کپڑے سے خشک منی کھرچنے کے بعد گیلا ہونے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کپڑے پر سے خشک منی کھرچ دی، پھر وہ کپڑا گیلا ہوگیا، تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
منی کپڑوں پر لگنے کے بعد سوکھ گئی، سوکھنے کے بعد اس کو کھرچ کر صاف کردیا، اس کے بعد اگر پانی لگنے سے وہ کپڑا گیلا ہوگیا، تو کیا ناپاک کہلائے گا؟
جواب
خشک منی کو کپڑے یا بدن سے کھرچ کر پاک کر دیا، اب اس جگہ پانی لگا اور وہ جگہ گیلی ہوگئی، تو اس سے دوبارہ وہ جگہ ناپاک نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ نجس کپڑے سے نجاست کو کُھرچ دینے سے پاکی حاصل ہونے کا حکم صرف خشک منی کے ساتھ خاص ہے، منی کے علاوہ دیگر نجاستیں (مذی، پیشاب، پاخانہ وغیرہ) خشک ہوجائیں تب بھی انہیں کھرچ دینے سے پاکی حاصل نہیں ہوگی۔
علامہ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: أن المختار عدم نجاسة الثوب من المنی إذا أصابه الماء بعد الفرك“ ترجمہ: منی سے آلودہ کپڑے کو جب کھرچنے (سے پاک کر لینے) کے بعد پانی لگا، تو مختار قول یہ ہے کہ وہ پھر ناپاک نہیں ہوگا۔ (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 393، مطبوعہ کوئٹہ)
ایسے ہی صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں: جو چیز سُوکھنے یا رَگَڑْنے وغیرہ سے پاک ہو گئی، اس کے بعد بھیگ گئی ، تو ناپاک نہ ہوگی۔ ( بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 402، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2501
تاریخ اجراء: 12 ربیع الآخر 1447ھ / 06 اکتوبر 2025ء