logo logo
AI Search

تہہ والی مہندی لگانے سے وضو اور غسل ہوجائیگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بالوں میں جِرم والی مہندی لگانا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بالوں میں جرم والی مہندی لگانا کیسا؟

جواب

سر اور داڑھی کے بالوں کو سیاہ یا مائل بہ سیاہ مہندی کے علاوہ کسی اور رنگ سے رنگنا جائز ہے (البتہ مجاہد کو حالتِ جہاد میں سیاہ اور مائل بہ سیاہ خضاب لگانے کی بھی اجازت ہے)۔ اب ایسی مہندی جسے دھونے کے بعد اس کی تہہ مکمل طور پر اتر جائے اور بالوں پر فقط رنگ باقی رہ جائے، اس کا استعمال بلاشبہ درست ہے، جبکہ ناپاک چیز کی آمیزش سے پاک ہو، کہ بغیر تہہ والی مہندی لگانے سے وضو و غسل میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ لیکن ایسی مہندی جسے دھونے کے بعد بھی بالوں پر تہہ باقی رہ جائے اور اس کا جرم بالوں تک پانی اور تری پہنچنے سے مانع ہو، اس کا حکم یہ ہے کہ (پاک اجزاء پر مشتمل) ایسی مہندی لگانا فی نفسہ تو جائز ہے، لیکن بالوں تک پانی پہنچنے سے مانع ہونے کی وجہ سے مکلف (عاقل بالغ) کے لئے وضو و غسل کے وقت جرم اتارنا ہوگا، ورنہ وضو میں سر کا مسح اور غسل میں بال نہیں دھلیں گے اور اس بناء پر وضو و غسل نہیں ہو گا، جبکہ اسے اتارنا ممکن ہو اور اگر اتارنا ممکن نہ ہو یا اس میں شدید حرج واقع ہو رہا ہو، تو حرج کی وجہ سے اتارے بغیر وضو و غسل تو ہو جائے گا، لیکن اپنے قصد (ارادے) سے ایسی حالت پیدا کرنا، ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ خود سے ایسی حالت اپنانا جو وضو و غسل اور فرض یا واجب عبادات کو اپنی شرائط کے ساتھ پورا کرنے میں رکاوٹ بنے گناہ ہے، جیسا کہ منہ سے بدبو کا آنا ترکِ جماعت کے لئے عذر ہے، لیکن جماعت کے قریب وقت میں قصداً ایسی چیز کھانا، ناجائز و گناہ ہے، جس سے منہ بدبودار ہوجائے۔

وضو و غسل کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِؕ- وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْاؕ-﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو !جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو، تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو، تو خوب ستھرے ہو لو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت 6)

غسل میں تمام ظاہر بدن کو (سر اور داڑھی کے بالوں سمیت) دھونا فرض ہے، جبکہ بغیر حرج دھونا ممکن ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ان تحت کل شعرۃ جنابۃ، فاغسلوا الشعرۃ و انقوا البشرۃ‘‘ ترجمہ: ہر بال کے نیچے جنابت ہے تو بال دھوؤ اور جلد کو صاف کرو۔ (سنن ابن ماجہ، صفحہ 44، مطبوعہ کراچی)

در مختار میں ہے: (و يجب) اي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة كاذن و (سرة و شارب و حاجب و لحية) و شعر راس ۔ ۔ الخ‘‘ ترجمہ: غسل میں بدن کا ہر وہ حصہ ایک بار دھونا فرض ہے جسے بلا حرج دھونا ممکن ہو، جیسے کان، ناف، مونچھیں، ابرو، داڑھی اور سر کے بال۔ (درمختار، کتاب الطہارۃ، جلد 1، صفحہ 285، مطبوعہ ملتان)

فتاوی رضویہ میں ہے: سر کے بالوں سے تلووں سے نیچے تک جسم کے ہر پرزے، رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا تقاطر کے ساتھ بہہ جانا سوا اس موضع یا حالت کے جس میں حرج ہو (فرض ہے) ۔ ۔ ۔ جب تک ایک ایک ذرے پر پانی بہتا ہوا نہ گزرے گا غسل ہر گز ادا نہ ہوگا۔ (ملتقطا از فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحہ 596 تا 597، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وضو میں کم از کم چوتھائی سر کے بالوں کا مسح کرنا فرض ہے۔ ہدایہ شریف میں ہے: ففرض الطهارة غسل الأعضاء الثلاثة ومسح الرأس و المفروض في مسح الرأس مقدار الناصية و هو ربع الرأس‘‘ ترجمہ: وضو کے فرائض میں تین اعضاء کو دھونا اور سر کا مسح کرنا ہے اور مسح کرنے میں پیشانی کی مقدار فرض ہے اور وہ چوتھائی سر ہے۔ (ہدایہ، کتاب الطہارۃ، جلد 1، صفحہ 15، مطبوعہ بیروت)

مسح کی وضاحت فتاوی رضویہ میں کچھ یوں ہے: مسح کی نم سر کی کھال یا خاص سر پر جو بال ہیں (نہ کہ سرسے نیچے لٹکے ہیں) ان پر پہنچنا فرض ہے عمامے دوپٹے وغیرہ پر مسح ہر گز کافی نہیں مگر جبکہ کپڑا اتنا باریک اور نم اتنی کثیر ہو کہ کپڑے سے پھوٹ کر سر یا بالوں کی مقدار شرعی پر پہنچ جائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 01، صفحہ 285، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

جرم دار مہندی کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: و الخضاب اذا تجسد و یبس یمنع تمام الوضوء و الغسل کذا فی السراج الوھاج‘‘ ترجمہ: خضاب جب جرم دار ہو اور خشک ہو جائے تو وضو اور غسل کی تمامیت سے مانع ہے یعنی اس کی وجہ سے وضو اور غسل تام نہیں ہو گا، السراج الوھاج میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 6، مطبوعہ کراچی)

فتاوی خلیلیہ میں ہے: زیبائش و آرائش کی خواہ کوئی چیز ہو، اگر جرم دار ہو کہ اس کے استعمال سے ایک معمولی تہ جسم پر جم جاتی ہے، تو اس کے چھڑائے بغیر نہ وضو درست، نہ غسل روا اور ایسے وضو غسل سے نماز بھی ادا نہ ہوگی۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد 3، صفحہ 235، مطبوعہ لاہور)

کسی معاملے میں حرج ہو، تو اسے دور کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: تم پر دین میں کوئی تنگی (حرج) نہ رکھی۔ (پارہ 17، سورۃ الحج، آیت 78)

کشف الاسرار شرح اصول البزدوی میں ہے: ان اللہ تعالیٰ کما لم یکلف بما لیس فی الوسع لم یکلف بما فیہ الحرج“ ترجمہ: بیشک جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا مکلف نہیں بنایا کہ جس کی طاقت نہ ہو، اسی طرح جس میں حرج ہو، اس کا مکلف بھی نہیں بنایا۔ (کشف الاسرار، جلد 4، صفحہ 30، مطبوعہ بیروت)

اپنے قصد سے فرض، واجب عبادات کو اپنی شرائط کے ساتھ پورا کرنے سے مانع حالت پیدا کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ان اکل ھذہ الاشیاء عذر فی التخلف عن الجماعة ۔ ۔ اقول: کونہ یعذر بذلک ینبغی تقییدہ بما اذا اکل ذلک بعذر او اکل ناسیا قرب دخول وقت الصلاة لئلایکون مباشرا لما یقطعہ عن الجماعة بصنعہ“ ترجمہ: ان اشیاء (لہسن یا پیاز وغیرہ) کا کھانا ترکِ جماعت کا عذر ہے۔ ۔ میں کہتا ہوں: اس عذر کو اس قید کے ساتھ مقید کرنا ضروری ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب وہ کسی عذر سے یا نماز کا وقت داخل ہونے کے قریب بھول کر یہ چیزیں کھالے (تو اس کے لیے ترکِ جماعت کا عذر ہے) تاکہ اپنے فعل سے ترک جماعت کا مرتکب نہ بنے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 526، مطبوعہ پشاور)

فتاوی رضویہ میں ہے: رائحہ کریہہ کے ساتھ مسجد میں جانا، جائز نہیں۔ ۔ جو حقہ ایسا کثیف و بے اہتمام ہو کہ معاذ اللہ تغیرِ باقی پیدا کرے کہ وقتِ جماعت تک کلی سے بھی بکلی زائل نہ ہو، تو قربِ جماعت میں اس کا پینا شرعاً ناجائز کہ اب وہ ترکِ جماعت و ترکِ سجدہ یا بدبو کے ساتھ دخولِ مسجد کا موجب ہو گا اور یہ ممنوع و ناجائز ہیں اور ہر مباح فی نفسہ ٖ کہ امرِ ممنوع کی طرف مؤدی ہو، ممنوع و ناروا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 94، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7143
تاریخ اجراء: 21 جمادی الثانی 1444ھ / 14 جنوری 2023ء