وضو میں کہنی پر گلو لگا رہ جائے تو پڑھی گئی نماز کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وضو میں کہنی پر گلو لگا رہ گیا اور نماز پڑھنے کے بعد پتہ چلا تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ وضو کرتے ہوئے پتہ نہ چلا اور کہنی پر تھوڑا سا گلو (Glue) لگا رہ گیا اور نماز پڑھ لی تو کیا نماز ہو گئی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
جواب
وضو میں دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا فرض ہے، لہذا اگر ان کا کوئی حصہ بال برابر بھی بلا عذر دھلنے سے رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا۔ چونکہ گلو (Glue) ایک جرم دار چیز ہے جو جلد پر تہہ جما دیتی ہے جس سے پانی نیچے جلد تک نہیں پہنچ پاتا، اس لیے عام حالات میں اگر کہنی پر گلو لگا رہ گیا اور اس کے نیچے پانی نہ پہنچا تو وضو نہیں ہوگا، جس کی وجہ سے نماز بھی نہیں ہوگی، لہذا جب اس کا علم ہو جائے تو حکم ہوگا کہ حتی المقدور گلو کو چھڑا کر اس جگہ پانی پہنچائیں یا اسے ہٹا کر نیا وضو کریں، پھر نئے سرے سے نماز ادا کریں۔
تاہم جن لوگوں کو پیشے یا ضرورت کے تحت گلو کا مسلسل استعمال کرنا پڑتا ہے، جیسے اسٹوڈنٹس یا بائنڈنگ کرنے والے یا فرنیچر ساز وغیرہ، اور ان کا ہر وقت گلو سے احتیاط کرنا اور اس کی نگہداشت کرتے رہنا باعث حرج ہے، تو لاعلمی میں اعضائے وضو پر اس کے لگے رہ جانے کی صورت میں دفع حرج کے پیش نظر رخصت ہوگی یعنی ان کا وضو اور اس سے پڑھی گئی نماز ہو جائے گی، جیسا کہ آٹا گوندھنے والوں کے لیے آٹا، لکھنے والوں کے لیے سیاہی کا جرم اور عورتوں کے لیے مہندی کا جرم وغیرہ ضرورت کی چیزوں کا حکم ہے۔ تاہم جب انہیں گلو کے لگے ہونے کا علم ہو جائے اور اسے ہٹانے میں کوئی ضرر یا تکلیف نہ ہو تو اسے زائل کر کے اس جگہ پانی پہنچانا ضروری ہوگا، ورنہ بعد کی نمازیں نہیں ہوں گی؛ کیونکہ رخصت محض نگہداشت میں حرج کے باعث تھی لیکن جب اس چیز کا لگا ہونا معلوم ہو گیا اور اسے چھڑانے میں کوئی نقصان بھی نہیں تو رخصت کی کوئی وجہ نہ رہی۔
واضح رہے کہ خواہ عام شخص ہو یا مذکورہ طبقے سے تعلق رکھنے والا، بہر صورت گلو کا لگا ہونا معلوم ہو جانے کے بعد اگر اسے چھڑانے میں ضرر ہو کہ زخم ہو جانے یا جلد کو نقصان پہنچنے کا صحیح اندیشہ ہے تو جس قدر ممکن ہو اسے چھڑا لینا کافی ہوگا، بقیہ معاف ہے۔
علامہ قوام الدین محمد بن محمد الکاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 749ھ/1348ء) لکھتے ہیں: ”لو بقي من موضع الغسل قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس لم يجزئه“ ترجمہ: اگر دھونے کی جگہ میں سے سوئی کے سرے کے برابر (بھی کوئی حصہ دھلنے سے) رہ جائے یا وضو کرنے والے کے ناخن کی جڑ میں خشک گارا چپکا ہوا ہو تو اس کا وضو نہیں ہوگا۔ (معراج الدراية في شرح الهداية، كتاب الطهارات، جلد 1، صفحہ 64، دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”والحرج مدفوع بالنص وعلى ذلك مدار عامة أحكام الشرع“ ترجمہ: نص سے (ثابت ہے کہ شریعت میں) حرج دور کیا گیا ہے اور اسی پر شریعت کے عام احکام کا مدار ہے۔ (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، کتاب الوصايا، جلد 2، صفحہ 505، دار الكتب العلمية، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”جس چیز کی آدمی کو عموماً یا خصوصاً ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کے ملاحظہ و احتیاط میں حرج ہے، اس کا ناخنوں کے اندر یا اوپر یا اور کہیں لگا رہ جانا اگرچہ جرم دار ہو اگرچہ پانی اس کے نیچے نہ پہنچ سکے، جیسے پکانے گوندھنے والوں کے لیے آٹا، رنگریز کے لیے رنگ کا جرم، عورات کے لیے مہندی کا جرم، کاتب کے لیے روشنائی، مزدور کے لیے گارا مٹی، عام لوگوں کے لیے کوئے یا پلک میں سرمہ کا جرم، بدن کا میل مٹی غبار، مکھی مچھر کی بیٹ وغیرہا، کہ ان کا رہ جانا فرض اعتقادی کی ادا کو مانع نہیں (یعنی ان کے باوجود وضو کا فرض ادا ہو جائے گا) ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 269، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”تحقیق یہ ہے کہ مدارِ کار ضرورت و حرج عام یا خاص پر ہے، اگر حرج نہیں طہارت نہ ہوگی، اگرچہ پانی سرایت کرے کہ مجرد تری پہنچنا کافی نہیں، بہنا شرط ہے اور وہ قطعاً گارے وغیرہ جرم دار چیزوں میں بھی نہ ہوگا، جب تک ان کا جرم زائل نہ ہو تو نرمی و سختی کا فرق بیکار ہے، اور حرج و ضرورت ہو اور طہارت کر لی اور ایسی چیز لگی رہ گئی اور نماز پڑھ لی تو معافی ہے، اگرچہ سخت و مانع نفوذ ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 290-291، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”ويعلم منه حكم المداد على ظفر الكاتب فإنه يضع القلم على ظفر إبهامه اليسرى ويغمزه لينفتح فيصيب ظفره جرم من المداد وربما ينسى فيتوضأ ويمرّ الماء فوق المداد ولا يزيله فمفاد ما هنا هو الجواز ورأيت التنصيص به في حاشية العشماوية من كتب السادة المالكية حيث قال: تجب إزالة ما تمنع من وصول الماء كعجين وشمع وأثر سواك كطيب ودهن متجسد وكذلك الحبر المتجسد لغير كاتبه ونحوه كبائعه وصانعه وأما الكاتب ونحوه إن رآه بعد أن صلّى فلا يضر إذا مر يده على المداد لعسرِ الاحتراز منه لا إن رآه قبل الصلاة وأمكنه إزالته اهـ. وهو كله واضح موافق لقواعدنا إلا قوله: إذا مر يده، فإنما شرطه لأن الدلك فرض عندهم وأما على مذهبنا فيقال: إذا مر الماء على المداد. والذي ذكره هو عين ما كنت بحثته في فتاواي أن الذي لا حرج في إزالته بل في تعاهده إذا اطلع عليه يجب إزالته ولا يجوز تركه كالحناء والكحل والونيم ونحوها“
ترجمہ:اور اس سے لکھنے والے کے ناخن پر سیاہی کا حکم معلوم ہو جاتا ہے؛ کیونکہ وہ قلم کو اپنے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن پر رکھ کر دباتا ہے تاکہ قلم کا شگاف کھل جائے، پس اس کے ناخن پر سیاہی کا جرم لگ جاتا ہے اور بسا اوقات وہ بھول کر وضو کر لیتا ہے اور پانی سیاہی کے اوپر سے گزر جاتا ہے درحالیکہ وہ اسے زائل نہیں کرتا تو یہاں جو کلام ہے اس کا مفاد اس کے وضو کا جائز ہونا ہے۔ میں نے مالکیہ حضرات کی کتب میں سے حاشیۂ عشماویہ میں اس کی صراحت دیکھی، جہاں فرمایا کہ ہر اس چیز کو دور کرنا واجب ہے جو (اعضائے وضو کی سطح تک) پانی کے پہنچنے سے مانع ہو، جیسے گوندھا ہوا آٹا، موم، مسواک کا باقی حصہ (ریشے)، جرم دار تیل اور خوشبو، اور اسی طرح جرم دار سیاہی، اس کے لیے جو اس کے ساتھ لکھنے والا نہ ہو اور اسی کی مانند جیسے سیاہی بیچنے اور بنانے والا۔ چنانچہ لکھنے والا اور اس کی مانند شخص اگر وہ نماز پڑھ لینے کے بعد سیاہی لگی دیکھے تو مضر نہیں، بشرطیکہ سیاہی پر اس کا ہاتھ پھر گیا ہو؛ اس لیے کہ اس سے بچنا دشوار ہے، (لیکن) اگر نماز سے پہلے اسے دیکھ لے اور اسے دور کرنا ممکن ہو تو پھر (یہ رخصت والا حکم) نہیں۔ یہ سب باتیں واضح اور ہمارے قواعد کے مطابق ہیں، سوائے ان کے قول "بشرطیکہ سیاہی پر اس کا ہاتھ پھر گیا ہو" کے؛ کیونکہ انہوں نے یہ شرط اس لیے لگائی کہ مالکیہ حضرات کے نزدیک دلک (ہاتھ پھیرنا) فرض ہے، جبکہ ہمارے مذہب کی رو سے یوں کہا جائے گا: "بشرطیکہ پانی سیاہی پر گزر گیا ہو۔" اور جو بات انہوں نے ذکر کی، وہ بعینہٖ وہی ہے جس کی میں نے اپنے فتاوی میں تحقیق کی ہے، کہ جس چیز کو دور کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس کی نگہداشت میں حرج ہے، جب ایسی چیز پر اطلاع ہو جائے تو اسے دور کرنا واجب ہے اور اسے چھوڑ دینا جائز نہیں، جیسے مہندی، سرمہ، بیٹ اور ان جیسی دوسری چیزیں۔ (جد الممتار، کتاب الطهارة، ابحاث الغسل، جلد 1، صفحہ 455، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”أقول و باللہ التوفیق، حرج کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ وہاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو جیسے آنکھ کے اندر، دوم مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی، سوم بعد علم و اطلاع کوئی ضرر و مشقت تو نہیں مگر اس کی نگہداشت، اُس کی دیکھ بھال میں دقت ہے، جیسے مکھی مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا گرہ کھایا ہوا بال۔ قسم اول و دوم کی معافی تو ظاہر، اور قسم سوم میں بعد اطلاع ازالۂ مانع ضرور ہے، مثلاً جہاں مذکورہ صورتوں میں مہندی، سرمہ، آٹا، روشنائی، رنگ، بیٹ وغیرہ سے کوئی چیز جمی ہوئی دیکھ پائی تو اب یہ نہ ہو کہ اسے یوں ہی رہنے دے اور پانی اوپر سے بہا دے، بلکہ چھڑا لے؛ کہ آخر ازالہ میں تو کوئی حرج تھا ہی نہیں، تعاہد میں تھا، بعد اطلاع اس کی حاجت نہ رہی، و من المعلوم ان ماکان لضرورة تقدر بقدرھا (یعنی اور یہ بات معلوم ہے کہ جو حکم ضرورت کی وجہ سے ہو، وہ بقدرِ ضرورت ہی رہتا ہے) ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 610-611، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ/1562ء) مسلمہ قاعدہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”الضرر يزال“ ترجمہ: ضرر کو دور کیا جاتا ہے۔ (الأشباه والنظائر، الفن الأول القواعد الكلية، القاعدة الخامسة، صفحہ 72، دار الكتب العلمية، بيروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”ضرر مدفوع ہے، قال عزوجل: ﴿مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ﴾ (اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:) تم پر دین میں کوئی تنگی نہ رکھی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لاضرر ولا ضرار" رواہ ابن ماجۃ عن عبادۃ واحمد عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنهم بسند حسن، نہ ضرر لو نہ ضرر دو۔ (ابن ماجہ نے اس کو حضرت عبادہ سے روایت کیا اور امام احمد نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ت) ... المشقۃ تجلب التیسیر، مشقت آسانی لاتی ہے۔ اور اسی کے معنی میں ہے: ما ضاق امر الا اتسع (کوئی معاملہ تنگ نہیں ہوا مگر اس میں کشادگی رکھی گئی۔ ت) ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 203-204، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1266
تاریخ اجراء: 29 محرم الحرام 1448ھ/15 جولائی 2026ء