logo logo
AI Search

پلاٹ کی زکوٰۃ میں کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بیچنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ کی زکوٰۃ میں کس قیمت کا اعتبارہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے بیچنے کی نیت سے پلاٹ خریدا تھا، اور جس وقت خریدا تھا، اس وقت اس کی قیمت چار لاکھ تھی، جبکہ اس سال اس کی قیمت سات لاکھ ہو چکی ہے، تو پوچھنا تھا کہ زکاۃ کس قیمت کے اعتبار سے نکالی جائے گی، چار لاکھ کے اعتبار سے زکاۃ ادا کی جائے گی، یا سات لاکھ کے اعتبار سے ؟ اس حوا لے سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

شریعت مطہرہ میں زکاۃ نکالنے کے حوالے سے اصول یہ ہے کہ اسلامی سال کے مکمل ہونے پر مال زکاۃ کی جو مارکیٹ ویلیو بنتی ہے، اسی کے مطابق زکاۃ ادا کی جائے گی، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر زکاۃ کی دیگر تمام شرائط پائی جار ہی ہیں، تو سال مکمل ہونے پر اس پلاٹ کی جو مارکیٹ ویلیو ہوگی، اسی کے مطابق زکاۃ نکالی جائے گی، اور آپ کے بقول سال پورا ہونے پر اس کی قیمت سات لاکھ بنتی ہے، تو اسی سات لاکھ کے اعتبار سے زکاۃ لازم ہوگی۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے ”تعتبر القيمة عند حولان الحول ۔۔۔اذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوی مائتی درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فان أدى من عينها أدى خمسة أقفزة وان أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب“ ترجمہ: سال مکمل ہونے کے وقت کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، جب کسی شخص کے پاس تجارتی گندم کے دو سو قفیز ہوں، جو دو سو درہم کے برابر ہوں، پس ان پر سال مکمل ہوگیا، پھر قیمت بڑھ گئی یا کم ہوگئی، تو اگر یہ شخص اُن (گندم کے قفیزوں) کے ذریعے ہی زکوٰۃ نکالے، تو پانچ قفیز ادا کرے گا، اور اگر قیمت کے ذریعے نکالے، تو جس دن زکوٰۃ لازم ہوئی تھی (یعنی سال مکمل ہوا تھا،) اس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ (الفتاویٰ الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 179، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی زکوٰۃ میں دی جائے جب تو نرخ کی کوئی حاجت ہی نہیں، وزن کا چالیسواں حصہ دیا جائے گا، ہاں اگر سونے کے بدلے چاندی یا چاندی کے بدلے سونا دینا چاہیں تو نرخ کی ضرورت ہوگی، نرخ نہ بنوانے کے وقت کا معتبر ہو نہ وقتِ ادا کا، اگر ادا سال تمام کے پہلے یا بعد ہو جس وقت یہ مالکِ نصاب ہُوا تھا وہ ماہ عربی و تاریخ وقت جب عود کریں گے اس پر زکوٰۃ کا سال تمام ہوگا اس وقت کا نرخ لیا جائے گا ۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 133، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5439

تاریخ اجراء: 08 ربیع الثانی 1448ھ/21 ستمبر 2026ء