بیوی طلاق کا وائس میسج نہ سنے تو کیا طلاق ہوجائیگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بیوی طلاق کامیسج نہ سنے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اگر شوہر نے وائس میسج کے ذریعے اپنی بیوی کو طلاق دی، اور اس میں طلاق کو میسج بھیجنےیا بیوی کے سننےپر معلق نہیں کیا، بلکہ مطلق رکھا، تو شوہرکے بولتے ہی طلاق واقع ہوگئی، اگرچہ وہ سینڈنہ کرے، اگرچہ بیوی نہ سنے، کیونکہ شریعت نے طلاق کے معاملے میں شوہر کو مستقل بنایا ہے، اس لئے طلاق واقع ہونے کے لئے عورت کا موجود ہونا، اسے طلاق کا علم ہونا، یا اس کا طلاق کے الفاظ سننا یا طلاق لکھ یا بول کر اسے بھیجناوغیرہ کچھ بھی ضروری نہیں۔
شوہر طلاق کے معاملے میں مستقل ہے، قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ (پارہ 2، سورہ بقرہ، آیت 237)
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: "إنما الطلاق لمن أخذ بالساق" ترجمہ: طلاق کا حق اسی شخص کو ہے جسے جماع کا حق ہے۔ (سنن ابن ماجہ، صفحه 447، الرقم 2081، مطبوعہ: سعودیہ)
طلاق کا وقوع عورت کےعلم پر موقوف نہیں، المحیط البرھانی میں ہے "ان الزوج ينفرد بايقاع الطلاق الثلاث ولا يتوقف ذلك على علم المراة“ ترجمہ: شوہر تین طلاقیں واقع کرنے میں منفرد ہے اور طلاق کا واقع ہونا عورت کے معلوم ہونے پر موقوف نہیں۔ (المحیط البرھانی، جلد 4، صفحہ 50، مطبوعہ: بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’طلاق کے لئے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سُننا ضرور نہیں، جبکہ شوہرنے اپنی زبان سے الفاظِ طلاق ایسی آواز سے کہے جو اس کے کان تک پہنچنے کے قابل تھے اگر چہ کسی غل، شور یا ثقلِ سماعت کے سبب نہ پہنچی عند اللہ طلاق ہوگئی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 362، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”طلاق میں شوہر مستقل ہے، عورت کی موجودگی یا علم ضرور نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 2،حصہ 11، صفحہ 790،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام اہلسنت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: "اگر واقع میں اس شخص نے یہ خط آپ کو لکھا یا دوسرے کو عبارت مذکورہ بتاکر لکھوایا کہ میری عورت کی نسبت یہ الفاظ لکھ دے، تو جس وقت اس کے قلم یا زبان سے یہ لفظ نکلے ، اسی وقت سے عورت پر ایک طلاق پڑگئی اور اسی وقت سے عدّت کا شمار ہوگا اگرچہ یہ خط بڑودہ نہ پہنچتا یا وہ خود ہی لکھ کر نہ بھیجتا یا مکتوب الیہم عورت کونہ سناتے کہ جوالفاظ طلاق لکھے یابتائے جب ان میں کوئی شرط نہیں کہ یہ خط جب پہنچے یا سنایا جائے اس وقت طلاق ہو تو ان کا لکھنا یا بتانا ہی طلاق کا موجب ہوگیا بھیجنے پہنچنے سنانے پر توقف نہ رہا۔" (فتاوٰی رضویہ، جلد 12، صفحہ 447، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے ”اگر نہ بھی بھیجے جب بھی اس صورت میں (طلاق) ہو جائے گی۔" (بہارِ شریعت، جلد 2، حصہ 8، صفحہ 114،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5426
تاریخ اجراء: 05 ربیع الآخر 1448ھ / 17 ستمبر 2026ء