logo logo
AI Search

عباسیوں کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عباسیوں کو زکوۃ دینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عباسیوں کو زکوۃ دینا کیسا ہے اور کیا یہ لوگ اپنی زکوۃ اپنے خاندان میں ہی دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

عباسی (یعنی جو شخص حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہو، اس) کو زکوۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ مثلاً فطرانہ و عشر وغیرہ دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ اولادِ عباس کا شمار بنو ہاشم میں ہوتا ہے اور آئمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بنو ہاشم کو زکوۃ وغیرہ دینا حرام ہے، اگر دیں گے، تو زکوۃ و صدقاتِ واجبہ ادا نہ ہوں گے، چاہے کوئی اور ان کو دے یا ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو دے، بہر صورت حکم یکساں ہے۔

 بنو ہاشم سے مراد حضرت عباس، حضرت علی، حضرت جعفر، حضرت عقیل اور حضرت حارث بن عبد المطلب (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی پاک اولادیں ہیں۔

کنز العمال میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’يا بني عبد المطلب! ان الصدقۃ اوساخ الناس، فلا تاکلوھا‘‘ ترجمہ: اے بنی عبد المطلب! بے شک صدقہ لوگوں کی میل ہے، پس تم اسے نہ کھاؤ۔ (کنز العمال، جلد 6، صفحہ 458، مطبوعہ بیروت)

ہدایہ شریف میں ہے: ’’لا تدفع الی بنی ھاشم لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام: یا بنی ھاشم! ان اللہ تعالی حرم علیکم غسالۃ واوساخھم‘‘ ترجمہ: زکوۃ بنو ہاشم کو نہ دی جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: اے بنی ہاشم! اللہ تعالیٰ نے تم پر لوگوں کا دھوون اور ان کی میل حرام فرما دی ہے۔ (الھدایہ، کتاب الزکوۃ، باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ ومن لا یجوز، جلد 1، صفحہ 223، مطبوعہ لاہور)

امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اجمعوا علی تحریم الصدقۃ المفروضۃ علی بنی ھاشم وبنی عبد المطلب وھم خمس بطون: آل علی وآل العباس وآل جعفر وآل عقیل وآل الحارث بن عبدالمطلب‘‘ ترجمہ: ائمہ اربعہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب پر فرض (یا واجب) صدقہ حرام ہے اور وہ پانچ خاندان ہیں: آل علی، آل عباس، آل جعفر، آل عقیل، آل حارث۔ (المیزان الکبری، جلد 2، صفحہ 261، مطبوعہ بیروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’زکوۃ ساداتِ کرام و سائر بنی ہاشم پر حرامِ قطعی ہے، جس کی حرمت پر ہمارے ائمۂ ثلاثہ، بلکہ ائمۂ مذاہبِ اربعہ رضی اللہ عنھم اجمعین کا اجماع قائم (ہے)‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 99، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بنو ہاشم کو زکوۃ دینے سے ادا نہیں ہو گی، خواہ کوئی اور انہیں دے یا یہ ایک دوسرے کو دیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ’’بالجملہ اصلاً محلِ شک و ارتیاب نہیں کہ ساداتِ کرام و بنی ہاشم پر زکوۃ یقیناً حرام، نہ اُنہیں لینا جائز، نہ دینا جائز، نہ اُن کے دئیے زکوٰۃ ادا ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 104، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے: ’’بنی ہاشم کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، نہ غیر اُنہیں دے سکے، نہ ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو‘‘۔ (بھار شریعت، حصہ 5، صفحہ 931، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

یاد رہے! بنو ہاشم کے لئے زکوۃ و صدقاتِ واجبہ لینے کی ممانعت ان کے اعلیٰ نسب اور شان بلند ہونے کی بناء پر ہے، کیونکہ زکوۃ وغیرہ مال کا میل اور گناہوں کا دھوون ہے اور یہ ان نفوسِ قدسیہ کے شایانِ شان نہیں اور پھر مال کی اس ظاہری کمی کے بدلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں شفاعت کی عظیم بشارت عطا فرمائی۔

چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’اصبروا على انفسكم يا بني هاشم! فانما الصدقات غسالات الناس وانما اريد ان استوهبكم من اللہ يوم القيامة‘‘ ترجمہ: اے بنی ہاشم! صدقات لینے سے رکے رہو، بے شک صدقات لوگوں کا دھوون ہیں اور میں قیامت والے دن اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تمہاری بخشش طلب کر وں گا۔ (الاموال لابن زنجویہ، جلد 3، صفحہ 1147، مطبوعہ السعودیہ)

بدائع الصنائع میں ہے: ’’انها من غسالة الناس فيتمكن فيها الخبث، فصان اللہ تعالى بني هاشم عن ذلك تشريفا لهم واكراما وتعظيما لرسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم‘‘ ترجمہ: یہ (صدقہ واجبہ) لوگوں کا دھوون ہے، پس اس میں میل سرایت کئے ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے بنی ہاشم کو ان کے شرف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی خاطر اس سے محفوظ رکھا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ، جلد 2، صفحہ 49، مطبوعہ بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: ’’بنی ہاشم کو زکوۃ و صدقاتِ واجبات دینا زنہار (ہر گز)جائز نہیں، نہ انہیں لینا حلال۔ سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے متواتر حدیثیں اس کی تحریم میں آئیں اور علتِ تحریم ان کی عزت و کرامت ہے کہ زکوۃ مال کا میل ہے اور مثل سائر صدقات واجبہ غاسلِ ذنوب، تو ان کا حال مثل ماء مستعمل کے ہے، جو گناہوں کی نجاسات اور حدث کے قاذورات دھوکر لایا، ان پاک لطیف ستھرے لطیف اہلِ بیت طیّب وطہارت کی شان اس سے بس ارفع و اعلیٰ ہے کہ ایسی چیزوں سے آلودگی کریں، خود احادیث صحیحہ میں اس علت کی تصریح فرمائی‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 272، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

لہذا بنو ہاشم میں سے اگر کسی کو حاجت ہو، تو ممکنہ صورت میں اپنے پاک مال سے بطورِ نفل نذرانہ پیش کر دیا جائے اور اسے اپنے لئے باعثِ شرف سمجھا جائے کہ یہ عین سعادت مندی ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7179
تاریخ اجراء: 11 شعبان المعظم 1444ھ / 04 مارچ 2023ء