logo logo
AI Search

شوہر حق زوجیت ادا نہ کر سکے تو بیوی کیا کرے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

شوہر حقوق زوجیت کی ادائیگی پہ قادر نہ ہو تو بیوی کیا کرے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا نکاح ہوئے 6 7 ماہ ہو چکے ہیں، لیکن آج تک میرے شوہر کے ساتھ مکمل ہم بستری نہیں ہو سکی۔ شوہر کو بالکل erection نہیں ہوتا،وہ ڈاکٹر کے پاس جا چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈاکٹر نے انہیں ٹھیک بتایا ہے، لیکن عملی طور پر اب تک کوئی بہتری نہیں ہوئی، میں اپنے اخراجات خود اٹھاتی ہوں، شوہر علاج کے اخراجات پر پیسے خرچ کر رہے ہیں، لیکن ان کی طرف سے مجھے یہ کہا جاتا ہے کہ میں ڈرامہ کرتی ہوں، جبکہ ان کے گھر والے بھی مجھے الزام دیتے ہیں، میں ذہنی طور پر بہت پریشان ہوں، اور سمجھ نہیں آرہا کہ مزید انتظار کروں، یا علیحدگی کا راستہ اختیار کروں۔؟ براہِ کرم حنفی فقہ کے مطابق بتائیں کہ ایسی صورت میں میرے شرعی حقوق کیا ہیں؟ کیا مجھے فسخِ نکاح کا حق حاصل ہے؟ اگر شوہر علاج کروا رہے ہوں، تو مجھے کتنی مدت انتظار کرنا چاہیے؟ اور مہر کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟؟

جواب

اگر شوہر واقعی ازدواجی حقوق ادا کرنے پر قادر نہیں ہے ، تو آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کریں، اور ایسی صورت میں شوہر پرخودہی طلاق دینا واجب ہے ،نہیں دے گا،اوریونہی رکھ چھوڑےگا تو گناہ گار ہوگا۔ اگرخلوت صحیحہ ہوچکی ہے (یعنی ایسی تنہائی کہ جس میں میاں بیوی والے معاملات کرنے میں کوئی حسی،طبعی اورشرعی رکاوٹ نہ ہو)توایسی صورت میں پوراپورامہرملے گا۔

فتاوی رضویہ میں ہے ”جبکہ زید نے ہندہ پرقدرت نہ پائی اور اس کے ادائے حق واجب میں قاصر رہا تو اس پر شرعاً فرض ہے کہ ہندہ کو طلاق دے دے، اگر نہ دے گا گنہگار رہے گا۔ قال اللہ تعالٰی: ﴿فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ﴾ یعنی: پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 506، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

در مختار میں ہے ”و الخلوة بلا مانع كالوطء و لو كان الزوج مجبوبا أو عنينا أو خصيا في ثبوت النسب و في تأكد المهر“ ترجمہ: خلوت میں مانع نہ ہو تو وہ ثبوتِ نسب اور مہر کے مؤکد کرنے میں وطی کی طرح ہے اگرچہ شوہر کا آلہ تناسل کٹا ہو یا وہ نامرد یا خصی ہو۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 4، ص 240 تا 247 ملتقطا، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے "زوج کاعنین ہونا مانع صحت نکاح نہیں ۔ ۔ ۔ خلوتِ صحیحہ اگرہولی تومہر تمام و کمال پائے گی۔" (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 495، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی ہندیہ میں ہے ”و الخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أو شرعا أو طبعا، كذا في فتاوى قاضي خان“ ترجمہ: خلوت صحیحہ یہ ہے کہ میاں بیوی کسی ایسےمکان میں اکٹھے ہوں کہ وہاں جماع سے کوئی حسی، شرعی یا طبعی رکاوٹ نہ ہو، یونہی فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 304،دار الفکر، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5432
تاریخ اجراء: 07 ربیع الآخر 1448ھ / 19 ستمبر 2026ء