اعوان کو زکوٰۃ دینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اعوان کو زکوٰۃ دیتے رہے، اب کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کی زکوٰۃ ادا نہ ہوئی، کیونکہ اعوان ہاشمی ہوتے ہیں اور ہاشمی مصرفِ زکوٰۃ نہیں، لہذا اُنہیں زکوٰۃ دینا ہرگز جائز نہیں۔ رہی بات یہ کہ آپ کو معلوم نہیں تھا کہ اعوان کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، اور آپ نے اپنی لا علمی کی بنا پر اُنہیں زکوٰۃ دے دی، تو یاد رہے کہ دارُ الاسلام میں شرعی مسائل سے لاعلم ہونا کوئی شرعی عذر نہیں، اگر کوئی لاعلمی کے سبب غلط مصرف میں زکوٰۃ ادا کردے، تو بھی اس کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ پر دوبارہ ان تمام سالوں کی زکوٰ ۃ کی ادائیگی لازم ہوگی، جن میں زکوٰۃ کسی اعوان کو دی تھی۔
اعوان ہاشمی ہوتے ہیں، جیسا کہ فتاوی اہلسنت احکام زکوٰۃ میں سوال ہوا کہ ہمارا شجرہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بیٹے حضرت عون رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے تو کیا ہمیں زکوٰۃ لینا حرام ہو گا؟ اس کے جواب میں فرمایا: ’’آپ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد سے ہیں تو ہاشمی ہوئے کیونکہ حضرت علی ہاشمی ہیں اور تمام بنی ہاشم پر زکوٰۃ وصدقہ واجبہ لینا حرام ہے۔“ (فتاوی اہلسنت احکام زکوۃ، صفحہ 426، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاویٰ اہلسنت احکام زکوٰۃ میں مزید ایک سوال ہوا کہ میں پچھلے پچیس سال سےزکوٰۃ اور فطرہ اپنے غریب بیٹے کو دے رہی ہوں، اب معلوم ہوا کہ بیٹے کو زکوٰۃ اور فطرہ نہیں دے سکتے، تو جو دے دیا ہے اس کا کیا کریں؟ ادا ہو گیا یا اس کا کوئی کفارہ ہے؟
اس کے جواب میں فرمایا: ’’مذکورہ صورت میں آپ کی زکوٰۃ ادا نہ ہوئی، لہٰذا گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ اور فطرہ از سر نو ادا کیا جائے۔ (فتاوی اہلسنت احکام زکوۃ، صفحہ 242، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2437
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1447ھ / 28 اگست 2025ء