logo logo
AI Search

لاعلمی میں سید کو زکوٰۃ دینے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

سید کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دے دی، تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کو گزشتہ تین سال سے ایک شخص کی طرف سے زکوٰۃ کی رقم دی جا رہی تھی۔ زکوٰۃ دینے والے کو اب معلوم ہوا ہے کہ جس شخص کو وہ گزشتہ تین سال سے زکوٰۃ کی رقم دے رہا ہے، وہ سید ہے، جبکہ زکوٰۃ دیتے وقت اسے اس شخص کے سید ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ ہر مرتبہ اسے مستحقِ زکوٰۃ سمجھ کر زکوٰۃ دیتا رہا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں دی گئی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ زکوٰۃ ادا ہوگئی یا ان تین سالوں کی زکوٰۃ دوبارہ ادا کرنا لازم ہوگی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں زکاۃ دینے والے نے ان سید صاحب کو لاعلمی کی بنا پر گزشتہ تین سال کے دوران ہر مرتبہ مستحقِ زکاۃ سمجھ کر زکاۃ ادا کی، لہٰذا گزشتہ تین سالوں کی زکاۃ ادا ہوگئی۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر زکاۃ ادا کرتے وقت دینے والے کا غالب گمان یہ ہو کہ جس شخص کو زکاۃ دی جارہی ہے وہ زکاۃ کا مستحق ہے، پھر بعد میں معلوم ہو کہ وہ مستحق نہ تھا، مثلاً غنی تھا یا سید ہاشمی تھا، تو ظنِ غالب کی بنیاد پر اسے دی گئی زکاۃ ادا ہوجاتی ہے۔ البتہ اگر زکاۃ دیتے وقت نہ مستحق ہونے کا خیال ہو اور نہ اس بارے میں کوئی غور و فکر کیا، بلکہ محض بے سوچے سمجھے زکاۃ دے دی، تو ایسی صورت میں زکاۃ ادا نہیں ہوتی۔

سوال میں بیان کردہ صورت میں چونکہ زکاۃ دینے والا گزشتہ تین سال سے مذکورہ شخص کو مستحقِ زکاۃ سمجھ کر مسلسل زکاۃ دیتا رہا، اس لیے یہ محض بے سوچے سمجھے زکاۃ دے دینے کی صورت نہیں،تو بعد میں اگرچہ معلوم ہوا کہ جس شخص کو زکاۃ دی گئی وہ سید ہاشمی تھے، تاہم زکاۃ دینے والے کے غالب گمان میں مستحق ہونے کی بنا پر گزشتہ تین سالوں میں دی گئی زکاۃ ادا ہوگئی، اور اسے دوبارہ زکاۃ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔

بخاری شریف میں ہے: ”حدثنا ابو الجويريةان معن بن يزيد رضي اللہ عنه حدثه، قال۔ ۔ ۔ كان ابي يزيد اخرج دنانير يتصدق بها فوضعها عند رجل في المسجد فجئت فاخذتها فاتيته بها، فقال: و اللہ ما إياك اردت ،فخاصمته إلى رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، فقال: لك ما نويت يا يزيد و لك ما اخذت يا معن“ ترجمہ: ہم سے ابو الجويريہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میرے والد حضرت یزید رضی اللہ عنہ نے صدقہ کرنے کے لیے کچھ دینار نکالے اور انہیں مسجد میں ایک شخص کے پاس رکھ دیا، میں آیا اور وہ دینار لے لیے، پھر انہیں لے کر اپنے والد کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے کہا: خدا کی قسم! میرا ارادہ تمہیں دینے کا نہیں تھا۔ چنانچہ میں یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے یزید! تمہارے لیے وہی ہے جس کی تم نے نیت کی اور اے معن! جو تم نے لیا وہ تمہارے لیے ہے۔‘‘ (صحیح البخاری، رقم الحدیث 1408، مطبوعہ شبیر برادرز، لاہور)

اگر دینے والے کو مستحق زکاۃ سمجھ کر زکاۃ دی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ہاشمی تھے تو زکاۃ ادا ہوجاتی ہے، المبسوط للامام محمد ، بدائع الصنائع، ہدایہ، فتح القدیر، حاشیہ الطحطاوی علی المراقی الفلاح،درر شرح غرر، مجمع الانھر، ہندیہ، نہر الفائق اور در مختار و رد المحتار میں ہے، و النص للھدایہ: ”(قال أبو حنيفة ومحمد رحمهما الله: إذا دفع الزكاة إلى رجل يظنه فقيرا ثم بان أنه غني أو هاشمي أو كافر أو دفع في ظلمة فبان أنه أبوه أو ابنه فلا إعادة عليه. قال أبو يوسف رحمه الله عليه الإعادة) لظهور خطئه بيقين وإمكان الوقوف على هذه الأشياء وصار كالأواني والثياب. و لهما حديث معن بن يزيدفإنه عليه الصلاة و السلام قال فيه ”يا يزيد لك ما نويت، ويا معن لك ما أخذت“ و قد دفع إليه وكيل أبيه صدقته؛ و لأن الوقوف على هذه الأشياء بالاجتهاد دون القطع فيبتني الأمر فيها على ما يقع عنده كما إذا اشتبهت عليه القبلة، و عن أبي حنيفة رحمه اللہ في غير الغني أنه لا يجزيه، و الظاهر هو الأول. وهذه إذا تحرى فدفع و في أكبر رأيه أنه مصرف، أما إذا شك ولم يتحر أو تحرى فدفع و في أكبر رأيه أنه ليس بمصرف لا يجزيه إلا إذا علم أنه فقير هو الصحيح“

ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ نے فرمایا: اگر کسی شخص نے زکاۃ کسی ایسے آدمی کو دی، جسے وہ فقیر سمجھتا تھا، پھر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مال دار ہے، یا ہاشمی ہے، یا کافر ہے، یا اندھیرے میں زکاۃ دی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اس کا باپ یا بیٹا ہے، تو اس پر زکاۃ دوبارہ ادا کرنا لازم نہیں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دوبارہ زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا، کیونکہ یقینی طور پر اس کی غلطی ظاہر ہوگئی اور ان امور کا معلوم کرنا ،ممکن تھا، لہٰذا یہ برتنوں اور کپڑوں کے معاملے کی طرح ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کی دلیل حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”اے یزید! تمہارے لیے وہی ہے جس کی تم نے نیت کی، اور اے معن! تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے لے لیا۔“ کیونکہ حضرت یزید رضی اللہ عنہ کے صدقہ کی رقم ان کے وکیل نے ان کے بیٹے حضرت معن رضی اللہ عنہ کو دے دی تھی۔نیز اس لیے کہ ان امور کی حقیقت معلوم کرنا اجتہاد کے ذریعے ہوتا ہے، قطعی طور پر معلوم کرنا ضروری نہیں، لہٰذا اس معاملے میں اسی بات کا اعتبار کیا جائے گا جو غالب گمان کے مطابق ہو، جیسے کسی شخص کو قبلہ کی سمت میں اشتباہ ہو جائے تو وہ اپنے غالب گمان کے مطابق قبلہ کی طرف رخ کرتا ہے۔اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے غیر مال دار شخص کے بارے میں ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ اس صورت میں زکاۃ ادا نہیں ہوگی، لیکن ظاہر قولِ امام یہی ہے کہ زکاۃ ادا ہوجائے گی۔یہ حکم اس صورت میں ہے، جب اس نے غور و فکر سے کام لیا اور اس کا غالب گمان یہ تھا کہ وہ شخص زکاۃ کا مستحق ہے، پھر اسے زکاۃ دی۔ لیکن اگر اسے شک تھا اور اس نے غور و فکر نہیں کیا، یاسوچ بچار تو کیا،لیکن اس کا غالب گمان یہ تھا کہ وہ شخص زکاۃ کا مستحق نہیں، پھر بھی اسے زکاۃ دے دی ، تو زکاۃ اس وقت تک ادا نہیں ہوگی جب تک یہ معلوم نہ ہوجائے کہ وہ فقیر ہے، یہی صحیح قول ہے۔

ہدایہ کے کلام بالا کے ذیل میں محقق ابن ہمام رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں: ”و هو و إن كان واقعة حال يجوز فيها كون تلك الصدقة كانت نفلا، لكن عموم لفظ ما في قوله عليه الصلاة و السلام ”لك ما نويت“ يفيد المطلوب، و لأن الوقوف على هذه الأشياء إنما هو بالاجتهاد لا القطع فيبنى الأمر على ما يقع عنده كما إذا اشتبهت عليه القبلة، و لو أمرناه بالإعادة كان بالطريق الأولى من الاجتهاد، و لو فرض تكرر خطئه فتكررت الإعادة أفضى إلى الحرج لإخراج كل ماله، و ليس كذلك الزكاة خصوصا مع كون الحرج مدفوعا شرعا عموما“ ترجمہ: اگرچہ یہ ایک واقعۂ حال ہے اور اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ وہ صدقہ نفلی صدقہ تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان: ”لك ما نويت“ (تمہارے لیے وہی ہے جس کی تم نے نیت کی) میں موجود لفظ ”ما“ عام ہے، جو ہمارے مطلوبہ حکم پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس لیے کہ ان امور کی حقیقت معلوم کرنا قطعی علم کے ذریعے نہیں، بلکہ اجتہاد کے ذریعے ہوتا ہے، لہٰذا معاملہ اسی بات پر مبنی ہوگا جو اس شخص کے نزدیک غالب ہو، جیسے کسی کو قبلہ کی سمت میں اشتباہ ہو جائے تو وہ اپنے اجتہاد اور غالب گمان کے مطابق عمل کرتا ہے۔ بلکہ اگر ہم اسے اس معاملے میں اعادے کا حکم دیں تو یہ اعادہ بھی پہلے کی طرح اجتہاد پر مبنی ہوگا اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ اس کی غلطی بار بار ہوتی رہے اور ہر مرتبہ زکاۃ دوبارہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے تو یہ حرج کا باعث بنے گا، حتیٰ کہ اسے اپنا تمام مال نکالنا پڑ سکتا ہے، جبکہ زکاۃ کے معاملے میں ایسا نہیں ہے، خصوصاً اس لیے کہ شریعت نے عمومی طور پر حرج کو دور کیا ہے۔ (فتح القدير للكمال بن الهمام، ج 2، ص 276، 277،دار الفکر)

نصوصِ کتب میں تحری سے مراد ظنِ غالب ہے،جیسا کہ بحر الرائق میں ہے: ”و ليس المراد بالتحري الاجتهاد بل غلبة الظن“ ترجمہ: یہاں "تحری" سے مراد محض اجتہاد کرنا نہیں، بلکہ غالب گمان حاصل کرنا ہے۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج 2، ص 266، دار الکتاب الاسلامی)

قرائن و احوال تحری کے قائم مقام ہوسکتے ہیں، جیسا کہ رد المحتار میں ہے: ”و اعلم أن المدفوع الیہ لو کان جالسا فی صف الفقراء یصنع صنعھم أو کان علیہ زیھم أو سألہ فأعطاہ کانت ھذہ الأسباب بمنزلۃ التحری ، وکذا فی المبسوط“ ترجمہ: جان لو کہ اگر جس شخص کو زکاۃ دی گئی، وہ فقراء کی صف میں بیٹھا ہوا تھا اور ان ہی کے طریقے پر عمل پیراتھا، یا اس نے فقراء جیسا حلیہ اختیار کر رکھا تھا، یا اس نے اس شخص سے سوال کیا اور اس نے اسے زکاۃ دے دی، تو یہ تمام امور سوچ و بچار کے قائم مقام ہوں گے۔ اسی طرح "المبسوط" میں بھی ہے۔ (در مختار مع ردالمحتار، ج 3، ص 354، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ”جس نے تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں اورزکاۃ دے دی بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مصرف زکاۃ ہے یا کچھ حال نہ کُھلا تو ادا ہوگئی اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا یا اُس کے والدین میں کوئی تھا یا اپنی اولاد تھی یا شوہر تھا یا زوجہ تھی یا ہاشمی یا ہاشمی کا غلام تھا یا ذمّی تھا، جب بھی ادا ہوگئی اور اگر یہ معلوم ہوا کہ اُس کا غلام تھا یا حربی تھا تو ادا نہ ہوئی، اب پھر دے اور یہ بھی تحری ہی کے حکم میں ہے کہ اُس نے سوال کیا، اس نے اُسے غنی نہ جان کر دے دیا یا وہ فقیروں کی جماعت میں انھیں کی وضع میں تھا اُسے دے دیا۔ اگر بے سوچے سمجھے دے دی یعنی یہ خیال بھی نہ آیا کہ اُسے دے سکتے ہیں یا نہیں اور بعد میں معلوم ہوا کہ اُسے نہیں دے سکتے تھے تو ادا نہ ہوئی، ورنہ ہوگئی اور اگر دیتے وقت شک تھا اور تحری نہ کی یا کی مگر کسی طرف دل نہ جما یا تحری کی اور غالب گمان یہ ہوا کہ یہ زکاۃ کا مصرف نہیں اور دے دیا تو ان سب صورتوں میں ادا نہ ہوئی۔“ (بہار شریعت، حصہ 5، ص 932، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: HAB-0788
تاریخ اجراء: 07 ربیع الاول 1448ھ / 21 اگست 2026ء