حمل میں طلاق دینے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حمل میں طلاق ہوجائے گی ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری شادی اپریل 2023ء میں ہوئی تھی، ہمارا ایک بیٹا ہے، آج سے چند ماہ قبل میں نے ایک جھگڑے کے دوران زوجہ کو ایک مرتبہ یہ کہا تھا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، پھر اسی دن رجوع کر لیا تھا اور دونوں میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہنا شروع ہو گئے تھے، پھر اب سے دو ماہ قبل لڑائی کے دوران میں نے زوجہ کو تین مرتبہ یہ الفاظ کہہ کر تینوں طلاقیں اکٹھی دے دیں کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ اس کے بعد میں نے طلاق ثلاثہ کا پیپر بھی تیار کروایا ہے، اس میں دستخط بھی کر دیے ہیں، یہ سب واقعات حمل کے دوران ہوئے ہیں۔ اب آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں ارشاد فرمائیں کہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ نیز حمل کے دوران طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اب ہمارے لیے دوبارہ اکٹھے رہنے کی کوئی جائز صورت ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں آپ کی زوجہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور وہ بائنہ مغلظہ ہو کر آپ پر حرام ہو گئی ہے، اب آپ دونوں کے لیے بغیر حلالۂ شرعی کے دوبارہ اکٹھے رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ چند ماہ قبل جب آپ نے زوجہ کو ایک مرتبہ یہ الفاظ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ کہے تو اس کی وجہ سے اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی، پھر عدت کے اندر آپ کے پاس رجوع کا اختیار تھا، آپ نے اسی دن رجوع کر لیا تو آپ کے لیے میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہنا درست تھا، پھر دو ماہ قبل جب آپ نے زوجہ کو تین مرتبہ کہہ دیا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تو اس کی وجہ سے دو مزید طلاقیں واقع ہو گئیں، اور پہلی طلاق سے مل کر تینوں طلاقیں مکمل ہوگئیں، اور ان میں سے ایک طلاق اور بعد میں اسٹام پیپر کے ذریعے دی گئی تینوں طلاقیں لغو ہو گئیں، کیونکہ تین طلاقوں کے بعد زوجہ مزید طلاق کا محل نہیں رہتی۔
یہ خیال رہے کہ حمل کی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، حمل طلاق کے واقع ہونے سے مانع نہیں ہے، نیز ایک سے زیادہ طلاقیں ایک ہی مجلس میں اکٹھی دینا گناہ ہے، جس کی وجہ سے آپ گناہ گار ہوئے، آپ پر اس گناہ سے توبہ لازم ہے۔
اب آپ کی زوجہ آپ کی عدت پوری کرنے کے بعد جہاں چاہے، نکاح کی شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے نکاح کر سکتی ہے، کیونکہ قرآن و حدیث کے فیصلہ کے مطابق شوہر کو نکاح کے ساتھ یا بلا نکاح رجوع کرنے کا اختیار فقط دو طلاق تک حاصل ہوتا ہے، اگر تین طلاقیں دیدی جائیں تو اب عورت اس سابق شوہر کے لئے بغیر حلالہ ٔشرعیہ ہرگز حلال نہیں رہتی، پہلے شوہر کی عدت گزارنے کے بعد وہ آزاد ہے، جس سے چاہے، نکاح کے دیگر احکام و شرائط کو سامنے رکھ کر نکاح کرسکتی ہے اور یہ نکاح عورت کی رضامندی سے ہوگا، اسے مجبور نہیں کرسکتے۔ اب اگر عورت دوسری جگہ نکاح کرلیتی ہے تودوسرے شوہر کے ساتھ اس کا زندگی گزارنا میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہے، لیکن اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلقات (یعنی نکاح صحیح کے بعد جماع جس میں وطی بھی ضروری ہے، انزال شرط نہیں) قائم ہونے کے بعد اگر اس سے بھی طلاق ہو جائے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے تواسکی عدت طلاق یا وفات گزارنے کے بعد یہ عورت اور اس کا سابقہ شوہر آپس میں پھر سے نکاح کرنا چاہیں، تو کر سکتے ہیں، جبکہ انہیں غالب گمان ہو کہ اب دوبارہ شروع ہونے والی ازدواجی زندگی میں اللہ عزوجل کی حدود قائم رکھ سکیں گے اور ایک دوسرے کے حقوق ٹھیک طور پر ادا کر سکیں گے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: ”﴿ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴾“ ترجمۂ کنز الایمان :پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے خاوندکے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں، اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، جنہیں بیان کرتا ہے، دانشمندوں کے لیے۔ (پارہ: 2، سورۃ بقرۃ :2، آیت :230)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”جب طلاقیں تین تک پہنچ جائیں، پھر وہ عورت اس کے لیے بے حلالہ کسی طرح حلال نہیں ہو سکتی، قال اللہ تعالٰی ”﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ﴾“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، ص 389، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاح صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ“ یعنی اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں اور لونڈی کو دو طلاقیں دیں تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس عورت سے وطی بھی کرے پھر اس کو طلاق دے دے یا فوت ہو جائے، ہدایہ میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 1، ص 506، مطبوعہ کراچی)
حمل کی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے: ”طلاق حامل یجوز عقیب الجماع لأنہ لا یؤدی إلی إشتباہ وجہ العدۃ، و یطلقھا للسنۃ ثلاثاً یفصل بین کل تطلیقتین بشھر عن أبی حنیفۃ و أبی یوسف“ یعنی حاملہ عورت کو جماع کے بعد طلاق دینا جائز ہے کیونکہ یہ عدت میں اشتباہ پیدا نہیں کرتا، اور حاملہ عورت کو سنت کے مطابق تین طلاقیں اس طرح دے کہ ہر دو طلاقوں کے درمیان ایک مہینے کا فاصلہ ہو ، یہ مسئلہ شیخین کے نزدیک ہے۔ (ھدایہ مع البنایہ، جلد 5، ص 16، مطبوعہ کوئٹہ)
سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”عورت کو حمل ہونا مانع ِوقوع ِطلاق نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 12، صفحہ 375، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7636
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1447ھ / 27 اگست 2025ء