کیا نابالغ کی طلاق ہوجاتی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
نابالغ کی طلاق کا کیا حکم ہے
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
طلاق دینے کیلئے مرد کا عاقل اور بالغ ہونا شرط ہے، نابالغ یونہی مراہق یعنی قریب البلوغ لڑکے کی دی ہوئی طلاق شرعی طور پر واقع نہیں ہوتی۔
نابالغ مرفوع القلم ہے، اسی بناء پر اس کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی،چنانچہ سنن ابو داؤد، مشکوۃالمصابیح، مسند احمد اور دیگر کئی کتبِ حدیث میں ہے: و اللفظ للاول: ”أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: رفع القلم عن ثلاثة، عن الصبي حتى يبلغ، و عن النائم حتى يستيقظ، و عن المعتوه حتى يبرأ“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تین اشخاص سے قلم اٹھا لیا گیا ہے،بچے سے حتی کہ وہ بالغ ہوجائے، سونے والے سے حتی کہ وہ جاگ جائے اور دیوانے سے حتی کہ وہ عقلمند ہوجائے۔ (سنن ابو داؤد، جلد 4، صفحہ 140، حدیث: 4402، بیروت)
اس حدیث پاک کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ مراۃ المناجیح میں لکھتے ہیں: ”حدیث کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ بچہ سوتا ہوا آدمی اور دیوانہ مرفوع القلم ہیں ان پر شرعی احکام جاری نہیں لہذا اگر یہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں تو واقع نہ ہوگی۔ اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ بچہ کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔“ (مرأۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 117، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
درمختار میں ہے: ”و أهله زوج عاقل بالغ مستيقظ“ ترجمہ: طلاق کا اہل شوہر، عاقل، بالغ، جاگا ہوا شخص ہے۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے: ”احترز بالزوج عن سيد العبد و والده الصغير ۔ ۔ و بالبالغ عن الصبي و لو مراهقا“ ترجمہ: مصنف علیہ الرحمۃ نے شوہر سے غلام کے آقا اور چھوٹے بچے کے والد سے احتراز کیا ہے اور بالغ سے نابالغ بچہ اگرچہ مراہق ہو اس سے احتراز کیا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 4، صفحہ 419، مطبوعہ کوئٹہ)
اسی میں اور مقام پر ہے: ”(لا يقع طلاق المولى على امرأة عبده ۔ ۔ و الصبي) و لو مراهقا“ ترجمہ: آقا کی اپنے غلام کی بیوی پر دی ہوئی طلاق واقع نہ ہوگی، یونہی نابالغ اگرچہ مراہق ہو، اس کی بھی طلاق واقع نہیں۔ (الدر المختار مع الرد، جلد 4، صفحہ 438، مطبوعہ کوئٹہ)
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: ”طلاق کے ليے شرط یہ ہے کہ شوہر عاقل بالغ ہو، نا بالغ یا مجنون نہ خود طلاق دے سکتا ہے، نہ اُس کی طرف سے اُس کا ولی۔“ (بھار شریعت، جلد 02، صفحہ 111، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: 7610-Har
تاریخ اجراء: 27 ربیع الاول 1448ھ / 10 ستمبر 2026ء