لازم ہو گا، کیونکہ زمین کی ہر اس پیداوار پر عشر لازم ہوتا ہےجس سے زمین کے منافع مقصود ہوں اور تمباکو کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ منفعت حاصل کرنے کے لیے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے، لہذا اس پر بھی عشر لازم ہوگا۔ پھر اگر فصل بارش کے پانی سے سیراب ہو تو دسواں حصہ اور ٹیوب ویل یا ڈول وغیرہ سے سیراب ہو، تو بیسواں حصہ دینا لازم ہوگا۔

باقی رہا یہ معاملہ کہ تمباکو نشہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، تو ایسا نہیں کہ اس کا استعمال فقط نشہ ہی کے لیے ہو، اگر بالفرض کوئی شخص اس کا استعمال نشہ کے لیے کرتا ہےتب بھی اس کی وجہ سے عشر والے حکم پر کوئی فرق نہیں آئے گا، کیونکہ یہ اس کا اپنا فعل ہے،بقیہ اس فصل پر عشر لازم ہونے کے شرعی تقاضے پورے ہیں، لہذا اس کا عشر بھی ادا کرنا لازم ہے۔

تنبیہ: یہاں ضمناً تمباکو کے استعمال کے حوالے سے بھی حکمِ شرعی ذہن نشین کر لیجئے کہ تمباکو جب تک نشہ وغیرہ نہ لائے، فی نفسہ اس کا استعمال جائز ہے اور اگر اس کا استعمال نشہ کے لیے ہوتو ناجائز ہے، نیز اگر اس کے استعمال سے منہ میں بدبو پیدا ہو جائے تو جب تک بدبو زائل نہ ہو جائے، اس وقت تک مسجد میں جانا حرام ہے اور اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔

تمباکو پر عشر لازم ہو گا، کیونکہ جس بھی پیداوار سے زمین کی آمدنی حاصل کرنا مقصود ہو، اس پر عشر لازم ہوتا ہے۔ چنانچہ امام شمس الآئمہ سرخسی علیہ الرحمہ ( المتوفی سن: 483ھ) لکھتےہیں: الأصل عند أبي حنيفة رحمه اللہ تعالى أن كل ما يستنبت في الجنان و يقصد به استغلال الأراضي، ففيه العشر" ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو باغوں میں اُگائی جائے اور اس سے زمینوں کی آمدن مقصود ہو، تو اس میں عشر ہے۔ (المبسوط للسرخسي، باب عشر الارضين، ج 3، ص 2، دار المعرفہ، بیروت)

تمباکو کی فصل بھی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے اور اس سے زمین کی منفعت مقصود ہوتی ہے، اور ہر ایسی فصل پر عشر لازم ہوتا ہے، چاہے وہ کم ہو یا زیادہ۔ چنانچہ الفتاوی الھندیہ میں ہے: منها مما يقصد بزراعته نماء الأرض ۔ ۔ ۔ ويجب العشر عند أبي حنيفة رحمه اللہ تعالى في كل ما تخرجه الأرض ۔ ۔ ۔ قل أو كثر" ترجمہ: (اور عشر کو لازم کرنے والی چیزوں میں سے ایک اس پیداوار کا) ان چیزوں میں سے ہونا ہے، جن کی کاشت سے زمین کی بڑھوتری مقصود ہوتی ہے۔ ۔ ۔ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہر اس چیز میں عشر واجب ہے جو زمین اگائے ۔ ۔ ۔ خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ۔ (الفتاوی الھندیہ، ج 1، ص 186، بولاق مصر، ملتقطاً)

عشر کے احکام بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ (المتوفی سن: 1948ء) لکھتے ہیں: جو چیزیں ایسی ہوں کہ اُن کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو، اُن میں عشر نہیں، جیسے ایندھن، گھاس، نرکل، سینٹھا، جھاؤ، ۔ ۔ ۔ اور اگر نرکل، گھاس، بید، جھاؤ وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لیے خالی چھوڑ دی، تو اُن میں بھی عشر واجب ہے۔ جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں ڈول چر سے سے تو اگر اکثر مینھ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔ (بہار شریعت، ج 1، ص 917، مکتبۃ المدینہ، کراچی، ملتقطاً)

تمباکو کا ایسا استعمال کہ نشہ نہ لائے، جائز اور اگر نشہ کے لیے ہو تو ناجائز ہے ، جیسا کہ خلیل ملت مفتی محمد خلیل خان برکاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1405ھ / 1985ء) لکھتے ہیں: تمباکو کا استعمال جیسا کہ عام طور پر سگریٹ بیڑی نوشی کی صورت میں، اور خاص طور پر حقہ نوشی کی صورت یا پان کے ذریعے مروج ہے، حق یہ ہے کہ شرعاً جائز و مباح ہے، جس کی ممانعت پر شرع مطہرہ سے کوئی دلیل نہیں۔ ۔ ۔ (البتہ) اگر اس کا استعمال ایسی بے احتیاطی و لا پرواہی سے ہو کہ حواس و دماغ میں فتور لائے یا نشہ پیدا کرے تو پھر اس کا استعمال ممنوع و ناجائز ہے۔ (فتاوی خلیلیہ، ج 3، ص 178، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

منہ میں بدبو ہوتے ہوئے مسجد جانے اور نماز پڑھنے کا حکم بیان کرتے ہوئے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: منہ میں بدبو ہونے کی حالت میں نماز مکروہ اور ایسی حالت میں مسجد میں جانا حرام ہے، جب تک منہ صاف نہ کر لے۔ (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 332، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: GUJ-0159
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ / 29 جون 2026ء