logo logo
AI Search

بیوی کے نماز چھوڑنے پر طلاق معلق کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

بیوی کے نماز چھوڑنے پر طلاق معلق کی تو کیا حکم ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

نماز اسلام کا بنیادی رکن اور ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض عین ہے۔ بلا عذر شرعی قصداً ایک وقت کی نماز چھوڑنے والا بھی فاسق، سخت گناہ گار اور مستحق عذاب نار ہے۔ پس شوہر کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو نیکی کا حکم دے، اسے نماز کی اہمیت بتائے اور حکمت عملی کے ساتھ اسے نماز جیسے اہم فریضے کی ادائیگی پر راغب کرے۔

تاہم اگر شوہر نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ اب تمہاری کوئی نماز چھوٹی تو تمہیں میری طرف سے طلاق ہے پھر بیوی نے بلا عذر شرعی جان بوجھ کر کوئی فرض نماز قضا کر دی تو ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی؛ کیونکہ شرعی اعتبار سے یہ جملہ تعلیق طلاق (طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے) کا ہے، پس جب وہ شرط پائی گئی جس پر طلاق کو موقوف کیا گیا تھا تو طلاق نافذ ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ اگر حیض یا نفاس کی وجہ سے نماز ترک ہو تو اس سے طلاق نہیں ہوگی؛ اس لیے کہ ان ایام کی نمازیں عورت پر سے شرعاً ساقط ہیں، لہذا ان کا ترک شرطِ مذکور کا مصداق نہیں، کیونکہ اس جملے کا عرفی معنی اور قائل کا مقصود یہی ہوتا ہے کہ عورت زندگی بھر فرض نمازوں کی پابندی کرے، جبکہ ان دنوں کی نمازیں عورت کے حق میں معاف ہیں، اور قسم و تعلیق کے احکام میں اعتبار الفاظ کے عرفی معنی و مفہوم کا ہوتا ہے، نہ کہ محض لغوی معنی کا۔

سنن ابن ماجہ، شعب الایمان اور مشکوٰۃ المصابیح وغیرہ میں ہے: عن أبي الدرداء قال: أوصاني خليلي صلى اللہ عليه و سلم أن لا تشرك بالله شيئا و إن قطعت و حرقت و لا تترك صلاة مكتوبة متعمدا فمن تركها متعمدا فقد برئت منه الذمة و لا تشرب الخمر فإنها مفتاح كل شر“ ترجمہ: حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے مجھے وصیت فرمائی کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، اگرچہ تمہیں مار ڈالا جائے یا جلا دیا جائے، اور کسی فرض نماز کو جان بوجھ کر نہ چھوڑنا، پس جس نے اسے جان بوجھ کر چھوڑ دیا تو اس سے (اللہ تعالیٰ کا) ذمہ بری ہو گیا، اور شراب نہ پینا، کیونکہ یہ ہر برائی کی چابی ہے۔ (سنن ابن ماجه، ابواب الفتن، باب الصبر على البلاء، جلد 5، صفحہ 161، حدیث 4034، دار الرسالة العالمية)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: جو ایک وقت کی نماز بھی قصداً بلا عذر شرعی دیدہ و دانستہ قضا کرے، فاسق و مرتکب کبیره و مستحق جہنم ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 110، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: جس نے قصداً ایک وقت کی (نماز) چھوڑی، ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے۔ مسلمان اگر اس کی زندگی میں اسے یک لخت چھوڑ دیں، اس سے بات نہ کریں، اس کے پاس نہ بیٹھیں تو ضرور وہ اس کا سزا وار ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 158 - 159، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: تعلیق کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کا ہونا دوسری چیز کے ہونے پر موقوف کیا جائے، یہ دوسری چیز جس پر پہلی موقوف ہے اس کو شرط کہتے ہیں۔ تعلیق صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ شرط فی الحال معدوم ہو(یعنی موجود نہ ہو) مگر عادۃً ہو سکتی ہو. . . اور یہ بھی شرط ہے کہ شرط متصلاً(یعنی ساتھ ہی)بولی جائے اور یہ کہ سزا دینا مقصود نہ ہو...اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فعل ذکر کیا جائے جسے شرط ٹھہرایا ۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 8، صفحہ 149، مکتبة المدینہ، کراچی)

علامہ محدث محمد عابد بن احمد سندی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ / 1841ء) لکھتے ہیں: قال رجل لامرأته إن تركت الصلاة فأنت طالق فصلتها قضاءأي فأخرت الصلاة عن وقتها ثم قضتها طلقت على الأظهر و الأشبه وبه كان يفتي القاضي الإمام ركن الإسلام علي السغدي“ ترجمہ: ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: اگر تو نے نماز چھوڑی تو تجھے طلاق ہے پھر اس عورت نے نماز کو بطور قضا ادا کیا، یعنی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کیا، پھر اس نماز کی قضا پڑھی، تو اظہر اور اشبہ قول کے مطابق طلاق واقع ہو جائے گی۔ قاضی امام رکن الاسلام علی سغدی بھی اسی پر فتوی دیا کرتے تھے۔ (طوالع الأنوار شرح الدر المختار، کتاب الایمان، باب اليمين في البيع و الشراء و الصوم و الصلاة وغيرها، جلد 7، صفحہ 354، مخطوطه)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ہمارے علما نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر عورت سے کہا تو نماز ترک کرے تو تجھے طلاق عورت نے ایک نماز قصداً قضا کی، طلاق ہو جائے گی اگرچہ اس قضا کو ادا بھی کر لے۔ . . . یہ حکم اس لفظ میں ہے جہاں الصلاۃ معرف باللام ہے، جس میں کلام ہوگا کہ عرفاً تارک الصلاۃ کسے کہتے ہیں، اور ہمارا مسئلہ دائرہ تو بحکم تحقیق مذکور "ان ترکت صلاۃ (یعنی اگر تو کوئی نماز چھوڑے) بلا لام کے مثل ہے، یعنی اگر تو ایک نماز چھوڑے تو طلاق ہے۔ یہاں قضا کرنے سے وقوع طلاق میں کیا شک ہو سکتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 152 - 153، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے اپنی بیوی کو نماز مغرب کے بعد کہا کہ اگر تو نماز نہ پڑھے گی تو دو طلاق ہے، پھر اس کی بیوی نے عشا کی نماز نہیں پڑھی اور فجر سے نماز پڑھنا شروع کی، تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے جواب میں فرمایا: شک نہیں کہ ہمارے مسئلہ دائرہ میں بھی اس حلف سے شوہر کی یہ غرض نہیں کہ عورت اپنی مدۃ العمر میں کبھی کسی وقت کسی طرح دو سجدے کر لے اور بری ہو جائے، بلکہ یقیناً بحکم عرف و دلالت حال اس سے پابندئ نماز مقصود ہے، تو جس طرح عورت کا باہر جانا مطلق تھا، لفظ شوہر میں کوئی قید نہ تھی کہ اس وقت ہویا کب ہو مگر بدلالۃ حال خاص اس وقت کا خروج معتبر ہوا۔ . . . (یہاں بھی) بحالت دلالتِ حال واجب ہے کہ قسم اول یعنی صلاۃ ملتزمہ مبرئہ مراد ہو اور اس کا انتفا ایک وقت کی نماز فرض عمداً بلا عذر شرعی چھوڑنے سے صادق آ جاتا ہے، تو لازم ہو ا کہ جب عورت نے اس حلف کے بعد نماز عشا نہ پڑھی، صبح صادق طالع ہوتے ہی اس پر دو طلاقیں پڑ گئیں . . . بلکہ اگر شوہر نے یہ لفظ اس وقت کہے تھے کہ ہنوز وقت مغرب باقی تھا اور عورت ادا پر قادر تھی تو شفق ڈوبتے ہی دو طلاقیں ہو گئیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 152، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: الفاظ کا مفاد لغوی ہمارے ائمہ کے نزدیک مبنائے یمین نہیں، بلکہ معانی عرفیہ پر بنائے کا رہے۔ . . . اور اغراض و مقاصد جس قدر مفاد لفظ سے زائد ہوں، یعنی عموم و اطلاق بھی انہیں متناول نہ ہو، ملحوظ نہیں ہوتے۔ الایمان مبینۃ علی الالفاظ لاعلی الاغراض (قسموں میں الفاظ کا لحاظ ہوتا ہے، اغراض کا لحاظ نہیں ہوتا۔ ت) کہ تنویر وغیرہ عامہ کتب مذہب میں ارشاد ہے، اس سے یہی مراد ہے کہ لفظ کی تناول عرفی سے اجنبی خارج و بیگانہ و زائد بات، اگرچہ عرفاً مقصود حالف ہو، منظور نہ ہوگی، مگر اغراض مخصص ضرور ہو سکتی ہیں، دلالت لفظ کہ عموم پر تھی بنظر غرض خاص پر مقصود ہو جائے گی، یہ مدلول لفظ سے خروج نہیں، بلکہ بعض مدلولات پر قصر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 144، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FAM-1244
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ / 29 جون 2026ء