زکوٰۃ کی رقم سے قربانی کا جانور خرید کر دینے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زکوٰۃ کی رقم سے کسی کو قربانی کا جانور خرید کر دینا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا زکوٰۃ کی رقم سے کسی کو قربانی کا جانور خرید کر دینے سے زکوٰۃ کی ادائیگی ہو جائے گی؟
جواب
زکوۃ میں شرعی فقیر کو پیسے دینا ہی ضروری نہیں، بلکہ کسی چیز، جیسے جانور وغیرہ کا مالک بنانے سے بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی، لیکن اس صورت میں زکوٰۃ دینے سے جتنی اس جانور کی بازار میں قیمت ہے، اتنی رقم ہی زکوٰۃ کی ادائیگی میں شمار ہوگی، اس کے علاوہ اس کو لانے، لے جانے وغیرہ کے اخراجات زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوں گے۔
”فتح باب العنایۃ“ میں ہے ”وفي «الخانية»: لو أطعم يتيما، أو كساه من زكاته بالتسليم إليه جاز إن كان مراهقا أو يعقل القبض“ ترجمہ: اور خانیہ میں ہے کہ اگر کسی نے زکوۃ کی ادائیگی میں کھانا یا کپڑے یتیم کے سپرد کر دئیے، تو اگر وہ یتیم مراہق ہو، یا قبضے کی سمجھ رکھتا ہو، تو زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ (فتح باب العنایہ، جلد 1، صفحہ 536، مطبوعہ دار الارقم، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے ”عوض زر زکوٰۃ کے محتاجوں کو کپڑے بنادینا، انہیں کھانا دے دینا جائز ہے اور اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائیگی، خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں، مگر ادائے زکوٰۃ کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالک کر دیا جائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 70، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے ”جس قدر چیز محتاج کی مِلک میں گئی، بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے، وہی مجرا ہوگی، بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے، مثلا آج کل مکّا کا نرخ نَو سیر ہے نَو من مکّا مول لے کر محتاجوں کو بانٹی تو صرف چالیس روپیہ زکوٰۃ میں ہوں گے، اُس پر جو پلّہ داری یا باربرداری دی ہے حساب میں نہ لگائی جائے گی۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 69، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5101
تاریخ اجراء: 26 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 12 جون 2026ء