حیض میں طلاق دینے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حیض کی حالت میں طلاق ہوجائے گی ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری شادی کو تقریباً ایک سال ہو گیا ہے، ہم میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہتے رہے ہیں۔ میرا اپنی زوجہ کے ساتھ جھگڑا ہوا، میں نے انہیں تین مرتبہ یہ کہہ دیا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، اس وقت زوجہ حیض کی حالت میں تھی، اس صورتحال میں ہمارے لیے کیا شرعی حکم ہو گا؟ اب اگر ہم رجوع کرنا چاہیں تو اس کی کیا جائز صورت ہو سکتی ہے؟ حیض کی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں آپ کی زوجہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور وہ بائنہ مغلظہ ہو کر آپ پر حرام ہو گئی ہے، یہ خیال رہے کہ حیض کی حالت میں طلاق دینا حرام ہے، لیکن حیض کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ شوہر اس حالت میں طلاق دینے کی وجہ سے گناہ گار ہوتا ہے، لہذا اب آپ دونوں کے لیے بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ اکٹھے رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ نیز ایک سے زیادہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں اکٹھی دینا گناہ ہے، جس کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے، آپ پر اس گناہ سے توبہ لازم ہے۔
اب آپ کی زوجہ آپ کی عدت پوری کرنے کے بعد جہاں چاہے، نکاح کی شرائط کو سامنے رکھ کر کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کے فیصلہ کے مطابق شوہر کو نکاح کے ساتھ یا بلا نکاح رجوع کرنے کا اختیار فقط دو طلاق تک حاصل ہوتاہے، اگر تین طلاقیں دیدی جائیں، تو اب عورت اس سابق شوہر کے لئے بغیر حلالہ شرعیہ ہرگز حلال نہیں رہتی، پہلے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد وہ آزاد ہے، جس سے چاہے نکاح کے دیگر احکام و شرائط کو سامنے رکھ کر نکاح کرسکتی ہے، اور یہ نکاح عورت کی رضامندی سے ہوگا، اسے مجبور نہیں کرسکتے۔ اب اگر عورت دوسری جگہ نکاح کرلیتی ہے، تو دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا زندگی گزارنا میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہے، لیکن اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات (یعنی نکاح صحیح کے بعد جماع جس میں وطی بھی ضروری ہے) قائم ہونے کے بعد اگر اس سے بھی طلاق ہو جائے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے، تواس کی عدت طلاق یا وفات گزارنے کے بعد یہ عورت اور اس کا سابقہ شوہر آپس میں پھر سے نکاح کرنا چاہیں، تو کر سکتے ہیں، جبکہ انہیں غالب گمان ہو کہ اب دوبارہ شروع ہونے والی ازدواجی زندگی میں اللہ عزوجل کی حدود قائم رکھ سکیں گے اور ایک دوسرے کے حقوق ٹھیک طور پر ادا کر سکیں گے۔
قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴾“ ترجمۂ کنز الایمان: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں، اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، جنہیں بیان کرتا ہے، دانشمندوں کے لیے۔ (پارہ: 2 سورۃ البقرۃ: 2 آیت: 230)
حیض کی حالت میں طلاق دینا منع ہے، لیکن اگر کوئی اس حالت میں طلاق دے تو بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث مبارکہ میں ہے: ”عن ابن عمر رضی اللہ عنھما أنہ طلق إمراءتہ وھی حائض فی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسأل عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ عن ذٰلک فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرہ فلیراجعھا ثم لیترکھا حتی تطھر ثم تحیض ثم تطھر ثم إن شاءا ٔمسک بعد و إن شاء طلق قبل أن یمس“ یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حالتِ حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا کہ ابن عمر کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے، اور روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے۔ پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے۔ اس کے بعد اگر چاہے تو اس کو روک لے اور اگر طلاق دینا چاہے تو طہارت کی حالت میں جماع سے پہلے طلاق دے۔ (صحیح مسلم، جلد 1، ص 475، مطبوعہ کراچی)
اس حدیث پاک کے تحت شارح مسلم علامہ نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”أجمعت الأمۃ علی تحریم طلاق الحائض الحائل بغیر رضاھا فلو طلقھا أثم و وقع طلاقہ و یؤمر بالرجعۃ لحدیث ابن عمرالمذکور فی الباب“ یعنی امت کا اس پر اجماع ہے کہ حالت حیض میں عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اگر کسی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلا ق دی تو طلاق دینے والا گنہگار ہوگا لیکن اس کی طلاق واقع ہو جائے گی اور اس شخص کو رجوع کا حکم دیا جائے گا جیساکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے ثابت ہے۔ (صحیح مسلم مع الشرح للنووی، جلد 1، ص 475، مطبوعہ کراچی)
سیدی اعلی حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے، کہ حکم الٰہی فطلقوھن لعدتھن، مگر دے گا تو ضرور ہو جائے گی اور یہ گناہ گار۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 12، ص 332، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اپنی مدخولہ بیوی کو چاہے ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دی جائیں یا متفرق طور پر، ایک ہی مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجلس میں، لکھ کر دی جائیں یا زبانی، تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ احادیث مبارکہ اور صحابۂ کرام کے اقوال و افعال اور ان کے سامنے پیش ہونے والے مقدمات پر ان کے فیصلوں کی رو سے بھی ایک ہی مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہو جاتی ہیں، چنانچہ حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: ”کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل، فقال: انہ طلق امرأتہ ثلاثا، قال: فسکت، حتی ظننت أنہ رآدھا الیہ، ثم قال ینطلق أحدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یابن عباس! یابن عباس! وان اللہ قال: ”وَ مَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا“ و انک لم تتق اللہ، فلا أجد لک مخرجا، عصیت ربک و بانت منک امرأتک“۔ میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس موجود تھا، تو ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی: میں نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں اکٹھی دے دی ہیں، راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے، تو میں نے خیال کیا کہ شاید حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس شخص کی زوجہ کو اس کی طرف واپس کر دیں گے، پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی شخص زوجہ کو طلاق دیتے وقت حماقت سے کام لیتا ہے، پھر پکارتا ہے، اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دیتا ہے“، اور بے شک تو نے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں کیا، اس لیے میں تیرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا، تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تیری زوجہ تجھ سے بائن ہو گئی ہے۔ (سنن ابو داؤد، ج 1، ص 317، مطبوعہ لاھور)
اسی طرح مصنف عبد الرزاق جلد ص 397 مطبوعہ کراچی اور مؤطا امام مالک میں ہے، واللفظ من المؤطا: ”ان رجلا قال لابن عباس انی طلقت امرأتی مائۃ تطلیقۃ، فما ذا تری علی؟ فقال لہ ابن عباس طلقت منک بثلث و سبع و تسعون اتخذت بھا آیات اللہ ھزوا“ ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کی کہ میں نے اپنی زوجہ کو سو طلاقیں دے دی ہیں، آپ اس کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: تیری بیوی تین طلاقوں سے تجھ پر بائن ہو گئی ہے اور ستانوے طلاقوں سے تو نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا ہے۔ (مؤطا امام مالک، ص 404، مطبوعہ لاھور)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاح صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ“ یعنی اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں اور لونڈی کو دو طلاقیں دیں، تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس عورت سے وطی بھی کرے، پھر اس کو طلاق دے دے یا فوت ہو جائے، ہدایہ میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج، 1 ص 506، مطبوعہ کراچی)
سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں اکٹھی دینے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”ایک بار تین طلاق دینے سے نہ صرف نزدیک حنفیہ بلکہ اجماع مذاہب اربعہ تین طلاقیں مغلظہ ہو جاتی ہیں، امام شافعی، امام مالک، امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہم ائمہ متبوعین سے کوئی امام اس باب میں اصلاً مخالف نہیں، صورت مستفسرہ میں ہندہ (عورت مذکورہ) پر تین طلاقیں ہو گئیں، ایک ساتھ تین طلاقیں دینا گناہ ہے، شوہر گناہگار ہوا اور عورت اس کے نکاح سے ایسی خارج ہوئی کہ اب بے حلالہ ہر گز اس کے نکاح میں نہیں آ سکتی، اگر یونہی رجوع کر لیا، بلا حلالہ نکاح جدید باہم کر لیا، تو دونوں مبتلائے حرام کاری ہوں گے، اور عمر بھر حرام کاری کریں گے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 410، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7660
تاریخ اجراء: 07 ربیع الثانی 1447ھ / 30 ستمبر 2025ء