نشے کی حالت میں طلاق ہوجاتی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
صورت مسئولہ میں آپ کی زوجہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور وہ بائنہ مغلظہ ہو کر آپ پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اب آپ دونوں کے لیے بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ اکٹھے رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ یہ خیال رہے کہ شراب، پاؤڈر، چرس، بھنگ وغیرہ کا نشہ کرنا، نا جائز و حرام ہے اور معصیت ہے، لہذا بلا اکراہ شرعی خودشراب، پاؤڈر، بھنگ، چرس وغیرہ کسی چیز کا نشہ کیا جائے تو اس حالت میں دی ہوئی طلاق بھی زجراً واقع ہو جاتی ہے، اگرچہ اس کی وجہ سے عقل زائل ہو چکی ہو۔
نیز ایک سے زیادہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں اکٹھی دینا گناہ ہے، جس کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے، آپ پر اس گناہ سے توبہ لازم ہے۔
اب آپ کی زوجہ آپ کی عدت پوری کرنے کے بعد اگر چاہے تو نکاح کی شرائط کو سامنے رکھ کر کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کے فیصلہ کے مطابق شوہر کو نکاح کے ساتھ یا بلا نکاح رجوع کرنے کا اختیار فقط دو طلاق تک حاصل ہوتاہے، اگر تین طلاقیں دےدی جائیں، تو اب عورت اس سابق شوہر کےلئے بغیر حلالہ شرعیہ ہرگز حلال نہیں رہتی، پہلے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد وہ آزاد ہے، جس سے چاہے نکاح کے دیگر احکام و شرائط کو سامنے رکھ کر نکاح کرسکتی ہے، اور یہ نکاح عورت کی رضامندی سے ہوگا، اسے مجبور نہیں کرسکتے۔ اب اگر عورت دوسری جگہ نکاح کرلیتی ہے، تودوسرے شوہر کے ساتھ اس کا زندگی گزارنا میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہے ،لیکن اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات( یعنی نکاح صحیح کے بعد جماع جس میں وطی بھی ضروری ہے) قائم ہونے کے بعد اگر اس سے بھی طلاق ہو جائے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے، تو اسکی عدت طلاق یا وفات گزارنے کے بعد یہ عورت اور اس کا سابقہ شوہر آپس میں پھر سے نکاح کرنا چاہیں، تو کر سکتے ہیں، جبکہ انہیں غالب گمان ہو کہ اب دوبارہ شروع ہونے والی ازدواجی زندگی میں اللہ عزوجل کی حدود قائم رکھ سکیں گے اور ایک دوسرے کے حقوق ٹھیک طور پر ادا کر سکیں گے۔
قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ- فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ- وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(230)﴾ترجمۂ کنز الایمان: ”پھر اگر تیسری طلاق اسے دی، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دیدے، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں، اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، جنہیں بیان کرتا ہے، دانشمندوں کے لیے۔“ (پارہ: 2 سورۃ البقرۃ: 2 آیت: 230)
نشے کی حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے، چنانچہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ”و یقع طلاق کل زوج بالغ عاقل و لو عبداً أو مکرھاً أو سکران و لو بنبیذ أو حشیش أو أفیون أو بنج زجراً، بہ یفتی تصحیح القدوری ملخصاً“ ہر عاقل بالغ کی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ غلام ہو، مجبور کیا گیا ہو، نشہ کی حالت میں ہو اگرچہ نشہ نبیذ، خشک گھاس، افیون یا بھنگ کی وجہ سے ہو، نشہ کی حالت میں طلاق دینے سے زجراً طلاق واقع ہوتی ہے، اسی پر فتوی دیا گیا ہے، تصحیح القدوری۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار و الرد المحتار، ج 4، ص 427 تا 433، مطبوعہ پشاور)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نشے والے کی طلاق کے بارے میں فرماتے ہیں: ”طلاق کے لیے شرط یہ ہے کہ شوہر عاقل بالغ ہو، نا بالغ یا مجنون نہ خود طلاق دے سکتا ہے، نہ اس کی طرف سے اس کا ولی ، مگر نشہ والے نے طلاق دی تو واقع ہو جائے گی کہ یہ عاقل کے حکم میں ہے اور نشہ خواہ شراب پینے سے ہو یا بنگ (بھنگ) وغیرہ کسی اور چیز سے،افیون کی پینک میں طلاق دے دی جب بھی واقع ہو جائے گی، طلاق میں عورت کی جانب سے کوئی شرط نہیں نا بالغہ ہو یا مجنونہ، بہر حال طلاق واقع ہو گی۔
کسی نے مجبور کر کے اسے نشہ پلا دیا حالت اضطرار میں پیا (مثلاً پیاس سے مر رہا تھا اور پانی نہ تھا) اور نشہ میں طلاق دے دی تو صحیح یہ ہے کہ واقع نہ ہو گی۔“ (بھار شریعت، ج 2، حصہ 8، ص 111، 112، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
احادیث مبارکہ اور صحابۂ کرام کے اقوال و افعال اور ان کے سامنے پیش ہونے والے مقدمات پر ان کے فیصلوں کی رو سے بھی ایک ہی مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہو جاتی ہیں، چنانچہ حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: ”کنت عند ابن عباس فجاءہ رجل، فقال: انہ طلق امرأتہ ثلاثا، قال: فسکت، حتی ظننت أنہ رآدھا الیہ، ثم قال ینطلق أحدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یابن عباس! یابن عباس! و ان اللہ قال: ﴿وَ مَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا﴾ و انک لم تتق اللہ، فلا أجد لک مخرجا، عصیت ربک و بانت منک امرأتک“ میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس موجود تھا، تو ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی: میں نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں اکٹھی دے دی ہیں، راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے، تو میں نے خیال کیا کہ شاید حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس شخص کی زوجہ کو اس کی طرف واپس کر دیں گے،پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی شخص زوجہ کو طلاق دیتے وقت حماقت سے کام لیتا ہے، پھر پکارتا ہے، اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دیتا ہے“، اور بے شک تو نے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں کیا، اس لیے میں تیرے لیے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا، تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تیری زوجہ تجھ سے بائن ہو گئی ہے۔ (سنن ابو داؤد ج 1 ص 317، مطبوعہ لاھور)
اسی طرح مصنف عبد الرزاق جلد ص 397 مطبوعہ کراچی اور مؤطا امام مالک میں ہے، و اللفظ من المؤطا: ”ان رجلا قال لابن عباس انی طلقت امرأتی مائۃ تطلیقۃ، فما ذا تری علی؟ فقال لہ ابن عباس طلقت منک بثلث و سبع و تسعون اتخذت بھا آیات اللہ ھزوا“ ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کی کہ میں نے اپنی زوجہ کو سو طلاقیں دے دی ہیں، آپ اس کے بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: تیری بیوی تین طلاقوں سے تجھ پر بائن ہو گئی ہے اور ستانوے طلاقوں سے تو نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے ٹھٹھا کیا ہے۔ (مؤطا امام مالک ص 404، مطبوعہ لاھور)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاح صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ“ یعنی اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں او رلونڈی کو دو طلاقیں دیں، تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس عورت سے وطی بھی کرے، پھر اس کو طلاق دے دے یا فوت ہو جائے، ہدایہ میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 1، ص 506، مطبوعہ کراچی)
سیدی اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں اکٹھی دینے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”ایک بار تین طلاق دینے سے نہ صرف نزدحنفیہ بلکہ اجماع مذاہب اربعہ تین طلاقیں مغلظہ ہو جاتی ہیں، امام شافعی، امام مالک، امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہم ائمہ متبوعین سے کوئی امام اس باب میں اصلاً مخالف نہیں، صورت مستفسرہ میں ہندہ (عورت مذکورہ) پر تین طلاقیں ہو گئیں، ایک ساتھ تین طلاقیں دینا گناہ ہے، شوہر گناہگار ہوا اور عورت اس کے نکاح سے ایسی خارج ہوئی کہ اب بے حلالہ ہر گز اس کے نکاح میں نہیں آسکتی، اگر یونہی رجوع کر لیا، بلا حلالہ نکاح جدید کر لیا، تو دونوں مبتلائے حرام کاری ہوں گے، اور عمر بھر حرام کاری کریں گے۔“ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 410، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-7236
تاریخ اجراء: 04 ذو الحجۃ الحرام 1444ھ / 23 جون 2023ء